دہشت گردی کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ

دہشت گردی کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ
دہشت گردی کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ

  

وہی ہو گیا جس کا ڈر تھا۔ 16دسمبر 2014 اور اس کے بعد سے تیسرا بڑا حادثہ کراچی میں 13 مئی کو پیش آیا جب دہشت گردوں نے ایک بس کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی اور کسی مزاحمت کا سامنا کئے بغیر فرار ہو گئے۔ اس بس میں اسماعیلی برادری کے لوگ سوار تھے۔ دہشت گردی کی خون ریز کارروائی میں خواتین اور نوجوانوں سمیت 45افراد ہلاک کر دئے گئے۔ دہشت گردوں کا کون سا گروہ ملوث ہے،اس سے عوام ابھی تک لاعلم ہیں۔ حادثہ اس قدر تکلیف دہ تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد میں اجلاس کرنے کے بعد کراچی پہنچے، اجلاس کیا۔ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جنہیں بیرون ملک ایک دورے پر جانا تھا، اپنا دورہ ملتوی کر دیا۔ حکام کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، اور کون سے عناصر اس کے ذمہ دار ہیں۔ ایک کے بعد ایک، غرض تمام ہی سیاسی رہنماؤں نے مذمتی بیانات جاری کر دئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے لئے معاوضہ کا اعلان کر دیا۔ مرنے والوں کے سوگ میں تدفین والے روز کاروبار بند کرا دیا گیا۔ غرض ہڑتال کی سی کیفیت پیدا کر دی گئی ۔ بات یہ ہے کہ ہم نے لکیر پیٹنا سیکھ لیا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد لکیر پیٹتے ہیں۔ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق بیانات، معاوضہ، ہڑتال کی جاتی ہے اور تدفین کے بعد لوگ پھر معمول کو لوٹ جاتے ہیں۔

رہ گئے متاثرہ خاندان، تو ان کے لئے تو یہ زندگی بھر کا دکھ ہے۔ نوجوان زین سلطان اور دیگر افراد کے خاندان تو اپنے پیاروں کو ہی روتے رہیں گے۔ اسماعیلی ہوں، بوہری ہوں یا کسی اور فرقے کے لوگ ہوں، ہندو برادری کے لوگ ہوں ، آخر انہیں نشانہ بنانے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے ؟ ایک مقصد تو بہت ہی واضح ہے کہ دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادریاں محفوظ نہیں ہیں۔ انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا دوسرا مقصد انہیں پاکستان سے متنفر کرنا ہے، تاکہ وہ ملک سے چلے جائیں۔ اسماعیلیوں کے جانے کا سلسلہ تو طویل عرصے سے جاری ہے ، بوہری بھی جارہے ہیں، شیعہ بھی جارہے ہیں، سنی بھی جارہے ہیں، ہندو برادری کے لوگ جا رہے ہیں، ڈاکٹر بھی جارہے ہیں، وہ تعلیم یافتہ لوگ جو کسی بھی ملک میں جاسکتے ہیں جا چکے ہیں یا جا رہے ہیں۔ غرض یہ کہ جو اپنے ملک سے جانے کو برداشت کر سکتے ہیں وہ جارہے ہیں۔ جو لوگ منتقلی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے وہ ہی ٹہرے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے جانے سے سرمایہ بھی منتقل ہو رہا ہے۔ ہر خاندان کا کچھ نہ کچھ سرمایہ تو ہوتا ہے، کچھ نہ کچھ کاروبارتو ہوتا ہے جو سمٹ جاتا ہے۔ جب کاروبار بند ہوں گے تو بے روز گاری میں بھی اضافہ ہی ہوگا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔

