حقیقت پسندانہ فیصلہ

حقیقت پسندانہ فیصلہ
حقیقت پسندانہ فیصلہ

  

یمن میں کشیدگی، بغاوت، خانہ جنگی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد (جسے بعض حلقے ’’فرقہ ورانہ‘‘ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں) کے مسئلے پر سعودی فرمانروا کی درخواست پر پاکستان کی طرف سے جو موقف اپنایا گیا وہ بہترین قومی مفاد میں ہے اور خطے پربھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔سعودی عرب کے شاہ سلمان چاہتے تھے کہ یمن میں ’’متحد عرب لیگ‘‘ کی طرف سے جو جنگ شروع کی گئی ہے پاکستان بھی اس کا حصہ بنے اور زمینی اور فضائی حملوں کے لئے افواج پاکستان کو بھی اس میں ملوث کیا جائے، لیکن وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس اہم مسئلے پر پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا، جو ایک دانشمندانہ قدم تھا۔10اپریل کو پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ’’ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور مذاکرات کے لئے جس سے امن قائم ہو سکے، اپنا کردار ضرور ادا کریں گے‘‘13اپریل کو وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعودی قیادت پر بھی واضح کر دیا کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو ہم سعودی عرب کے ساتھ ہوں گے۔پارلیمنٹ میں اس پر کھل کر بحث کی گئی، کچھ کی رائے تھی کہ یمن میں فوج بھیجی جائے، کچھ نے اسے ایران کی طرف سے خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ کچھ نے اسے سعودی عرب کا غلط فیصلہ بھی کہا، لیکن متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ ’’یمن‘‘ کے معاملے میں غیر جانبدار رہتے ہوئے ’’سیاسی حل‘‘ کی حمایت کاکردار ادا کرنا چاہئے اور ساتھ سعودی عرب کے ساتھ دوستی باہمی تعلقات کی اہمیت اور حفاظت کے لئے حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ فوج کی طرف سے واضح کیا گیا کہ دہشت گردی اور مشرقی سرحدوں پر جو صورت حال ہے وہ اس فیصلے کی متقاضی ہے کہ فوج کو کوئی اور ’’ذمہ داری‘‘ نہ سونپی جائے۔ میاں نواز شریف نے ایرانی وزیر خارجہ پر زور دیا کہ حقیقت ہے یا تاثر کہ ایران یمن میں حوثی قبیلہ کی حمایت کر رہا ہے اسے دور کیا جائے اور سیاسی حل کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔ یہ فیصلہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک دراڑ پیدا کر سکتا ہے، جبکہ میاں نواز شریف کی جان بخشی کے لئے سعودی شاہی خاندان کا کردار (امریکہ کی مدد بھی شاملِ حال تھی) اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے جب جنرل پرویز مشرف نے انہیں سعودی عرب جانے دیا تھا۔ سعودی شاہی خاندان کی نفسیات کے بارے میں میاں صاحب سے زیادہ کم از کم پاکستان میں نہ کوئی جانتا ہے نہ سمجھتا ہے اور اِسی پس منظر نے میاں نواز شریف کو یہ ایشو پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے پر اور ذمہ داری عوام کے منتخب نمائندوں کے کندھے پر ڈالنے پر مجبور کیا۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حلقہ سمجھتا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کو احساس تھا کہ بغیر مکمل تیاری کئے اور افراتفری میں(Panic) سعودی قیادت نے صحیح فیصلہ نہیں کیا اور متحدہ عرب فوج بھی قائم کر ڈالی اور پورا مشرقِ وسطیٰ اس دلدل میں شامل ہو گیا۔ صدر ہادی یا ہادی حکومت کو دوبارہ بحال کرنا یا کروانا شاید اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ علاقے میں ایرانی حامیوں کا غلبہ نہ ہو جائے۔سعودی عرب کے دورے کے دوران وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعودی قیادت پر یہی واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ مسئلہ یا مقصد کچھ بھی ہو اس کا فوجی حل ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ اس کے سیاسی اور غیر فوجی پُرامن حل کے لئے حالات پیدا کرنا ضروری ہے۔یاد رہے کہ مصر نے بھی1960ء میں انہی قبائل کے خلاف فوج کشی کی تھی اور 20,000 لاشیں لے کر ناکام و نامراد لوٹنا پڑا تھا۔ یہ تحربہ بھی اور تاریخ بھی ہماری عسکری قیادت کے پیش نظر تھی، لیکن اس سے یہ اخذ کر لینا بھی احمقانہ سوچ ہو گی کہ شاید یہ بھی ہچکچاہٹ کی وجہ تھی۔ اپنی سرزمین کے لئے جانیں دینا اور اس پر فخر کرنا ہماری دلیر اور بہادر افواج کا طرۂ امتیاز ہے، لیکن سیاسی فیصلوں کے تابع کسی اور کے مفادات کے تحفظ کے لئے لڑنا مختلف ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے لئے بہت مشکل فیصلہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اتنے قریبی گہرے اور دوستانہ، بلکہ برادرانہ تعلقات پیش نظر رکھے جاتے ہیں، ان کے دورِ حکومت میں بگاڑ پیدا ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب کی مسلح افواج کے درمیان قریبی تعاون بھی ہے۔ ریاض اور اسلام آباد بھی ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن ہیں۔ پاکستانی دفاعی ماہرین بھی سعودی عرب میں ہیں اور حال ہی میں ایک اعلیٰ افسر تربیت کے دوران ایک حادثے کا شکار بھی ہوئے، لیکن فیصلے کرتے وقت جذبات نہیں زمینی حقائق پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔ اسی لئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ سے رجوع کیا اب اس کے برخلاف اقدامات کرنا ممکن نہیں ہے۔۔۔لیکن یہ بھی بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت کی اتحادی ایک مذہبی جماعت کے سربراہ نے پارلیمنٹ میں قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور باہر آ کر فوری فوج بھجوانے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ آج مذہبی جماعتیں دو Campsمیں تقسیم ہیں اور اپنے اپنے گاڈ فادرز کا نمک حلال کر رہی ہیں۔ پاکستان کا قومی مفاد پیسے کی چمک دمک میں کہیں گم ہو گیا ہے۔

