2030تک جنوبی ایشیاء میں پونے 2کھرب ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ایشیائی ترقیاتی بینک

2030تک جنوبی ایشیاء میں پونے 2کھرب ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ایشیائی ...

  

اسلام آباد (اے پی پی) جنوبی ایشیاء کے خطے میں 2030کے دوران سالانہ توانائی ٹرانسپورٹ ، ٹیلی مواصلات اور پانی کے شعبہ میں ایک کھرب 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) خطے کی پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جاپانی شہر یو کو ہاما مین بینک کے بورڈ آف گورنرز کے 50ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر بینک کی اعلی انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کے خطے کی ترقی اور مستقبل کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر تمام شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں 4 ہزار وفود نے شرکت کی ہے جن میں رکن ممالک کے وزرائے خزانہ، ترقی، مرکزی بینکوں کے حکام، ترقیاتی شراکت داروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفود شامل تھے۔ سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر نے بینک کی مستقبل کی ترجیحات بالخصوص انفراسٹرکچر سمیت اہم ترجیحات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ترقی کے تسلسل کیلئے پہلے کا لگایا گیا تخمینہ اب دوگنا ہوگیا ہے ، انفراسٹرکچر کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے ، ممبر ممالک اس ضمن میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں سمیت بڑی کمپنیاں ایشیاء کی ترقی میں کردار ادا کرنے کیلئے دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی منصوبوں کی تیاری میں اپنے کاروباری عمل میں اصلاحات متعارف کروا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی شعبہ ہماری ایک اور ترجیح ہے ، صحت کے شعبہ میں بینک ملیریا ، ٹی بی اور ایچ آئی وی جیسے امراض کے خاتمہ کیلئے یونیورسل ہیلتھ کیئر سسٹم اور سرحد پار اقدامات میں معاونت کرے گا۔ تعلیم کے شعبہ میں ایشیائی ترقیاتی بینک ٹیکنیکل و وکیشنل تعلیم و تربیت میں تعاون کے ساتھ ساتھ ثانوی تعلیم کے معیار میں بہتری میں معاونت کر رہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ بینک صنفی مساوات کے فروغ کیلئے کردار ادا کرے گا۔ بینک نے 1985ء میں پہلی بار ترقی میں خواتین کے حوالے سے پالیسی مرتب کی تھی ، انہوں نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کی محفوظ اعلیٰ صلاحیتوں ، بہترصحت ، مزید ملازمتوں اور فیصلہ سازی میں انکی وسیع آواز شامل کرنے کیلئے منصوبے بنائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بینک کی اگلی ترجیح پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے موثر استعمال کو مزید بہتر بنانے کیلئے ترقیاتی عمل میں نجی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے کوششیں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بینک سولر ، ونڈ اور جیوتھرمل پاور جیسے انفراسٹرکچر کیلئے نجی کمپنیوں کو براہ راست فنانسنگ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایشیاء کے پرائیویٹ انفراسٹرکچر کے لیڈنگ ٹرسٹ فنڈ میں جاپان کی جانب سے مالی تعاون کے سراہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس ٹرسٹ کی منظوری کے صرف پانچ ماہ بعد ہم نے کلین انرجی کے بھارت اور انڈونیشیاء میں دو منصوبوں کی منظوری دی ہے ، 2030ء کی حکمت عملی کے تحت بینک میں اصلاحات ایک اور ترجیح ہوگی۔