پیپلز پارٹی حکومت مخالف سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے بیانات اور بعض ٹی وی کے اینکر حضرات نے اپنے پروگراموں میں ایک رٹ شامل کی کہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا جائے۔ کسی نے ذ کر کیا تو میرا جواب تھا کہ جسے چاہیں وزیراعلی ٰبنا دیں ،لیکن کیا وہ وزیراعلیٰ یہ لکھ کر دے سکیں گے کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر کوئی نیا وزیراعلیٰ سندھ میں دستیاب نہیں ہے تو کسی دوسرے صوبے یا کسی اور ملک سے در آمد کر لیں ،لیکن یہ یقین دلانا ہوگا کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ سید قائم علی شاہ کی عمر کو جواز بنا کر انہیں مطعون کرنا کوئی قابل ستائش روایت نہیں ہے۔ بعض سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ دہرایا کہ حکومت سندھ مستعفی ہو جائے۔ اگر کسی حکومت کے مستعفی ہونے سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے تو ایسا ضرور کرنا چاہئے ،لیکن یہ سب خواہشوں کا حصہ تو ہو سکتا ہے، مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ مسئلہ جوں کا توں ہی برقرار رہے گا کیوں کہ اس کے عوامل اور اسباب کچھ اور ہیں ۔

کراچی ستمبر 2013سے ایک ایسے آپریشن سے گزر رہا ہے جس کی ذمہ داری رینجرز کے سپرد ہے۔ دسمبر 2014کے بعد سے جب فوج نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئے اقدامات کئے تو کراچی میں بھی اپیکس کمیٹی قائم کی گئی۔ اپیکس کمیٹی پولس سے براہ راست کام بھی لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کتنے باختیار یا بے اختیار ہیں، یہ تو وہ ہی بتا سکتے ہیں ،لیکن وہ ایسے کپتان بنا دئے گئے ہیں جو پویلین میں بیٹھ کر تماش بینی تو کر سکتا ہے، احکامات نہیں دے سکتا یا اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں نہیں جاسکتا۔ کراچی آپریشن کے نگران ایک طرف جمہوری حکومت کو قائم بھی رکھنا چاہتے ہیں ،لیکن دوسری طرف جمہوری حکومت سے کام بھی نہیں لینا چاہتے ہیں اور اسے کسی احتساب سے بچانا بھی مقصود نظر آتا ہے۔ کسی بھی باورچی خانے میں ایک سے زیادہ باورچی کھانوں میں لذت پیدا نہیں کر سکتے۔ ایک ہی باورچی کافی ہوتا ہے اور اس کی ہی نگرانی میں پکنے والا کھانا لذت سے بھر پور ہوتا ہے۔ حکومت ہو یا قانون نافذ کرنے والے مقتدر ادارے، انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سندھ میں دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کون جواب دہ ہے۔ اگر یہ ذمہ داری صوبائی جمہوری حکومت کی ہے تو اس سے ہی جواب طلبی کی جائے ، محکمہ پولس اور محکمہ داخلہ ، شہری دفاع، قومی رضاکار تنظیم کی تنظیم نو کی جائے۔

دہشت گردی کے اس ایک اور واقعہ میں ہلاک ہوجانے والوں کے لئے وزیراعلیٰ نے معمول کے مطابق معاوضہ کا اعلان کر دیا۔ معاوضوں کا اعلان متاثرین کے دکھوں کا مداواتو نہیں کرتا ، لیکن حکومت کے خلاف احتجاج کی شدت کو کم کردیتا ہے۔ حکمرانوں نے یہ ہی طریقہ محفوظ سمجھ لیا ہے۔ ہر حادثہ کے بعد اس قسم کا اعلان تو کردیا جاتا ہے۔ متاثرین کو تاخیر سے رقم بھی فراہم کر دی جاتی ہے، لیکن حکمرانوں نے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ یہ نہیں سوچا کہ جو رقم حکومت معاوضہ کی صورت میں ادا کرنے کا اعلان کرتی ہے وہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ یہ مشق کبھی نہیں کی گئی کہ دیکھا جاتا کہ ہلاک ہوجانے والے افراد کس حد تک اپنے گھرانوں کے کفیل تھے۔ ان کے گھرانے کی کیا ضرورتیں ہیں۔ آج کے دور میں پانچ لاکھ روپے کیا معنی رکھتے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے تربت میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوجانے والے افراد کے لئے دس دس لاکھ روپے معاوضوں کا اعلان کیا تھا جو ابھی تک متاثرین کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔ معاوضوں کی رقمیں جب متاثرہ گھرانوں کو ملتی ہیں تو وہ رقمیں اکثر فضول خرچیوں میں بھی استعمال ہوجاتی ہیں۔ کبھی ر شتہ دار اور دوست احباب کاروبار کا خواب دکھا کر ضائع بھی کر بیٹھتے ہیں۔ ان معاوضوں کی ادائیگی حکومت اس نیت سے کرتی ہے کہ متاثرہ گھرانے اس رقم سے ہونے والی آمدنی سے اپنا گزارا کریں گے۔ صوبائی حکومتوں کو ایسے انڈو منٹ فنڈ قائم کرنے چاہئیں، جہاں سے متاثرین کو ہر ماہ ایک معقول رقم ان کے باعزت گزارے کے لئے فراہم کی جائے۔ یہ کام بیت المال کے ذریعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ متاثرین دھکے نہیں کھائیں گے، بلکہ رقم ہر ماہ کسی تاخیر کے بغیر ان کے بنک اکاوئنٹ میں جمع کرادی جائے گی۔

