ایثار رانا اور ’’آہونی آہو‘‘!

ایثار رانا اور ’’آہونی آہو‘‘!
 ایثار رانا اور ’’آہونی آہو‘‘!

  

پچھلے برس اسی اخبار کے صفحہ ء اول پر یک کالمی سائز پر کالم نگاروں کے نام اور کالموں کے عنوانات دینے کا سلسلہ شروع ہوا جو چند روز بعد بند کر دیا گیا۔ اس بندش کا حکم کہاں سے آیا تھا، یہ معلوم نہ ہو سکا۔ اس صورتِ حال پر میں نے ان دنوں اپنے کسی کالم میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اول تو کسی بھی اخبار میں اس کے دو صفحات (اول و آخر) نظر تلے گزارنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ سات منٹ صرف ہوتے ہیں۔ اس زود خواندگی کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔

ایک تو یہ کہ یہ تمام خبریں ایک روز (یا ایک شب) پہلے ای (E) میڈیا پر آ چکی ہوتی ہیں۔ اور دوسرے دورافتادہ گاؤں کے وہ لوگ جن کے پاس ٹی وی سیٹ خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی یا وہاں ٹی وی نشریات پہنچ نہیں پاتیں وہ اپنے ریڈیو پر یہ ساری خبریں جو اخبار کے اول و آخر صفحات کی زینت بنتی ہیں سن چکے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی بھی اخبار کے ادارتی صفحات ایسا تحریری آئینہ ہوتے ہیں جس میں بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو درجن بھر قومی اخبارات میں کالم لکھنے والوں کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ ’’آواز‘‘ ٹی وی میں نہ صرف ملک کے ممتاز (یا غیر ممتاز) کالم نویسوں کی پوری فہرست موجود ہے بلکہ ان کے روزانہ کالموں کی تفصیل بھی دیکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ آج کل نیٹ پر جا کر آپ کسی بھی اخبار کو پڑھ سکتے ہیں اور جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ان اخباروں میں قابلِ خواندگی و توجہ مواد ’’خبریں‘‘ نہیں، کالم ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اردو پڑھنے والے قارئین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور اس ’’آواز‘‘ ٹی وی میں یہ تفصیل بھی موجود ہوتی ہے کہ کس کالم کو کتنے لوگوں نے پڑھا ہے۔ یہ تعداد گویا کالم نویس کی ریٹنگ کہی جا سکتی ہے!

میں اوپر یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے پاکستان اخبار میں ایک سال پہلے چند روز تک صفحہ ء اول پر کالم نویسوں اور ان کے کالموں کے نام آتے رہے اور پھر بند ہو گئے۔ لیکن ایک نام جو بند نہ کیا گیا وہ برادرم مجیب الرحمن شامی صاحب کا تھا۔ ان کا ایک کالم ہر اتوار کو ’’جلسہء عام‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہو رہا ہے۔ ہر اتوار کو صفحہ ء اول پر ایک ’’یک کالمی‘‘ خبر یہ بھی دی ہوئی ہوتی ہے کہ ’’مجیب الرحمن شامی کا فلاں کالم فلاح صفحہ پر ملاحظہ کیجئے۔‘‘ میں نے اس ’’امتیازی سلوک‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ باقی کالم نویسوں کے نام تو صفحہ ء اول پر شائع کرنے بند کر دیئے گئے ہیں لیکن شامی صاحب کا کالم جو اتوار کے اتوار آتا ہے اس کا ذکر ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ کیا اسے اشتہار سمجھا جائے؟ کیا ان کے کالم کا ذکر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اخبار کے چیف ایڈیٹر اور مالک ہیں؟۔۔۔ اور ساتھ ہی میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ شامی صاحب اب ایک ایسے صحافی بن چکے ہیں کہ جن کے تعارف کی کوئی ضرورت نہیں۔ دنیا بھر کے صحافتی حلقوں میں ان کا نام جانا پہچانا جاتا ہے اور لوگ ان کو سنتے، دیکھتے اور پڑھتے ہیں، لہٰذا ان کو کسی اشتہار وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن میرا وہ کالم شائد شامی صاحب کی نگاہوں سے نہ گزرا۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اخبار والوں کو اس پریکٹس کو ختم کرنے کی ہدایات ضرور جاری کرتے۔۔۔ تاہم گزشتہ دو تین اتواریں ایسی گزری ہیں جن میں ’’پاکستان‘‘ کے صفحہ اول پر ان کے کالم کا ذکر موجود نہیں ہوتا لیکن ادارتی صفحہ پر ان کا کالم موجود ہوتا ہے۔ طبیعت گدگدائی کہ ان کو فون کرکے پوچھوں کہ کیا اس دیرینہ پریکٹس کی بندش کی ہدائت انہوں نے خود کروائی ہے یا کسی گروپ ایڈیٹر نے یہ جسارت کی ہے۔

