باردانہ، ظلم کا فسانہ

باردانہ، ظلم کا فسانہ
 باردانہ، ظلم کا فسانہ

  

پنجاب میں یہ کیسی گڈ گورننس ہے جو وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی میں ایک دن بھی نہیں چلتی اور انہیں بیجنگ میں بیٹھ کر یہ پیغام دینا پڑتا ہے کہ سنبھل جاؤ، مَیں آ رہا ہے ہم تو ہزار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہر کام وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے پر ہی ہونا ہے تو تف ہے ایسے نظام پر، ایک وزیراعلیٰ کروڑوں کی آبادی والے صوبے کے ہر ہر واقعہ کا کیسے نوٹس لے سکتا ہے؟ یہ بیورو کریسی، پولیس، صحت اور تعلیم کے ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟ کیوں کام نہیں کرتے اور کیوں ہر وقت وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے کا انتظار کرنے میں اپنی روٹی حرام کرتے ہیں؟ اب وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تازہ ترین نوٹس گندم کی خریداری میں کرپشن کی خبروں پر لیا ہے اور واپس آ کر سخت کارروائی کرنے کا اعلان ہے۔ معاف کیجئے میرے نزدیک تو یہ ایک ڈھکوسلا ہے، کیونکہ جب وزیراعلیٰ پاکستان میں تھے، تب بھی روزانہ ہی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر یہ خبر نشر ہوتی تھی کہ غریب کاشتکاروں کو اپنی گندم بیچنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے،باردانہ کے حصول میں کرپشن کا دور دورہ ہے،وزیراعلیٰ نے اِس حوالے سے مختلف شہروں کا دورہ بھی کیا اور ملتان، وہاڑی، لودھراں، مظفر گڑھ اگرچہ وہ نہیں آ سکے، مگر ہر روز اُن کے لئے ہیلی پیڈ تیار رکھا جاتا تھا کہ وہ کسی وقت بھی آ سکتے ہیں، اس کے باوجود گندم خریداری میں لوٹ مار کا سلسلہ کہاں رکا ہے جو اب اُن کے آنے پر رکے گا۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کو کیا بیجنگ جا کر اس کا علم ہوا ہے کہ کاشتکار اپنی گندم بیچنے کے لئے لاٹھیاں کھا رہے ہیں،گرمی میں بے ہوش ہو رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنی سال بھر کی کمائی پر سرکاری عمال آڑھتیوں اور ایم این ایز، ایم پی ایز کو شب خون مارتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ تو ایک سیاسی فائدے کے لئے لاہور سے جاری کردہ بیان ہے، جس کی شاید وزیراعلیٰ کو خبر تک نہیں ہو گی۔

