کرپشن کے پہاڑ

کرپشن کے پہاڑ
 کرپشن کے پہاڑ

  

اگر کوئی سیاست کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک وقوم کو درپیش مسائل کے حوالے سے نواز شریف کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادے، یعنی اس حکومت کی عمارت کو گرادے، ڈھادے، مسمار کردے اور عوام کے ووٹوں کے ذریعے اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کی سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوگی، لیکن جو طبقہ اور جو لوگ ڈان لیکس کے معاملے میں حکومت اور فوج کے درمیان مفاہمت پر سخت غم و غصے کا اظہار کررہے اور اس حوالے سے فوج پر بلا جواز تنقید کررہے ہیں، ان سے اتفاق نہیں کرسکتا۔ دراصل جو طبقہ، سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں سے بھی بڑھ کر جو صحافی حضرات ڈان لیکس کی بنیاد پر فوج اور حکومت کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کرکے خوشیاں منارہے تھے، ان کو ایک ہی جھٹکے میں کئی پریشانیاں لاحق ہوگئی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈان لیکس کے غبارے سے ہوا نکلنے کے بعد ان کے سارے منصوبے ناکام ہوگئے اور خواب بکھرگئے ہیں۔ پہلے بھی کئی بار اپنے کالموں میں یہ گزارشات پیش کی ہیں کہ سیاسی تبدیلیوں کے لئے فوج کی درپردہ حمایت کی خواہش رکھنا اور ایسا سوچنا ایک انتہائی درجے کی حماقت ہے ہے، جو سراسر ملک و قوم کے مفادات سے متصادم ایک منفی طرز عمل ہے۔۔۔ لیکن حکومت کی مخالفت کے لئے اگر قومی اور ملکی مسائل کو بنیاد بنایا جائے تویہ حزب اختلاف کا حق ہے۔ اس وقت پاکستان اور اس کے عوام کو جن مسائل اور مصائب کا سامنا ہے، انہیں حل کرنے کی موجودہ حکمرانوں میں صلاحیت ہی نہیں اور اگر ہمارے برسراقتدار طبقے میں کوئی قابلیت موجود ہے تو وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے بجائے خود ان کی ذاتی ترقی کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ماضی کے حکمران ہوں یا موجودہ،ان کے ذاتی اثاثوں اور ترقی کی رفتار کا تو حساب ممکن نہیں، لیکن ہمارا ملک آج بھی پسماندہ اور غیر ملکی طاقتوں اور اداروں کا مقروض ہے۔

بدقسمتی سے ہماری حزب اختلاف کی جماعتوں میں ایک بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا ماضی میں وفاق کی سطح پر ایک حکمران پارٹی کے طور پر کردار ایسا رہا ہے کہ جب اس کے رہنما موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہیں تو عوام سخت حیران، بلکہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کے الزامات اگر سو فی صد بھی درست ہوں، تب بھی جب پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی بد عنوانی کے حوالے سے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو عوامی حلقوں کو یہ صور ت حال انتہائی مضحکہ خیز محسوس ہوتی ہے اور لوگ مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں چھوٹی برائی سمجھ کر قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے، اس نے بھی موجودہ حکومت کی مخالفت کے لئے پاناماکیس اور ڈان لیکس کا ہی زیادہ سہارا لیا ہے۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر پاناما کیس نہ ہوتا اور اس کے بعد ڈان لیکس کا واقعہ پیش نہ آتا تو پھرسیاست کرنے کے لئے تحریک انصاف کے پاس کیا ہوتا؟ اس سے میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ ملک میں دیگر کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ ملک میں تو اتنے مسائل، اتنی ناانصافیاں، اتنا ظلم، اتنا معاشی استحصال، اتنے گھپلے، ایسی مکروہ صورت حال ہے کہ اس کے خلاف ایک حشر برپا کردینا چاہئے۔ منیر نیازی کا یہ شعر میرے احساسات کی صحیح ترجمانی کرتا ہے:

اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہئے

پھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئے

ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں وہ ہمارے پتھر دل حکمرانوں کی وجہ سے ہیں۔ ہمارے حکمران اپنی تقریروں میں زور اور اثر پیدا کرنے کے لئے فیض احمد فیض اور حبیب جالب کے اشعار تو ضرور پڑھتے ہیں، لیکن ظلم و ناانصافی اور معاشی ناہمواریوں کی تلخیوں کو ختم کرنے کے لئے کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے۔بلکہ اپنی نااہلیوں اور خود غرضیوں کی وجہ سے عوام کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ تو کرتے رہے ہیں، لیکن وہ ہمارے لئے کبھی چارہ گر ثابت نہیں ہوئے۔ بقول فیض:

ہرچارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے

نواز شریف کا دورِ حکومت ہویا آصف علی زرداری کا، ہمیں تو کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ ان حکمرانوں نے عوام کے ساتھ کبھی درد کا رشتہ محسوس کیا ہے۔اگر درد، تکلیف اور دکھ مشترک نہ ہوں تو درد کا رشتہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک غریب آدمی اور حکمرانوں کے طرز زیست میں اتنا فرق اور تفاوت ہے کہ عام آدمی کو درپیش مصائب کا صحیح ادراک بھی حکمرانوں کو نہیں ہو سکتا۔ ہمارے یہ حکمران اپنے بوسیدہ اور گلے سڑے طرز حکمرانی کے ذریعے ہر روز کسی ’’نئے طرز حکمرانی‘‘ کی موت تو عوام کے لئے ایجاد کرسکتے ہیں، لیکن یہ قوم کے مسیحا کبھی نہیں بن سکتے۔ ویسے بھی حکمرانوں اور عوام کے درمیان پروٹوکول کی دیواریں اتنی اونچی ہوتی ہیں کہ عوام کی چیخیں اور کراہیں حکمرانوں تک نہیں پہنچتیں :

حاکمِ شہر کے اطراف وہ پہرہ کہ اب

شہر کے دکھ اسے موصول نہیں ہوسکتے

یہی وجہ ہے کہ ہمارے عوام تو زندگی سے بیگانے ہیں اور زندگی کی تمام تر خوشیاں حکمرانوں کے دامن میں موجود ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ جب تک چند لٹیرے ملک کے سارے وسائل پر قابض ہیں، اس وقت تک ظلم اور استحصال کا یہ نظام ختم نہیں ہوسکتا۔ عمران خان بھی صرف کرپشن کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس نظام کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کی، جس کی وجہ سے کرپشن اور بد عنوانی کے ناسور کو تحفظ حاصل ہے۔ جن لوگوں کی لوٹ کھسوٹ کے باعث عوام دکھ درد کے گردابوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جب وہی لوگ سیاست میں عمران خان کے بھی دست وبازو ہوں گے، تو عمران خان کسی لٹیرے اور استحصالی طبقے کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟ اہل زر کے خلاف جنگ اہل زر کے ذریعے نہیں جیتی جاسکتی۔ نظامِ زر انسانیت کا دشمن ہے۔ اس نظام زر کو برباد کرنے کی ضرورت ہے۔ اونچی اونچی کو ٹھیوں اور محلات میں رہنے والے مسلم لیگ (ن) میں ہوں، پیپلز پارٹی میں ہوں یا ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہو، ان میں سے کوئی بھی عوام کو خوشیاں نہیں دے سکتا۔

کرپشن بھی اس ملک میں اسی صورت ختم ہوسکتی ہے، جب اس جڑ کو ختم کیا جائے گا، جو کرپشن کو جنم دیتی رہتی ہے۔ ہمارے ملک کے حالات اس وقت تبدیل ہوں گے، جب یہاں غریب اور مظلوم طبقوں کے لوگ سراُٹھا کر چلیں گے اور وہ امیر ترین طبقے، جن کی ساری پہچان صرف ملک کے لوٹے ہوئے وسائل اور دولت کی وجہ سے ہے،ایسے لوگ معاشرے میں منہ چھپائے پھریں گے، تب ہم تسلیم کریں گے کہ ملک میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اگر نظام زر محفوظ رہے گا، تو پھر کرپشن بھی رہے گی، ظلم بھی رہے گا، استحصال بھی ہوگا، نا انصافی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا، غریبوں کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی رہے گی، مفلسوں کے گھروں میں چولہوں کی آگ بجھی رہے گی۔۔۔ صرف چہرے بدلیں گے، لیکن قاتل اور راہزن اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ اگر وہی زاغ و زغن جو اس وقت نواز شریف کے ساتھ ہیں، کل عمران خان کی جماعت کی اگلی صفوں میں موجود ہوں گے، تو نظامِ گلستان کبھی نہیں بدلے گا۔ حبیب جالب کا ایک سادہ سا شعر:

