میٹرو بس سروس اور معذور افراد کو مفت سروس کی سہولت

میٹرو بس سروس اور معذور افراد کو مفت سروس کی سہولت
میٹرو بس سروس اور معذور افراد کو مفت سروس کی سہولت

  

پنجاب حکومت کی سر پرستی میں صوبائی دارالحکومت لاہور میں برادر اسلامی ملک ترکی کے تعاون سے میٹرو بس سروس اور اس کے علاوہ اربن روٹس پر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (Ltc) کا اجرا کیا گیا ہے عوام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت کی فراہمی کا یہ ابتدائی منصوبہ ہے ۔لاہور،اسلام آباد۔روالپنڈی،ملتان کے بعد کراچی میں بھی سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ عوام الناس کو مہیا کر کے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔ اس وقت صوبہ پنجاب کے عوام سفری سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں وہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ afford نہیں کر سکتے حکومت پنجاب کو جنوبی و شمالی پنجاب میں صحت ،تعلیم امن و امان کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کے لیے بھی معقول بجٹ کا اعادہ کرنا چاہیے۔لاہور میں شاہدرہ سے گجو متہ تک میٹروبس سروس کے اجرا ہے۔ عوام الناس کو سفر کی بہترین سہولیات اور کم وقت میں اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کی لازوال سہولت میسر آئی ہے ابھی تک دونوں اطراف کرایہ 20 روپے مختص ہے جو انتہائی معقول ہے ۔میٹرو بس سروس کے حوالے سے تجاویز حکومت پنجاب کی خدمت میں عرض ہیں ۔ا ضرورت اس امرکی ہے کہ شاہدرہ سے کالا شاہ کاکو تک اس روٹ کو بڑھایا جائے۔

1 ۔شاہدرہ اور گجو متہ یہ میٹرو بس سروس کے ابتدائی و اختتامی سٹیشن ہیں: مجھے شاہدرہ سے مسلم ٹاؤن کی طرف سفر کرنے کا اتفاق ہو ا ہے شاہدرہ بس ٹرمینل پر مردو و خواتین کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں کیو نکہ ٹوکن دینے کے لیے دو کاونٹر ہیں۔ ایک مرد حضرات کے لیے دوسرا خواتین کے لیے ہیں میٹرو بس تو حقیقت میں ہر دو منٹ کے بعد ٹرمینل سے روانہ ہو رہی ہے لیکن ٹوکن سے بس ٹرمینل پر پہنچنے کے لیے تقریبا 50 سے 60 منٹ لگ جاتے ہیں یوں شاہدرہ سے گجو متہ تک مسافر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں 50 منٹ میں پہنچ گیاہے وہ یہی کہتا ہے کہ شاہدرہ پر جو ایک گھنٹہ کھڑا رہا ہوں اس وقت کو بھی شامل کیا جائے تو یہ ایک گھنٹہ50 منٹ وقت ہے لہٰذا گزارش ہے کہ شاہدرہ سے گجو متہ ٹرمینلز پر ٹوکن حاصل کر نے کے لیے کاونٹر ز کی تعداد 10 کی جائے۔تا کہ ٹوکن کے حصول کے لیے بس میں سوار ہونے کا وقت ضائع نہ ہو سکے۔

2 ۔بسوں کی تعداد میں اضافہ: لاہور میں سب سے ذیادہ سفر فیروز پور روڑ پر عوام الناس کرتے ہیں میٹرو بس سروس میں شاہدرہ سے گجو متہ پر ٹوکن کاونٹر ز کی تعداد میں اضافے کے بعد ٹرمینلز پر مسافروں کا بس میں سوار ہونے کے لیے رش بہت بڑھ گیا ہے لہٰذا بسوں کی تعداد میں اضافہ بھی ناگزیر ہے کیونکہ عوام میں میٹرو بس کے زریعے سفر کرنے کے عمل کو پذیر ائی حاصل ہو رہی ہے۔

3۔بسوں کی دیکھ بھال:میٹرو اور ایل ٹی سی کی بسیں قومی سرمایہ ہیں عوام کو بھی چاہیے کہ ان بسوں کی حفاظت اور اس کے اندرونی و بیرونی سٹرکچر کو گزند پہنچانے سے گریز کریں بسوں کے اندر صفائی کو ملحوظ خاطر رکھیں کسی قسم کی تحریر نقش نہ کریں ۔پان کھانے اور سیگرٹ پینے سے اجتناب کریں میٹروبس انتظامیہ بھی گا ہے بگا ہے بس کے اندرونی حصوں کی خصوصی صفائی ،سیٹوں دیکھ بھال ساتھ جاری رکھے بس کی سروس باقاعدہ شیڈول کے مطابق کریں اس کا آئل ،فلٹرز ،بروقت تبدیل کرنے کا اہتمام کریں ۔جس کی باقاعدہ انسپکیشن کا نظام وضع ہو