اب فرض کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف چین سے واپس آ جاتے ہیں اور کسانوں کو ریلیف دینے کے لئے نکل پڑتے ہیں تو وہ کتنے کسانوں کو ریلیف دے پائیں گے؟ اُن کا چند منٹ کا دورہ کیا ریلیف دے سکے گا؟ایک دو گندم خریداری کرنے والے افسران کو معطل کر کے اور روایتی بیانات دے کر وہ پٹواری، تحصیلدار آڑھتی اور سب سے بڑھ کر محکمے کے افسران کی ملی بھگت سے ہونے والی اربوں کی اس لوٹ مار کو کیسے روک سکیں گے؟ یہ منظم مافیا تو کسی صورت قابو نہیں آنے والا، کیونکہ جس کا ایک سیزن لگ جائے،وہ اگلے کئی برسوں تک روزگار کی فکر سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ کام تو اُسی صورت میں رک سکتا ہے، جب گندم خریداری کے عمل کو کسی شفاف ضابطے تلے لایا جائے۔اب تو کاشتکار کو صرف باردانہ لینے کے لئے پولیس کی لاٹھیاں بھی کھانا پڑتی ہیں اور کئی کئی دن انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ کرپشن تو خود اس باردانہ کی تقسیم میں رکھ دی گئی ہے۔ پٹواری، تحصیلدار کے ہاتھ میں بے محابا اختیارات ہیں، وہ جو چاہیں کریں، کسی کو ایک ایکڑ کی کاشت کا باردانہ دیں اور کسی کو دس ایکڑ کا دے دیں۔ کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ،ایک ایک بوری پر رشوت لینے والا یہ مافیا غریب کاشتکاروں پر گدھ بن کر ٹوٹ پڑتا ہے۔ کہنے کو گندم کا سرکاری ریٹ 1300 روپے من ہے، لیکن حقیقت میں کاشتکار کو 1100روپے بھی نہیں ملتے، سب مل کر اس کی پونجی پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف پنجاب حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا ہے،دوسری طرف کاشت کا فیصلہ پٹواری کرتا ہے۔ کیا حکومت گندم کی فصل آنے سے بہت پہلے یہ سروے نہیں کرا سکتی کہ کس زمیندار یا کاشت کار نے کتنے رقبے پر گندم کاشت کی ہے، کیا اس سروے کی بنیاد پر کاشتکاروں کو بار دانہ کی سلپس جاری نہیں کی جا سکتیں اور کیا اس بار دانے کی خرید کے لئے حکومت بااختیار سیلز پوائنٹ نہیں بنا سکتی تاکہ وہاں سے کاشتکار اپنے منظور شدہ کوٹے کے مطابق باردانہ خرید سکیں۔یہ سب کام بڑے سہل طریقے سے ہو سکتا ہے، مگر کرپٹ نظام کے پروردہ عناصر یہ ہونے نہیں دیتے، کیونکہ اس طرح اُن کی لوٹ مار کا سلسلہ بند ہو سکتا ہے۔

اس وقت خریداری کا جو نظام چل رہا ہے، اس میں گندم کی خریداری سے زیادہ بار دانے (بوری) کے حصول پر جنگ جاری ہے۔ ابھی چند ہی روز پہلے ٹی وی پر یہ خبر تھی، جس کی فوٹیج بھی چلی کہ ایک ایم پی اے کے بھائی نے زبردستی بار دانے کی 1200 بوریاں اٹھائیں اور گاڑی میں ڈال کر چلتا بنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی سارے اعداد و شمار بے کار جاتے ہیں،اگر بندے کے پاس بار دانہ ہو۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گندم کی خریداری میں کرپشن کا کس قدر کھلا امکان موجود ہے، یعنی آپ جسے چاہیں باردانہ دیں اور اُس کی گندم بغیر کسی استحقاق کے خرید لیں، جبکہ جو حقیقی کاشتکار ہیں، اُنہیں ایڑھیاں رگڑنے کی مشق پر لگا دیں۔ منڈیوں میں بیٹھا ہوا آڑھتی مافیا اِس سارے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ بار دانے میں مشکلات پیدا کر کے کاشتکاروں کی گندم اُونے پونے داموں خریدتا ہے پھر خریداری مراکز کے عملے کی ملی بھگت سے باردانہ لے کر وہی گندم سرکاری ریٹ پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کماتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک ایسے ہی آڑھتی کے گودام سے سرکاری بار دانے میں سٹور کی گئی ساڑھے تین ہزار بوریاں برآمد کی گئی ہیں۔