، ایشیائی ترقیاتی بینک کے قیام سے اب تک جاپان ایشیائی ترقیاتی بینک کا سب سے بڑا فریق ہے ۔ جب 1966ء میں اس بینک کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس وقت یہ اہم چیلنج تھا کہ خطے میں بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے خوراک کی ضرورت کیسے پوری ہوگی۔ زراعت ابتدائی سالوں میں بینک کیلئے ترجیحی شعبہ تھا ، نصف صدی بعد مشاہدے میں آیا کے عالمی جی ڈی پی کا ایک تہائی ایشیاء سے وابستہ ہے جبکہ ایشیاء دنیا کی اقتصادی ترقی میں نصف حصے دار ہے ، خطے کی تیز رفتار ترقی نے غربت میں کمی اور عوام کی معیار زندگی میں بہتری لائی ، ایشیاء میں اس تبدیلی میں ایشیائی ترقیاتی بینک ایک قابل بھروسہ شراکت دار ہے ۔ 1970ء میں پہلی بار بینک نے جاپان میں بین الاقوامی شناخت کاحامل ینگ با نڈ کا اجرا کیا، گذشتہ 50سالوں کے دوران بینک نے 270ارب کے قرضے اور گرانٹ مہیا کیں ، انہوں نے کہا کہ بینک کی جانب سے اچھی پالیسیوں کے فروغ کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ یہ پالیسیاں ایشیائی معیشتوں کی تیز رفتار ترقی کی بنیاد ثابت ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ بینک اعلیٰ سطح کے وفود جن میں ریاستوں کے سربراہان ، وزراء ، تیکنکی معاونت ، استعداد کار میں اضافے اور پالیسی کی بنیاد پر بجٹ سپورٹ قرضوں کی اچھی پالیسیوں کے ذریعے معاونت کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک بحرانوں کے شکار رکن ممالک کو ہنگامی قرضے فراہم کرتا ہے ۔ 1970ء میں تیل کے بحران ، 1990ء کی دہائی میں ایشیاء میں مالیاتی بحران اور حالیہ عالمی مالیاتی بحران کے دوران بینک نے ہنگامی قرضے دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ بینک نے ایشیاء اور بحرالکاہل کے درمیان علاقائی تعاون کا تصور دیا ، بینک کاآپریشن 31.7ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ بینک کے قرضوں اور گرانٹ میں گذشتہ سال کی نسبت 9فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور یہ 17.5ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک ( اے ڈی بی ) نے چار سالہ عرصے ( 2013-16ء ) کے دوران اپنے بیشتر ترقیاتی اور آپریشنل اہداف کو حاصل کرتے ہوئے ایشیاء و بحر الکاہل خطے کے لئے ترقیاتی مالیات میں اضافے کے مقصد کے حصول کے لئے مستعدی کامظاہرہ کیا ہے ۔اے ڈی بی کی 2016ء ترقیاتی اثر پذیری جائزہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اے ڈی بی کے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات دور کرنے اور قابل تجدید توانائی سمیت توانائی منصوبہ جات نے 100فیصد مطلوبہ کارکردگی کامظاہرہ کیا۔اے ڈی بی کے تمام منصوبہ جات میں سے تقریباً نصف نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوششوں میں معاونت کی ۔ ا

ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرکے قانونی پیچیدگیوں کو دور کیا جارہا ہے موجودہ ٹیکس پئیر کی سہولیات ومشکلات کو دیکھتے ہوئے آنے والے بجٹ میں آئی کیپ سمیت تمام سٹیک ہولڈر کی بجٹ پر پرپوزل پر کام ہو رہا ہے حکومت اور ایف بی آر کوشش کررہی ہے کہ بجٹ مکمل طور پر عوام کیلئے بہتری اور سہولیات کے مُطابق ترتیب دیا جائے،توقع کرتے ہیں کہ بجٹ 2017-18 عوام کیلئے ترقی اور خوشحالی لے کرآئے، یہ باتیں ایف بی آر کے ممبر پالیسی اور ترجمان ڈاکٹر محمد اقبال نے آئی کیپ دی انسٹیویٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹ آف پاکستان (ICAP) کے پری بجٹ سیمنار میں کیں،اس موقع پر بجٹ سیمنار میں سابق صدر کو کنوینئیر ٹیکسیشن کمیٹی لاہور چیمبر آف کامرس حبیب الرحمن زبیری، آئی کیپ کے ممبران، عمران افضل سابق صدر آئی کیپ ،راشد ابراہیم چئیرمین ٹیکسیشن کمیٹی آئی کیپ ، محمد اویس ،ایم اے لطیف سیکرٹری NRC ،اسد فیروز ،رضوان بشیر ، حسن علی قادری ، چیف کمشنر ایل ٹی یو ذوالقرنین ترمذی سمیت چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ٹیکس ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی بجٹ سیمنار میں آئی کیپ کی طرف سے بجٹ پرپوزل میں ٹیکس بیس اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے پر زور دیا گیا ایف بی آر کی کمزورپرفارمنس کو بہتر کرنے اور موجودہ ٹیکس پئیر کو سہولیات فراہم کرنے اور نئے ٹیکس پئیرتلاش کرنے کے لیے پرپوزل دی گئیں اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایف بی آر کے ترجما ن ممبر پالیسی ڈاکٹر محمد اقبال نے بتایا کہ ٹیکس نیٹ اور بیس کو بڑھانے کے لیے ایف بی آر نے ڈیٹا جمع کر لیا ہے کچھ کمزوریا ں ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے قانونی شکل دی جارہی انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے ایس آر او سسٹم تقریباً ختم کردیا ہے ایف بی آر انفراسٹرکچر کو بلڈ اپ کرکے عوام کی فلاح کے لیے بجٹ لا رہا ہے،انویسٹمنٹ اور ٹریڈ پر خاص توجہ دی جارہی ہے

مزید :

کامرس -