چین کے ساتھ-40 ارب ڈالر کے نئے معاہدے

چین کے ساتھ-40 ارب ڈالر کے نئے معاہدے

  

پاکستان اور چین کے درمیان-40 ارب ڈالر کے نئے معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں جن میں سے اہم ترین گوادر ایئر پورٹ کے لئے -15ارب یوآن گرانٹ کا معاہدہ ہے اِسی طرح گوادر ایکسپریس وے کی تعمیر کے معاہدوں پر بھی دستخط ہو گئے یہ گوادر شہر سے گزرنے والی19 کلو میٹر طویل سڑک ہو گی اِس کے علاوہ ایم ریلوے لائن اَپ گریڈیشن کے فریم ورک معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں بھی معاہدہ ہوا،دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بعد4500میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی اور اس کی تعمیر9 سال میں مکمل ہو گی، معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف اور چینی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن سمیت چین کے اعلیٰ حکام موجودتھے۔ چین کے صدر شی چن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری کا فائدہ عام آدمی تک جلد منتقل ہو گا، سی پیک منصوبہ چینی صدر کے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ ویژن کا اہم عنصر ہے، ہم سی پیک منصوبوں کے حوالے سے چین کی قیادت کے نئے عزم کو سراہتے ہیں اس سے پہلے انہوں نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے بھی ملاقات کی۔چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے جو وزیراعظم کے ساتھ چین کے دورے پر گئے ہوئے ہیں۔نئے معاہدوں سے مترشح ہوتا ہے کہ پاکستان میں اب پانی سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی یہ تمام منصوبے سکردو سے لے کر تربیلا تک مختلف مقامات پر مکمل کئے جائیں گے اور اگر اِن سب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے تو مجموعی طور پر40ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے جو اِس وقت پاکستان کی ضرورت سے بھی دو گنا زیادہ ہے،لیکن ظاہر ہے اِن منصوبوں کی تکمیل کے لئے کئی برس درکار ہیں اکیلا دیامر بھاشا ڈیم4500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس پر کام اگر آج شروع ہو جائے تو اس کی تکمیل میں نو برس لگ جائیں گے، لیکن تعمیر سے پہلے ابھی بہت سا کام باقی ہے تو اندازہ ہے کہ اگر تیز رفتاری سے بھی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے تو تکمیل پر آسانی سے دس بارہ برس لگ جائیں گے،ابھی تک تو صرف اُن متاثرین کو ڈیڑھ ارب روپے کی ادائیگیاں کی جا سکی ہیں جن کی زمینیں ڈیم کی زد میں آئیں گی۔ دوسرے کئی مراحل ابھی طے ہونے ہیں،لیکن اِس ڈیم کو سی پیک منصوبے کا حصہ بنانا بہت ہی اہم اور مثبت پیش رفت ہے،کیونکہ اِس منصوبے کے لئے عالمی ادارے سرمایہ کاری سے گریز کر رہے تھے اور اِس کے بارے میں اُن کے تحفظات بھی تھے۔ اب نئے معاہدے کے ساتھ آگے کی جانب ایک بڑی زقند لگ گئی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پاکستان کے ہائیڈل پراجیکٹ میں یہ پہلی سرمایہ کاری ہے اگرچہ دریائے جہلم پر ایک رن آف دی ریور ڈیم نجی شعبے میں کام کر رہا ہے،جو اپنی نوعیت کا پہلا پراجیکٹ کہلا سکتا ہے،لیکن اِس پر سرمایہ کاری کا حجم نسبتاً کم ہے۔ اِس سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ اِس سے پہلے چین سی پیک کے تحت بھی پاور اور روڈ سٹرکچر کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن پر لاگت کا مجموعی تخمینہ57ارب ڈالر ہے، نئے معاہدے سی پیک کے علاوہ ہیں اِن کے تحت دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تھاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، بونجی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں، بھاشا ڈیم کے علاوہ باقی تمام منصوبے صرف بجلی پیدا کرنے کے لئے ہیں،جبکہ بھاشا ڈیم سے سستی بجلی کے ساتھ ساتھ زرعی آبپاشی کے لئے پانی بھی حاصل ہو گا اِس طرح پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور پانی کی کمی کی شکایت کم ہو جائے گی۔’’