یہ سب اس وجہ سے ہے کہ باردانے کی تقسیم کا انتہائی احمقانہ نظام رکھا گیا ہے، جس میں کسی میرٹ کی بجائے پٹواری اور عملے کی ملی بھگت سے باردانہ دیا جاتا ہے۔ آپ پنجاب کے حالات پر غور کریں تو آپ کو ہر ڈویژن کا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسی کام پر لگا نظر آئے گا۔ کہیں وزن ماپنے والا کانٹا چیک ہو رہا ہے تو کہیں باردانے کی تقسیم پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس طرح سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کتنے خریداری مراکز کا دورہ کر سکتے ہیں، پھر ان کے آنے کی تو پہلے سے خبر ہو جاتی ہے۔ ان کے سامنے تو سب کچھ قانون و قاعدے کے مطابق کیا جاتا ہے، مگر ان کے جاتے ہی کاشتکاروں پر چُھری چلا دی جاتی ہے، جس نے شکایت کی ہوتی ہے، اسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی گندم میں مٹی کی ملاوٹ کا الزام لگا کر اُسے ناقابلِ خرید قرار دے دیا جاتا ہے۔ وہ جو پہلے ہی بار دانہ لینے کے لمبے عمل کے بعد نڈھال ہو چکا ہوتا ہے، اُس پر یہ خبر بجلی بن کر گرتی ہے۔ وہ عملے کے پاؤں پڑ جاتا ہے اور اُس کی یہ حالت باقیوں کے لئے ایک عبرت ناک سبق بن جاتی ہے۔

کاشتکاروں پر ایک اور ظلم یہ روا رکھا جا رہا ہے کہ اُن کی گندم سے چار یا پانچ کلو فی بوری کٹوتی کر لی جاتی ہے۔یہ کٹوتی عملی طور پر نہیں ہوتی،بلکہ اس کے پورے وزن میں سے اسے منہا کر کے اسے خریداری کی رسید دی جاتی ہے۔ اس طرح روزانہ ہر خریداری مرکز پر یہ عمل روا رکھا جاتا ہے اور ہزاروں من گندم کاٹ لی جاتی ہے۔۔۔ اگر کوئی آواز اٹھائے تو اس کی گندم میں مٹی اور توڑی کی ملاوٹ کا الزام لگا کر خریدنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی واردات ہے جسے کوئی پکڑ بھی نہیں سکتا، کیونکہ بالفرض اگر کوئی کاشتکار سو بوری گندم لایا ہے تو موقع پر اس کی وہ ساری گندم چیک نہیں ہو سکتی۔ کوئی افسر بھی یہ رسک نہیں لیتا کہ خریداری عملے کو یہ حکم دے کہ وہ کاشتکار کی گندم خرید لے، کیونکہ پھر اُس پر ناقص گندم خریدنے کا الزام لگ سکتا ہے، سو ہر طرح سے کاشتکار کو ہی لوٹا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اب ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے۔حکومت نے1300روپے فی من گندم خریدنے کا ریٹ کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے رکھا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا نہ تو کاشتکاروں کو فائدہ ہو رہا ہے اور نہ عوام کو، بلکہ اس سے فائدہ وہ سرمایہ دار آڑھتی اُٹھا رہے ہیں، جو عملے کی ملی بھگت سے سرکاری خریداری کے عمل کو ہائی جیک کر لیتے ہیں اور عوام کے لئے دی گئی ساری سبسڈی خود لے جاتے ہیں۔عوام کے لئے گندم کو سستا کیا جانا چاہئے، یہ مصنوعی قیمت ہے جو حکومت نے مقرر کر رکھی ہے۔اس سے بہتر ہے کہ حکومت کاشتکاروں کو کھادوں، بجلی اور پانی کی مدات میں ریلیف دے۔جتنا پیسہ گندم کی سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہی اگر کسانوں کو ریلیف دینے پر خرچ کیا جائے تو ان کی پیداواری لاگت بھی کم ہو جائے گی اور عوام کو آٹا بھی سستا مل سکے گا، مگر ایسا ہو گا نہیں۔۔۔چونکہ جو بااثر زمیندار اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں،اُن کی گندم کا دانہ دانہ سرکاری ریٹ پر بک جاتا ہے۔ وہ اس نظام کو کہاں ختم ہونے دیں گے؟ یہ نظام اِسی طرح چلتا رہے گا اور کسانوں کو اس کھیت سے روزی نہیں مل سکے گی، جس پر وہ سارا سال ہل چلاتا اور اپنا خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔

مزید :

کالم -