جوڈیشل انکوائری کمیشن میں ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن سمیت تین گواہوں کے بیانات قلمبند ، تین نئے گواہان طلب

جوڈیشل انکوائری کمیشن میں ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن سمیت تین گواہوں کے بیانات ...
جوڈیشل انکوائری کمیشن میں ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن سمیت تین گواہوں کے بیانات قلمبند ، تین نئے گواہان طلب

  

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جوڈیشل انکوائری کمیشن میں انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات سے متعلق معاملے میں ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن سمیت تین گواہوں کی جانب سے بیانات قلمبند کرانے کے بعد وکلاءنے ان پر جرح مکمل کرلی جس کے بعد کمیشن نے تین نئے گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کوبلاوجہ ملتوی نہیں کیاجائے گا، ہم کوشش کریں گے کہ یہ ساراکام 45 روزکی مقررہ مدت میں مکمل کرلیاجائے۔

 جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل چوہدری پر مشتمل تین رکنی کمیشن نے معاملے کی سماعت کی۔ جن گواہوں کو طلب کیاگیاہے ان میں سابق الیکشن کمشنر سندھ طارق قادری ، سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کراچی کے ایم ڈی رضوان احمد اور پرنٹنگ کارپوریشن کراچی کے منیجر مظفر علی چانڈیو شامل ہیں ۔اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیر زادہ نے انتخابات 2013کے دوران پرنٹنگ کارپوریشن اسلام آباد کے ایم ڈی موسیٰ رضا آفندی پر جرح کی۔ ان کے مختلف سوالات کاجواب دیتے ہوئے ایم ڈی نے بتایا کہ پرنٹنگ کارپوریشن کو کل 103795288 بیلٹ پیپرزچھاپنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن بعد ازاں قومی اسمبلی کے سات اور صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں کے حوالہ سے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مجوزہ تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے یہ تعداد 109795288کردی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں گواہ نے مزیدبتایاکہ پرنٹنگ کارپوریشن لاہور نے کہا تھا کہ وہ ریٹرننگ افسران کی ڈیمانڈ کئے گئے بیلٹ پیپرز چھاپنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جس پر پاکستان پوسٹل فاﺅنڈیشن پریس کو 20ملین بیلٹ پیپرز چھاپنے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن مجھے اس معاملے پر اعتراضات اٹھائے جانے اور اس کی تحقیقات کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ ایساہواتھا یا نہیںکیونکہ 4جولائی2013ءکو نئی حکومت نے آتے ہی مجھے ہٹا دیا تھا۔ ان کاکہناتھا کہ ہم نے 34افراد کو بیلٹ پیپرز کی نمبرنگ کرنے اور بک بائینڈنگ کےلئے ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کیا تھا، ان کو الیکشن کمشن لاہور نے بھجوایا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور سے کل78افراد بھجوائے گئے تھے لیکن ہم نے صرف 34 افراد کی خدمات حاصل کیں ان کایہ بھی کہناتھا کہ کہ بیلٹ پیپرز کی حھپائی کا کام ہائی سیکورٹی میں ہوتا تھا جس دوران فوجی اہلکار پریس کے اندر اور باہر موجود ہوتے تھے۔

اے پی پی کے مطابق پیرزادہ نے ان سے سوال کیا کہ کیاوہ اس امرسے و اقف تھے کہ درحقیقت78 نہیں112افراد کو بھرتی کیا تھا جس پر موسیٰ نے بتایا کہ بیلپ پیپرزکی چھپائی کے دوران مختلف مواقع پر مختلف لوگوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ بعدازاں مسلم لیگ (ن) کے وکیل شاہد حامد نے ان پرجرح کی توگواہ موسیٰ نے بتایا کہ پرنٹنگ کارپوریشن کے پاس بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور ڈیلیوری کا مکمل ریکارڈ موجود ہے ، وہاں یہ ریکارڈ بھی ہے کہ کس آفیسر نے بیلٹ پیپرز وصول کئے تھے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بیلٹ پیپرز کی ڈیلیوری کے وقت الیکشن کمیشن اور پاک فوج کا عملہ موجود ہوتا تھا ، دوران سماعت پاکستان پوسٹ فاﺅنڈیشن پریس کے سابق ایم ڈی اعجاز احمد منہاس اور پرنٹنگ پریس کارپوریشن لاہور کے اس وقت کے منیجر محمد رفیق سے بھی جرح کی گئی۔ سماعت کے اختتام پرپیپلزپارٹی کے وکیل اعتزاراحسن نے کمیشن سے درخواست کی کہ دھاندلی کی تحقیقات کے سلسلے میں ووٹوں کے تھیلوں کوکھولا جائے توچیف جسٹس نے ان کی استدعامسترد کردی۔ عبدالخفیظ پیرزادہ نے کہاکہ سماعت کچھ دنوں کیلئے ملتوی کی جائے ان کی کچھ مصروفیت ہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ ہم بلاوجہ اس کوالتوانہیں دیں گے ہماری کوشش ہے کہ مقررہ مدت میں اس سلسلے کو مکمل کیاجائے بعد ازاں کمیشن نے مزید کارروائی 18مئی تک ملتوی کرتے ہوئے نئے گواہوں کو طلب کرنے کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان اضافی بیلٹ پیپرز کے ذریعے دھاندلی کیے جانے کا بیان دے چکے ہیں اور اب جوڈیشل کمیشن میں اضافی بیلٹ پیپر ز چھاپے جانے کی تصدیق ہوتی جارہی ہے ۔

مزید : اسلام آباد