ون بیلٹ وَن روڈ‘‘ چینی صدر کا ایسا شاندار رومانٹک تصور ہے کہ دُنیا کے 29ممالک کے حکمرانوں سمیت65ممالک کے نمائندے آج بیجنگ میں جمع ہو کر اس منصوبے کو بنفسِ نفیس خراج پیش کر رہے ہیں آج کے دن تاریخ ایک نیا موڑ بھی مڑ رہی ہے جب چین دُنیا کو اقصادی ترقی کی ایک نئی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان میں کسی مُلک نے آج تک ایک ہی وقت میں کبھی بھی اتنی بھاری سرمایہ کاری نہیں کی، ایک دوسرے پہلو سے بھی چین کی یہ کانفرنس یوں خوش آئند ہے کہ پاکستان کے اندر جن صوبوں کے سربراہ اپنے وزیراعظم کے خلاف بیک وقت تلخ و شیریں باتیں کرتے رہتے ہیں اور اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی پالیسیوں کے تحت ایسی نازیبا باتیں بھی کر جاتے ہیں جو کسی طور بھی مناسب نہیں ہوتیں، اِس وقت چین میں موجود ہیں اور خوشی کی بات ہے کہ مل کر بیٹھے ہیں، اِس دوران ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے، لیکن مجموعی طور پر ماحول پر ایک خوشگوار فضا چھائی ہوئی ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے حوالے سے ایک مطالبہ یہ سامنے آیا ہے کہ سندھ کے میگا پراجیکٹس کو بھی سی پیک کا حصہ بنایا جائے،کیا خبر جب اِن رہنماؤں کی وطن واپسی ہو تو بیجنگ کے خوشگوارلمحات کے صدقے شاہ صاحب کو یہ خوشخبری بھی سُنا دی جائے۔ آصف علی زرداری یہاں وزیراعظم نواز شریف کو مغل شہنشاہ کہہ کر پکارتے ہیں تو شاہوں سے کسی بھی اچھے فیصلے کی توقع کی جا سکتی ہے، خصوصاً جب معاملہ ایک دوسرے شاہ کے مطالبے کو پورا کرنے کا ہو، یقیناًپرویز خٹک کے بھی کچھ مطالبات ہوں گے، لگے ہاتھوں اُن کی بھی پذیرائی کر دی جائے، اُن کی حکومت صوبے کا(اب تک) سب سے بڑا اور پنجاب سے بھی مہنگا پراجیکٹ شروع کرنا چاہتی ہے جو پشاور میٹرو ہے جس میں اے ڈی بی کی سرمایہ کاری ہو گی۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چین مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمارا سٹرٹیجک پارٹنر ہے۔ چینی صدر شی چن پنگ نے یہ اعلان پھر دہرایا ہے کہ چین پاکستان کو مستحکم کرنے کے لئے تمام اقدامات کرے گا، اس طرح دونوں ممالک کی صدا بہار دوستی کا اعادہ بھی ہو گیا ہے اور جاری پالیسیوں کا تسلسل بھی سامنے آ گیا ہے، خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے جو خدشات موجود ہیں اور خاص طور پر سی پیک کی سیکیورٹی کا مسئلہ بھی اہم ہے کہ ابھی گزشتہ روز ہی اِس منصوبے پر کام کرنے والے دس مزدوروں کو شہید کر دیا گیا اِن حالات میں چین کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنر شپ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پس منظر میں خاص طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ منصوبے پر کام کرنے والے انجینئروں اور ماہرین کو کوئی گزند نہ پہنچے،کیونکہ ایسے خدشات موجود ہیں کہ دہشت گرد چینی ماہرین کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو منصوبے پر کام رُک جائے گا یا کم از کم اِس کی رفتار سست ہو جائے گی اِس لئے سیکیورٹی کو پہلے سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی دہشت گرد کو واردات کرنے کا موقع نہ ملے، پاک فوج کے جوانوں پر مشتمل جو سیکیورٹی فورس تشکیل دی گئی ہے اگر ضرورت محسوس ہو تو اس کا دائرہ وسیع بھی کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

اداریہ -