تحصیلداری کے امیدواروں سے فیسیں لیں،کروڑوں کمائے ،3سال ہوگئے نتیجہ جاری نہیں کیا ،ہائی کورٹ میں درخواست 

تحصیلداری کے امیدواروں سے فیسیں لیں،کروڑوں کمائے ،3سال ہوگئے نتیجہ جاری ...
تحصیلداری کے امیدواروں سے فیسیں لیں،کروڑوں کمائے ،3سال ہوگئے نتیجہ جاری نہیں کیا ،ہائی کورٹ میں درخواست 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجازالاحسن نے 3سال قبل تحصیلدار کی 45اسامیوں پر تقرر کے لئے ہونے والے تحریری امتحان کا نتیجہ جاری نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس کوہدایت کی ہے کہ اس درخواست کو سماعت کے لئے متعلقہ بنچ کو بھیجا جائے ۔فاضل جج نے صفدر اقبال بھٹی کی طرف سے دائراس درخواست کی اعتراض کیس کے طور پر سماعت کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کی طرف سے لگایا گیا اعتراض ختم کردیا ۔درخواست گزار کے وکیل ندیم اصغر ندیم نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے 2012ءمیں تحصیلدار کی 45اسامیوں کی بھرتی کے لئے امتحانات لئے گئے لیکن 3 برس گزرنے کے باوجود رزلٹ کا اعلان نہیں کیا جا رہا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تحصیلدار کی 45اسامیوں کے لئے 50ہزار امیدواروں سے 700 روپے فی کس کے حساب سے فیس لی گئی ۔ حکومت پنجاب فیس کی مد میں کروڑوں روپے اکٹھا کرچکی ہے ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو نے وزیر اعلیٰ کے احکامات پر مذکورہ رزلٹ کا اعلان کرنے سے روک رکھا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب تحصیلدار کی اسامیوں پر لئے گئے امتحانات کا رزلٹ روکنے کا اختیار نہیں رکھتے ،3 برس سے روکے گئے رزلٹ کو جاری کرنے کا حکم دیا جائے، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات پر سیکرٹری بورڈ آف ریونیو نے تحصیلدار اسامیوں کا رزلٹ جاری کرنے سے روک رکھا ہے، عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ درخواست کے ساتھ حکومت کے متنازع اقدام کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جائے تاہم فاضل جج نے دفتر کا یہ اعتراض ختم کردیا ہے ۔

مزید : لاہور