4۔میٹر و بس سروس میں معذور افراد کو مفت سفری سہولت میسر کی جائے:حکومت پنجاب نے لاہورٹرانسپورٹ کمپنی میں بزرگ شہریوں اور بالخصوص معذور افراد کے لیے سفر کی سہولت کے لیے خصوصی کارڈ ز جاری کیے ہیں یہ انتہائی قابل قدر اور لائق تحسین اور پنجاب حکومت کا شاندار اقدام ہے لہٰذا پنجاب حکومت انسانی ہمدردی و انسانی حقوق کی بنا پر میٹروبس سروس میں جسمانی معذور افراد کو مفت سفر کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا اقدام کرے

5 ۔بس ٹرمینلز کی انسپکیشن: میٹروبس سروس کے ایمپلائز ٹرمنیلنزاسٹشنز میں عوام کے ساتھ بھر پور تعاون اور ان کی راہنمائی آتے ہیں عموما دیکھنے میں آیا ہے کہ تمام ٹرمینلز پر شیشوں کا بہت استعمال ہے اس کے علاوہ سایہ فراہم کرنے کے لیے فائبر کی چھتیں بیٹھنے کے لیے بینچ،پانی پینے کے لیے الیکٹرک کولر،پنکھے ،واش رومزوغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں اس حوالے سے ٹرمینلز کی صفائی ستھری اور دیگر امور کے لیے ایک انسپکشن ٹیم ہو جو وقتا فوقتا عملہ کی کارکردگی کا جائزہ لے۔

6 ۔طلبا و طالبات کے لیے رعائتی کارڈ کا اجراحکومت پنجاب نے جس طرح لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت طلبہ و طالبات کے لیے گرین کارڈ کا اجراکیا یقیناًبہت بڑی سہولت ہے گرین کارڈ دکھا کر طلبہ و طالبات 10 روپے کا ٹکٹ لے کر با آسانی اپنے تعلیمی اداروں تک پہنچتے ہیں لہٰذا میٹروبس سروس اتھارٹی بھی ایل ٹی سی کی طرز پر طلبا و طالبات کو گرین کارڈ کا اجرا کرنے کے لئے قانون سازی کرے۔

7 ۔بس ٹرمنیلز ،فلائی اوورز پر کمرشلز اشتہارات:اگر حکومت مناسب سمجھے تو بس ٹرمینلز فلائی اوورز کے علاوہ دونوں اطراف کے حفاظتی جنگلہ پر قومی و بین الا قوامی کمپنیوں کے برانڈز کے کمرشل اشتہارات اور بالخصوص میٹروبس سروس کے فلائی اوورز کے پلرز کو بھی کمرشل اشتہارات کے طور پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔

8 ۔لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (Ltc) تا نارنگ B-32بس سروس کا اجرا کرے۔لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت B-32 رو ٹ پر مسلم لیگ ن کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری خرم گلفام مرحوم نے 14بسوں کی تعداد میں روٹ کی منظوری کروائی تھی۔بدقسمتی سے صرف اس روٹ پر ایک بس چل رہی ہے۔جو عوام الناس سے سنگین مذاق ہے۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر برائے پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر نے اسمبلی میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

9۔فیڈرزروٹس پر سپیڈو بس سروس لاہور میں نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے اشتراک سے حکومت پنجاب نے میٹرو بس اور مستقبل میں اورنج لائن ٹرین میں سفر کرنے کی شرط سے صرف چندافراد اس میں سفر کررہے ہیں اور خالی بسیں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔لیکن ٹرانسپورٹ کمپنی کو تو سبسڈی میں پوری رقم مل رہی ہے۔نقصان تو حکومت پنجا ب کا ہورہا ہے۔میری اس ضمن میں تجویز ہے کہ کارڈ سسٹم ضرور رکھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹکٹ کے اجرا کے لیے بس کے اندر کنڈکٹر تعینات کریں اس سے بہت فائدہ ہوگا وگر نہ یہ بس سروس ناکامی سے دو چار ہوگی.

مزید :

کالم -