لیکن یہی وتیرہ اب ایک اور نام سے شروع ہو چکا ہے۔ تین چار دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ اخبار کے صفحہ ء اول پر ایک ایسا ہی ’’یک کالمی اشتہار‘‘ چھپا ہوتا ہے۔ 10مئی 2017ء کے اخبار کے صفحہ ء اول پر بھی یہ اشتہار اس طرح لگایا گیا ہے: ’’ایثار رانا کا کالم پریشر گروپ صفحہ 3پر ملاحظہ فرمائیں‘‘۔۔۔ یہ ایثار رانا صاحب کون ہیں، میں قارئین کو ان کے بارے میں اپنے مختصر ذاتی تاثرات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

چند ہفتے پہلے میں نے نوٹ کیا کہ اخبار (پاکستان) کا حلیہ بدل رہا ہے۔ خبروں کی تحاریر کے ساتھ تصاویر کا لاؤ لشکر اس انداز سے زینتِ اشاعت بن رہا ہے کہ پڑھنے والا، تصویر دیکھ کر تحریر ضرور پڑھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں تحریر و تصویر کا ایک تناسب موجود ہوتا ہے۔ اگر اس تناسب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا جائے تو پڑھنے والا اکتا جاتا ہے۔بعض اوقات تحریراور بعض دفعہ تصویر کی افراط و تفریط کی وجہ سے نہ صرف اول و آخر صفحات پر تحریر و تصویر کا یہ تناسب ضروری خیال کیا جاتا ہے بلکہ اخبار کے اندرونی صفحات پر بھی یہی فارمولا لاگو ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلی بار ’’پاکستان‘‘ میں تحریر و تصویر کی یہ متناسب آمیزش پوری آب و تاب سے موجود تھی۔ میں نے رفقائے کار سے پوچھا: ’’اس خوشگوار تبدیلی کی پشت پر کون ہے؟‘‘۔۔۔ مجھے پتہ چلا اس شخص کا نام ایثار رانا ہے اور وہ شام کو اس وقت اخبار کے دفتر میں آتے ہیں جب میں اپنا کام ختم کرکے اور اپنے کالم وغیرہ کی پروف خوانی کے بعد گھر جا چکا ہوتا ہوں۔

پھر ایک تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ میرے دفتر کے ساتھ والے ایک دفتر میں کہ جس میں ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کا مدیر اور ان کے دوسرے رفقاء بیٹھتے تھے ان کو کسی اور دفتر میں منتقل کرکے دفتر کی تزئینِ نو کی جا رہی ہے۔ تقریباً دو تین ہفتوں کے بعد دیکھا تو دفتر کا حلیہ بدل چکا تھا۔ لگتا تھا کسی نوجوان مطلقہ یا بیوہ خاتون کا حجلہ ء عروسی تعمیر کر دیا گیا ہے۔۔۔۔نئی میز، نئی کرسیاں، نئے صوفے سیٹ، نیا ائر کنڈیشنر اور میز پر نیا سازوسامانِ نوشت و خواند۔۔۔ میں نے سوچا یہ ہمسائے میں کون وی آئی پی آ رہا ہے جس کے لئے یہ اہتمام کئے جا رہے ہیں۔ پتہ چلا یہ ایثار رانا صاحب کا نیا دفتر ہے اور وہ گروپ ایڈیٹر کوآرڈی نیشن مقرر کئے گئے ہیں ۔اگلے روز وہ شام کی بجائے صبح دس بجے دفتر میں تشریف لائے تو چونکہ یہ دفتر اطراف و جوانب سے ’’شیشہ بازی‘‘ کا مرقع تھا اس لئے میں نے ان کو بیٹھا دیکھ کر ان کے دفتر کا دروازہ کھولا اور اندر جاکر ان سے مصافحہ کیا۔ پہلی نظر میں وہ مجھے کچھ لئے دیئے سے معلوم ہوئے اور میں نے بھی زیادہ کھلنا یا کھولنا گوارا نہ کیا۔ صرف اتنا کہا : ’’آپ نے تصاویر و تحاریر کی آمیزش کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اور خبروں کی گسترش (Layout) کو جو نیا رنگ و آہنگ دیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ تصویری مواد کو تھوڑا سا کم کر دیں تاکہ قارئین، تحریری مواد سے بھی لطف اندوز ہو سکیں جو کسی بھی اخبار کا اصل منتہائے مقصود ہوتا ہے‘‘۔۔۔۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ میں نے اجازت لی اور کمرے سے باہر آ گیا۔ خیال تھا وہ بھی کبھی ہمسائے میں جوابی وزٹ کا ’’تکلف‘‘ گوارا فرمائیں گے لیکن شائد ان کی مصروفیات زیادہ ہوں گی یا شائد کوئی اور وجہ ہوگی جو ایک سابق فوجی اور ایک کہنہ مشق صحافی کے درمیان سبب امتیاز بن گئی! بعد میں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ اگرچہ لمحاتی اور آنی تھی لیکن میں نے ان کو انتہائی خلیق اور مہذب بلکہ ’’بزرگوں‘‘ کا مودب پایا۔