غم یہاں پر وہاں پہ شادی ہے

مسئلہ سارا اِقتصادی ہے

عمران خان پاناما کیس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے پر ضرور توجہ دیں، لیکن اس مسئلے پربھی غور کریں کہ دکھ درد عوام ہی کا مستقل مقدر کیوں ہیں۔ کیا اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں موجود جاگیر دارانہ نظام نہیں ہے؟کیا اس کا دوسرا سبب ملک کا بے لگام سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے؟قائداعظمؒ نے جولائی 1948ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں مغرب کے معاشی نظام کو عوام کی خوشحالی کا دشمن قرار دیا تھا۔ قائد اعظمؒ نے اپنی اس تقریر میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کی بات کی تھی۔ اگر ہمارے ملک میں اسلام کے اصولوں پر مبنی فلاحی نظام قائم ہو جائے تو پھر جاگیر داری کے موجودہ نظام کو کیسے جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے؟۔۔۔ جب تک ہم ملک میں غیر منصفانہ معاشی نظام کی محافظ ہر طاقت کو چیلنج نہیں کریں گے، ہمارے حالات نہیں بدل سکتے۔ عمران خان لندن میں نواز شریف یا ان کے بیٹوں کی ملکیتی جائیدادوں کے حوالے سے کرپشن کے حوالے سے ضرور تحریک چلا ئیں، لیکن مختلف شکلوں میں ہمارے ملک کے اندر ہی کرپشن کے جو کوہ ہمالیہ موجود ہیں، ان کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند کریں۔ عمران خان نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ کون سا کاروبار ہے، جس میں حرام اور ناجائز ذریعے سے اتنی دولت کمائی جاسکتی ہے کہ اس کاروبار سے منسلک ایک شخص اڑھائی تین ارب روپے کا ایک محل بناکر ایک سیاست دان کو تحفے میں دے سکتا ہے۔

اسی کاروبار سے متعلق ایک مشہور شخصیت عمران خان کے دو بڑے انویسٹرز میں سے ایک ہے۔ جس بزنس میں ایک لاکھ روپے کی زمین ایک کروڑ اور ایک کروڑ کی زمین پورے سو کروڑ میں بیچی جاتی ہو، کیا اس ’’منافع‘‘ کو آپ کرپشن نہیں کہیں گے اور پھر اس کرپشن کا حصہ تو کس کس کو پہنچتا ہے، یہ معلوم کرنے کے لئے کسی جے آئی ٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کرپشن کی تحقیق ایک دن میں ہوسکتی ہے، کیونکہ کرپشن کے پہاڑ آپ کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ معلوم نہیں کرپشن کے یہ پہاڑ عمران خان کی دور بین نگاہوں سے اوجھل کیوں ہیں؟ کیا کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ وہ ملک کا وزیر اعظم ہو؟ کیا کرپشن کے حوالے سے بھی ہمارے اپنے اپنے ہدف ہیں؟شہباز شریف کا کرپشن کے حوالے سے ہدف آصف علی زرداری( اب وہ بھی نہیں)۔ عمران کا ہدف نواز شریف، وہ بھی شاید اس وقت تک جب تک وہ وزیر اعظم کی مسند پر موجود ہیں۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ اگر عمران خان کے نزدیک کرپشن ہی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو پھر کرپشن کے پہاڑ نظر انداز کیوں؟ کرپشن کے ان پہاڑوں کی طاقت کا اندازہ تو لگائیں، جو عمران خان جیسے شخص کو بھی نابینا کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

مزید :

کالم -