’’را‘‘ کے ہاتھوں مزدوروں کی شہادت

’’را‘‘ کے ہاتھوں مزدوروں کی شہادت
 ’’را‘‘ کے ہاتھوں مزدوروں کی شہادت

  

ضلع گوادر کے علاقوں پیشکان اورگنز میں چھ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پیشکان تا گنز سڑک اور دیوار تعمیر کرنے والی کمپنی کے مزدوروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین سگے بھائیوں سمیت 10 مزدور شہید، جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ شہید اور زخمی ہونے والے مزدورورں کا تعلق سندھ کے علاقے کنڈیارو کے گاؤں صدیق لاکھو سے بتا یا جاتا ہے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری، وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے چُھپ کر نہتے مزدوروں پر وار کیا ہے۔ دہشت گرد اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔بزدل دہشت گردوں کو ان کے بلوں سے نکال کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ گوادر اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی سازش کو ہر صورت میں ناکام بنایا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے،نہ قومیت۔گوادر میں دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کر کے نہتے مزدوروں کو نشانہ بنایا ہے، جنہیں ہر صورت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ہم سندھی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ دشمن ہمیں لڑوانا چاہتا ہے، لیکن ہم لڑیں گے نہیں، لواحقین کی مالی امداد کی جائے گی۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض خصوصی طیارے سے گوادر پہنچ گئے،جہاں انہوں نے شہید مزدوروں کی نمازِ جنازہ میں شر کت کی۔بلوچستان میں ترقی شرپسندوں کی آنکھ میں کھٹکنے لگی ہے۔دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں بلوچستان میں ترقی کا سفر نہیں روک سکتیں۔یہ ’’را‘‘ سے رقم لینے والے دہشت گردوں کی کارروائی لگتی ہے۔ دہشت گردوں نے کسی سندھی، بلوچی یا پنجابی نہیں، پاکستانیوں کو شہید کیا۔

سانحہ کوئٹہ کے بعد پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے باضابطہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف عالمی سطح پرپابندیاں عائد کی جائیں۔ حکومت نے بلوچستان میں بھارت کی مسلسل مداخلت کے خلاف مفصل ثبوتوں پر مبنی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے گا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کا واضح مقصد پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ایک منظم پلان کے تحت بلوچستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے مقامی سطح پر کچھ عناصران کے ذیلی ایجنٹس کا کام کر رہے ہیں۔اس سازش کا اعتراف بلوچستان میں گرفتار ہونے والا ’’را‘‘ کا افسر کل بھوشن یادیو دوران تفتیش سیکیورٹی اداروں کے سامنے کر چکا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس گرفتار ’’را‘‘ افسر کے اہم انکشافات کو اب عالمی سطح پر سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور ہندوستانی وزیراعظم کے بلوچستان کے حوالے سے بیان اِس بات کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ گزشتہ دنوں ہندوستانی میڈیا میں اِس حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ بلوچستان ری پبلکن پارٹی (بی آر پی) کے رہنما براہمداغ بگٹی نے جلد ہندوستان میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں جلا وطنی کاٹنے والے بلوچ رہنما براہمداغ کا کہنا تھا کہ ہم بنگلہ دیش، ہندوستان اور افغانستان کی مدد سے چین کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں گے۔ اس سے قبل براہمداغ بگٹی نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کے خطاب میں بلوچستان کے معاملے کو اٹھانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ براہمداغ بگٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ جب پاک فوج نے 2006ء میں کوئٹہ کے قریب کوہلو کے مقام پر کارروائی کی تو وہ بھی وہاں موجود تھے، تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، لیکن ان کے دادا نواب اکبر خان بگٹی اس حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید :

کالم -