بہر کیف آج ایثار رانا صاحب کے کالم کا عنوان تھا: ’’آہو نی آہو‘‘۔۔۔ میں بالعموم ادارتی صفحہ کے کالموں کے علاوہ باقی صفحات کے کالم کم کم پڑھتا ہوں۔ اور یہ کالم صفحہ تین پر تھا۔ میں نے کالم پر طائرانہ نظر ڈالی تو اس وقت گھونسلے میں بیٹھا رہنا پڑا جب تک گھونسلے کا سارا جغرافیہ دیکھ نہ لیا۔۔۔ مجھے کالم لکھتے اور پڑھتے (بعد از ریٹائرمنٹ) 20برس ہو چکے ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہوں کہ ریٹائر ہونے سے پہلے بھی برسوں تک مختلف زبانوں (بشمول پنجابی) کے ادب و شعر کے سرمائے سے بھی شغف رہا تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

میرا موسیقی کا شوق بچپن ہی میں ذوق میں تبدیل ہو گیا تھا۔ 1950ء سے 1965ء تک کوئی بھارتی یا پاکستانی فلم ایسی نہ تھی جس کو کم از کم ایک بار نہ دیکھا ہو۔ بعضوں کے مکالمے اب تک از بر ہیں اور گیتوں کی دھنیں اپنی ’’بے سُری‘‘ آواز میں واش روم میں جا کر سنتا ہوں تو مجھے تو ’’فردوسِ گوش‘‘ معلوم ہوتی ہیں لیکن میری اہلیہ مرحومہ کہا کرتی تھیں کہ واش روم میں جا کر آواز کی تھرتھراہٹ کو تو ’’واش‘‘ کر لیا کرو!۔۔۔ میں نے اپنے اس پس منظر کے ساتھ ’’آہو نی آہو‘‘ کا مطالعہ کیا تو کئی بار زبان سے ’’واہ واہ‘‘ کی صدائیں بلند ہوئیں اور میں نے سوچا کہ ایثار رانا نہ صرف ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں بلکہ ایک زیادہ منجھے ہوئے گلوکار بھی ہوں گے جو میری طرح شائد واش روم میں جا کر دھن کی واشنگ کا وہ اہتمام نہ کرتے ہوں جس کا اشارہ میری اہلیہ مرحومہ نے مجھے دیا تھا۔

ایثار رانا کے اس کالم میں کئی چیزیں نادر اور جداگانہ ہیں۔ مثلاً اس کا انداز تحریر، اردو اور پنجابی الفاظ و محاورات کی آمیزش، مقصودِ گفتگو کا ایجاز و اختصار، تلمیحات کا ایسا وافر استعمال جو آج کل کے کالم نگاروں کے ہاں عنقا ہے اور وہ تلمیحات جو اردو زبان کے علاوہ پنجابی زبان کے ادب میں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ البتہ ان کو استعمال میں لانے کے لئے جب تک پنجابی ادب کا گہرا مطالعہ نہ ہو، جب تک پنجابی فلموں کے مکالموں کا وہ ادبی شعور نہ ہو جو فلم کے سکرپٹ رائٹر کے پیش نظر ہوتا ہے، جب تک مختصر لیکن زور دار لطائف کو تحریر میں ایڈجسٹ کرنے کے فن سے آگہی نہ ہو، جب تک علاقائی سیاسیات کی گہرائیوں کی شناوری کا سلیقہ نہ ہو اور جب تک شعر و شاعری کا عمومی شعور نہ ہو، اس قسم کی تحریر جو میں نے ’’آہو نی آہو‘‘ میں پڑھی، نہیں لکھی جا سکتی!

میں ایثار رانا سے درخواست کروں گا کہ وہ اس قسم کے کالموں کا سلسلہ جاری رکھیں۔آج کا میڈیا (پرنٹ ہو کہ الیکٹرانک) ناظرین و قارئین کو مسکرانے کا موقع نہیں دیتا، کفِ افسوس ملنے، پچھتانے، آہ و زاری کی طرف مائل کرنے اور دل و دماغ کو برہمی اور جانبداری کی آگ میں جلنے کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ گئے زمانوں میں اخبارات میں ایسے کالم بھی ہوتے تھے جو قاری کو مسکرانے بلکہ قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا کرتے تھے۔ آج ان کا قحط ہے اور یہ روش پوری قوم اور خاص طور پر نژادِ نو کی نفسیاتی صحت کے لئے از بس خطرناک ہے۔ مایوسی گناہ ہے لیکن یہ دعوتِ گناہ ہمیں ہر روز میڈیا کے پرائم ٹائم کے توسط سے ’’مفت‘‘ عطا کی جاتی ہے۔۔۔۔ ایثار رانا کے کالموں جیسے کالم اب خال خال پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اسی لئے میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی اس روشِ تحریر سے سنجیدہ اور رنجیدہ قوم کو مسکان دیدہ اور خرامیدہ روش کی طرف لے جانے کی کاوش میں تساہل نہیں کریں گے!

مزید :

کالم -