خلیجی ریاستوں کی طرف سے کھلے الفاظ میں دھمکی بھی دی گئی کہ پاکستان کو اس کی قیمت مہنگی پڑے گی۔ ان کا اشارہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی طرف ہے جو روز گار کے لئے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں مقیم ہیں اور زرمبادلہ بھجوانے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ اس فیصلے سے اس پراپیگنڈہ کی نفی بھی ہو گئی جو پاکستان اور اسلام دشمن لابی نے شروع کر رکھا ہے کہ بوقت ضرورت پاکستان سعودی عرب کو ’’ایٹم بم‘‘ مہیا کرے گا۔ اس پروپیگنڈہ سے اس لابی نے مقاصد حاصل کرنا چاہے تھے۔ ایک تو عرب دُنیا کو ایران کے ایٹم بم سے ڈرا کر اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنا اور دوسرے پاکستان کو بدنام کرنا کہ ہم نے ’’ایٹم بم‘‘ برائے فروخت رکھا ہوا ہے۔اس بحران نے خطے میں ایران کے اثرو رسوخ کو بھی واضح کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورہ کے دوران ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر پاکستانی یمن میں بھڑکتی آگ میں کودے گا تو پاکستان میں بھی اس کے شعلے ’’ شیعہ سُنی‘‘ فسادات کی شکل میں بھڑک سکتے ہیں اور پاکستان یہ کبھی نہیں چاہے گا۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بھی زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے، جو پاکستان کی داخلی صورت حال جو پہلے ہی نازک ہے(فوج مختلف محاذوں پر الجھی ہوئی ہے) پر منفی اثرات ڈالے۔

ایرانی وزیر خارجہ پاکستان آنے سے پہلے اومان میں بھی ٹھہرے۔ اومان نے بھی پاکستان کی طرح اس بحران میں ’’جنگی امداد‘‘ سے معذوری ظاہر کی ہے اور مسئلے کے غیر فوجی اور سیاسی حل پر زور دیا ہے۔اب پاکستان نے کوششیں شروع کر دی ہیں کہ جو ممالک اس میں ’’صلح کن‘‘ کردار ادا کر سکتے ہیں انہیں ساتھ لے کر خطے میں امن قائم کیا جائے۔ یمن کے مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلطیاں درست کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اللہ پاک ان کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔ *

مزید : کالم