ایک خطہ ایک سڑک ‘‘ کا نظریہ انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ، فلیگ شپ منصوبہ پورے خطے کیلئے مفید ہوگا:سرتاج عزیز

ایک خطہ ایک سڑک ‘‘ کا نظریہ انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ، ...
 ایک خطہ ایک سڑک ‘‘ کا نظریہ انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ، فلیگ شپ منصوبہ پورے خطے کیلئے مفید ہوگا:سرتاج عزیز

  

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ’’  ایک خطہ ایک سڑک ‘‘ کا نظریہ عصر حاضر کی تاریخ کا انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ہے جو دنیا کے عوام کے مابین مشترکہ امیدوں ، خوشحالی اور فائدہ مند تعاون کا عکاس ہے، فلیگ شپ منصوبہ نہ صرف قومی سطح پر فائدہ دے گا بلکہ پورے خطے کیلئے مفید ہوگا۔

اتوار کو بیجنگ میں تھنک ٹینکس کے روابط کے حوالے سے موضوعاتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی منسلکی میں سڑکوں، ریلوے، سمندری، بندرگاہوں کے روابط اور پالیسی، تجارت اور مالیات کی منسلکی شامل ہیں۔ تاہم ہم اس کے ساتھ ساتھ چند تاریخی رجحانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے اعتبار سے ایک خطہ ایک سڑک کا اقدام سوچوں، افکار اور ثقافتوں کا احاطہ کرتا ہے اور تھنک ٹیکنس اس کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھنک ٹینکس کا مباحثہ ایک خطہ ایک روڈ میں شامل ممالک کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اقدام اور جذبے کو سراہتا ہے ۔ مشترکہ شراکت داری اور رضاکارانہ تعاون اس منصوبے کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ چین نے درکار تعاون کا طریقہ کار وضع کیا ہے اور اسے حقیقت کا روپ دھارنے کیلئے اپنے ٹیکنالوجی اور وسائل کو بروئے کار لایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان پہلے فلیگ شپ بیلٹ انٹر روڈ انیشیٹو کا حصہ بننے کا استحقاق حاصل کر چکا ہے، سی پیک پر زور و شور سے کام جاری ہے، پہلے مرحلے میں درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی پیداوار اور ترسیل کے متعدد منصوبے قائم کئے جارہے ہیں اور گوادر بندرگاہ کو ایک خطہ ایک سڑک کے سنگ میل کی حیثیت سے ترقی دی جارہی ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ متعدد خصوصی اقتصادی زونز کا قیام سی پیک کا اہم حصہ ہے۔ چین کی حکومت، ریاستی ملکی کاروباری اور مالیاتی ادارے سی پیک کے منصوبوں کیلئے فنڈز، ٹیکنالوجی اور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں گیس اور تیل کے ٹرمینل کو توانائی کی ترسیل کی جائے گی جس کیلئے مغربی چین سے تیل اور گیس کی ترسیل کی لائنیں بچھائی جارہی ہیں۔ یہ فلیگ شپ منصوبہ نہ صرف قومی سطح پر فائدہ دے گا بلکہ پورے خطے کیلئے مفید ہوگا۔ ماہرین تعلیم، سکالرز، پیشہ ور اور تجربہ کار افراد اور تھنک ٹیکنس آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ افکار رابطوں سے معلومات، باہمی سیکھنے کا عمل، مشترکہ تحقیق کو بھی ایک خطہ ایک سڑک سے منسلک ممالک میں فروغ ملے گا۔ پاکستان تھنک ٹیکنس سے اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستانی تھنک ٹیکنس پہلے ہی اپنے ہم منصب چین کے ساتھ گہرے روابط قائم کر چکا ہے اور یہ روابط باہمی مفاہمت اور ایک خطہ ایک سڑک کے وژن کو سمجھنے اور دونوں ممالک کے عوام کے مابین روابط کے فروغ کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک خطہ ایک سڑک سے منسلک ہونے والے ممالک کے تھنک ٹیکنس کو بھی چاہئے کہ وہ ان تجربات سے استفادہ کرنے کیلئے مل کر کام کیلئے آگے بڑھیں۔ ابتداء میں قدیم شاہراہ رستم کی بحالی کی گئی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ یورو ایشیا کے اربوں عوام کا یہ دیرینہ خواب تھا، چینی صدر کے وژن نے اس خواب کو تعبیر دی، تھنک ٹیکنس کو تاریخی اور شناختی روابط کو فروغ دینے کیلئے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے نمبر پر ایک خطہ ایک سڑک اس وقت آیا ہے جب عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس موڑ پر علاقائی سیاست کے منفی تاثرات ، عالمگیریت مخالف جذبات کو زائل کرنے اور حفاظتی اقدامات کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ لوگوں کی سامان کی ترسیل کو محفوظ ہو اور منفی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ عوام کے عوام سے روابط کے فروغ کیلئے ثقافتی روابط کو بڑھانے کیلئے اور بھی اقدامات تجویز کئے۔ انہوں نے چین کی حکومت، قیادت اور چین کے عوام کو مبارکباد پیش کی جن کی کوششیں رنگ لارہی ہیں اور ایسے بڑے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔

مزید :

قومی -