چیئرمین پی اے آر سی کی چینی وفدسے اجلاس

چیئرمین پی اے آر سی کی چینی وفدسے اجلاس

  

اسلام آباد (آن لائن ) چئیرمین پی اے آر سی ،ڈاکٹر یوسف ظفر (تمغہ امتیاز) نے چائنہ کے ایک وفد سے بھینسے کی افزائش نسل اور ٹھنڈے پانی کی مچھلی (ٹراؤٹ) کی پیداوار میں بڑھوتی کے حوالے سے میٹنگ کی۔ وفد میں پروفیسر روئیجنگ لونگ، سینئر انجینئرآئی سی آئی ایم او ڈی، ،مس جن ہان، اسسٹنٹ پروفیسر،لانزہو یونیورسٹی،ہو ینگ بیاؤ،تحقیق دان ، گینزو فشریز تحقیقی ادارہ اور وانگ تائی سینئر انجینئر ،گینزو فشریز تحقیقی ادارہ شامل تھے۔ اجلاس میں دونوں اداروں کے مابین باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے پر اظہار خیال کیا گیا۔ چئیرمین پی اے آر سی نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ہم اس منصوبے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرینگے او ر پی اے آر سی حکومت پاکستان کی معاونت سے پہلے ہی گلگت بلتستان میں دو مختلف منصوبہ جات پر کا م کر رہی ہے ایک منصوبہ ٹھنڈے پانی کی مچھلی اور دوسرا لائیوسٹاک کی پیداوار سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی آئی ایم او ڈی پہلے ہی پہاڑی علاقوں میں مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اور اسکے بہترین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں مختلف اقسام کے بھینسے کی نسلیں موجود ہیں اور انکی افزائش نسل اور بڑھوتی ک لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر کو بھی سکردو کے علاقے میں ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے ساتھ پی اے آر سی ، مکمل تعاون کریگی اور ہر ممکن مدد اور رہنمائی بھی فراہم کرے گی۔

مس جن ہان، اسسٹنٹ پروفیسر،لانزہو یونیورسٹی نے کہا کہ ہم کو تجربات کے لیے یہاں کے بھینسے کے گوشت کے 150 نمونے چاہیں تا کہ ہم اس پر مزید بہتری سے کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لینزو یو نیورسٹی پی اے آر سی کے سائنسدانوں کے لیے بھی ٹریننگ پروگرامز کا انعقاد کریگی جس سے باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے میں مدد ملے گی۔ پروفیسر روئیجنگ لونگ، سینئر انجینئر آئی سی آئی ایم او ڈی، نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے برفانی پہاڑی علاقوں میں ٹھنڈے پانی کی مچھلی کی پیداوار کے لیے بھی منصوبہ جات شروع کیے جائیں گے۔ اور پہلے بھی آئی سی آئی ایم او ڈی اور پی اے آر سی کے مابین کئی منصوبہ جات پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا باہمی تعاون اور ربط سے ہم اپنی منزل کو ضرور پا لیں گے۔ ڈاکٹر منیر احمد، ممبر پی اے آر سی نے اس موقع پر کہا کہ فصلات کے باقیات سے بائیو گیس بنانے کا منصوبہ بہت کامیابی سے شروع سے اور ہم نے 45 یونٹس مختلف جگہوں پر نصب کیے ہیں جن کے استعمال کے بعد یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ لوگ انکو استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے بھینسے کی نسل کی افزائش اور ٹھنڈے پانی کی مچھلی کی افزائش کو بڑھانے کے لیے بھی ملکر کوششیں کرنا ہونگی تا کہ ملک کو خوراک میں خود کفیل کی جا سکے۔طارق ورک#/s#

مزید :

کامرس -