وزیراعظم ناہلی کیس :دلائل دیں یا پھر پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کریں ،درخواست گزار وکیل سے ہائی کورٹ کامکالمہ 

وزیراعظم ناہلی کیس :دلائل دیں یا پھر پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کریں ،درخواست ...
وزیراعظم ناہلی کیس :دلائل دیں یا پھر پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کریں ،درخواست گزار وکیل سے ہائی کورٹ کامکالمہ 

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان کی سربراہی میں قائم5رکنی فل بنچ نے وزیر اعظم میاں نوا زشریف کو منی لانڈرنگ اورغیر قانونی اثاثے بنانے کے الزامات کے تحت تاحیات نااہل قرار دینے اوران کا نام ای سی ایل میں شامل کروانے کے لئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملہ پر دلائل طلب کرلئے ہیں ۔فاضل بنچ نے دوران سماعت قرار دیا کہ قانونی ضابطے کے بغیر عدالت کسی شہری کی آزادی سلب نہیں کر سکتی،پاکستان مرنے کے لئے نہیں بناوہ قیامت تک قائم رہے گا ،فاضل بنچ نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ وہ قانونی نکتے پر دلائل نہیں دے سکتے تو پھر عدالت سے رجوع کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کریں ،ماتحت عدالتوں کے معاملات کے بھی آئینی عدالتوں نے ہی فیصلے کرنے ہیں تو پھر کیاماتحت عدالتیں بند کروادیں ؟گزشتہ25سال سے یہ درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی ہے ، عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے پھر آگے چلیں گے۔درخواست گزارپیر علی عمران ساحراسرافیل کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ میاں نواز شریف نے اربوں روپے غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کئے۔پلاٹوں کی بندر بانٹ کی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ دیوانی کے تحت نواز شریف کو عدالت میں طلب کیا جائے تاکہ نواز شریف پر جرح کی جا سکے اور عدالتی فیصلہ آنے تک نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کئے بغیر کوئی حکم کیسے جاری کر سکتی ہے۔ اس پر درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف پر تاحیات نااہلی کا اطلاق ہوتا ہے وہ امرتسر میں دو کمروں کے مکان میں رہتے تھے اور آج وہ ٹریلین ڈالرز کے مالک ہیں لہٰذا یہ میاں نواز شریف نے ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس اتنا پیسہ اور جائیداد کہاں سے آئی۔ کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم نے ہائیڈ پارک لندن میں چار عمارتیں خریدیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ اس معاملہ کاقانون پر عمل داری کی آئینی درخواست کے تحت جائزہ لے سکتی ہے ؟اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو ماتحت عدالت میں دعوی کریں ، شہادت دیں۔ اگر یہ سب بھی ہائی کورٹ نے کرنا ہے تو کیا ماتحت عدالتیں بند کرادیں۔ بیرسٹر جعفری نے جواب دیا کہ حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان مر رہا ہے ،وزیر اعظم میاں نواز شریف کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ جس پر بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے کہا کہ پاکستان مرنے کے لئے نہیں بنا یہ تاقیامت قائم رہے گا۔نواز شریف کو کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی استدعا پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانونی ضابطے کے بغیر عدالت کسی شہری کی آزادی سلب نہیں کر سکتی، بیرسٹر جعفری کاکہنا تھا کہ عدالت نواز شریف کو طلب کرے،اگر ہم ان کو جھوٹا ثابت نہ کرسکے تو ملک چھور کر چلے جائیں گے۔ جس پر فاضل بنچ نے قرار دیا کہ آپکا عدالت کے سامنے آنے کا کیا مقصد ہے اگر قانونی نکتے پر دلائل نہیں دینے تو پارلیمنٹ کے باہر جاکر مظاہرہ کریں۔ وفاقی حکومت کے وکیل کی جانب سے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دینے کی استدعا پر بیرسٹر جعفری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی معاونت کے لئے غیر جانبدار وکیل مقرر کیا جائے تاہم فل بنچ نے وکیل کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کی بابت عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 22مئی تک ملتوی کردی۔

مزید : لاہور