دہشت گردی کے خلاف ہماری اس قومی جنگ میں متحرک حصہ لینے کے لئے عام لوگوں کو ابھی تک عملی طور پر تیار نہیں کیا گیا ہے۔ عام لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دہشت گردوں سے نمٹنا حکومت، پولس ، رینجرز یا فوج کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کام تو بس تماش بینی ہے۔ کراچی کی حالیہ دہشت گردی کی ہی مثال لیتے ہیں، جس وقت دہشت گرد بس میں داخل ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا، اس دوران عام لوگوں نے کسی قسم کی مزاحمت کا کوئی راستہ اختیار ہی نہیں کیا۔ تمام سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جاسکتی تھیں۔ تمام گلیوں پر لوگ قطار بنا کر کھڑے ہو سکتے تھے، تاکہ ملزمان کو فرار کا راستہ نہیں ملتا۔ اسی عمل کے دوران گرم پانی بھی تیار کیا جاسکتا تھا جو فرار ہوتے ہوئے دہشت گردوں پر پھینکا جاتا۔ پتھر بھی استعمال کیا جا سکتا تھا ۔ غرض عام لوگوں اور محلے والوں کو بھی تو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا۔ جس وقت بس کے اندر فا ئرنگ کی جارہی تھی اس وقت بس کے قریب یا دور رہ کر اس کے گرد گھیرا بھی ڈالا جا سکتا تھا۔ کچھ لوگوں کو زخمیوں کو ا بتدائی طبی امداد دینے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے تھا، تاکہ اسپتال پہنچتے پہنچتے ان کا خون ضائع ہونے سے محفوظ کیا جاسکتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ بسیں غیر محفوظ کیوں ہیں ؟ کسی چیکنگ کے بغیر کوئی بھی شخص بس میں داخل کیسے ہوسکتا ہے ؟ بسوں کی حفاظت کے لئے کوئی بھی اقدامات کیو ں نہیں کئے جاتے ہیں ؟ بسوں میں ڈرائیوروں کے پاس ایسا کوئی الارم کیوں نہیں ہے کہ ہنگامی صورت میں اسے بجا کر لوگوں کو متوجہ کیا جائے اور مدد حاصل کی جا سکے۔ لوگ اپنی حفاظت کے انتظام میں خود بھی دلچسپی لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں یہ سارا عمل اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب حکومت لوگوں کو تیار کرنے کے لئے خود آمادہ ہو۔ کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد کبھی نہیں ہوا ۔ حکام نے اہل محلہ کے ساتھ کوئی کھلا اجلاس کیا ہو، جس میں انہیں مشورے دئے گئے ہوں کہ دہشت گردی کی کارروائی کے وقت انہیں کیا کرنا چاہئے تھا۔ بہت سارے ایسے اقدامات ہیں جو اہل علاقہ کر سکتے ہیں اور لوگوں کو دہشت گردی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ پولس یا انتظامیہ کے افسران نے علاقہ کا دورہ کرکے لوگوں سے فرداً فرداً معلومات حاصل کی ہوں۔ حکمران جائے حادثہ کا دورہ ضرور کرتے ہیں، لیکن ان کے لئے حفاظتی انتظامات کی اس قدر بھر مار ہوتی ہے کہ انہیں بھی وہی معلومات حاصل ہو پا تی ہیں جو افسران انہیں فراہم کر نا چاہتے ہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ حکمران جائے حادثہ کا دورہ کرنے کی بجائے اپنے گھروں میں ہی بیٹھ کر ٹی وی دیکھ لیا کریں۔ *

مزید : کالم