سیالکوٹ انٹرنیشنل اےئرپورٹ کا منصوبہ خطے کی تاریخ بدل دے گا

سیالکوٹ انٹرنیشنل اےئرپورٹ کا منصوبہ خطے کی تاریخ بدل دے گا

  

وطن عزیز میں سیالکوٹ ایک ایسا شہر ہے جس کے شہریوں نے اپنے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے انہیں خود حل کرنے کی روایت قائم کی ہے جسے ملکی اور بین القوامی سطح پر بھر پور پذیرآئی ملی ہے اور ہر کوئی سیالکوٹ کے عوام خصوصاً یہاں کی کاروباری برادری کی تعریف کرتا نظر آتا ہے۔

آج آپ کی ملاقات سیالکوٹ میں اپنی مدد آپ کے تحت پایہء تکمیل پانے والے انتہائی کامیاب منصوبے یعنی سیالکوٹ انٹرنیشنل اےئرپورٹ کے چےئرمین ملک محمد اشرف اعوان سے کروارہے ہیں جو بھی عزم و ہمت کی ایک روشن مثال ہیں ۔ ہیڈ مرالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مہموں جوائیہ میں پیدا ہونے والے اپنے گاؤں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ننھیال کے گاؤں بھگوال اعواناں کے سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیالکوٹ کے ایک مقامی کالج سے گریجوایشن کرنے بعد مختلف اداروں جن میں سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت بھی شامل ہے ملازمت کی اور پھر ڈاکٹری آلات بنانے کا کام شروع کیا اور ان آلات کی بیرون ملک ایکسپورٹ شروع کی اور اپنی محنت ، لگن ، ایمانداری،سچائی اور حق بات کہنے کی وجہ سے شہر میں مقبولیت حاصل کی۔جس چیمبر میں بطور کلرک کام کیا اسی چیمبر میں نائب صدر بھی رہے جبکہ سیالکوٹ انٹر نیشنل اےئرپورٹ کے بھی وائس چےئرمین بھی رہے لیکن ملک محمد اشرف اعوان کے لیے یہ امر بھی باعث اعزاز ہے کہ یہ سیال کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز نے ان کے عہدے کی مدت 31 دسمبر 2016 سے 30 جون 2017 تک بڑھا کر ان کی خدمات مزید چھ ماہ کے لیے جاری رکھنے کا جو فیصلہ کیا وہ بھی اےئرپورٹ کی تاریخ میں ایک قابل ذکر اضافہ ہے۔

چےئرمین محمد اشرف اعوان نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ بلا شبہ دنیائے تاریخ کا ایک ایسا منفرد منصوبہ ہے جس نے جہاں دنیا بھر میں سیالکوٹ کو ایک نئی پہچان اور شان دی ہے وہاں اس اچھوتے منصوبے کے خالقین اور ان کے ساتھیوں کی جدت پسندی، بلند حوصلگی، اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومتوں اور انتطامیہ کی طرف امید یں لگا کر بیٹھے رہنے کی بجائے اپنے مسائل اپنی مدد آپ کے تحت خودحل کرنے کے سہنری اصول پر عمل کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنانے کی ایک لازوال مثال قائم ہوئی جس سے ان کے عزت و وقار اور احترام میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔

ملک صاحب نے بتایا کہ سیالکوٹ کے صنعت کاروں اور برآمد کندگان کی طرف سے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے سیرت اسٹڈی سینٹر کی تعمیر ، نجی شعبے میں اس خطے کی اولین ڈرائی پورٹ کے قیام ، اپنی مد دآپ کے تحت سکول وکالج ، ڈسپنریاں ، ہسپتال، کھیلوں اور تفریخ کے میدان بنانے، سٹی ترقیاتی پیکج کے تحت سٹرکوں کی تعمیر،فٹ بال کی صنعت کو بچوں کی مزدوری سے پاک کرنے ، آئین پاکستان میں قوم سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے اور بچوں کو ان کا تعلیم جیسا حق دلانے کے لیے حکومت پنجاب ، بچوں کے عالمی ادارے یونیسف اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے یونیورسل پرائمری ایجوکشن پر و جیکٹ کے کامیاب ماڈل کو متعارف کروانے، سیالکوٹ کے شہریوں کوبہترین سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سیالکوٹ ٹرانسپورٹ کمپنی قائم کرنے،بے روزگار افراد کو سود سے پاک قرضے فراہم کرنے کے لیے خود کفالت روز گار اسکیم شروع کرنے اور برآمدات کے فروغ کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے قیام جیسے لاتعداد منصوبے مکمل کرنے کی وجہ سے اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں لیکن سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے منصوبے نے تو سیالکوٹیوں کی پوری دنیا میں دھاک بٹھا دی۔ اس منصوبے کی وجہ سے تو اس خطے خاص طور پر سیالکوٹ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے عوام کی تو قسمت بدلنے لگی ہے۔ سیالکوٹ اور اس سے ملحقہ اضلاع کی برآمدی تجارتی مصنوعات کی بیرون ملک تیز ترین ترسیل اور کاروباری برادری کو اپنے ہی علاقے میں بین القوامی اےئر پورٹ کی سہولت ملنے سے ان کا قیمتی وقت اور سرمایہ بچنے لگا ہے جبکہ تارکین وطن کی تو اپنے ہی علاقے میں آمد اور روانگی سے لاہور اور اسلام آباد کے مہنگے اور تکلیف دہ سفر اور ٹریفک جام سے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی ہے۔اب اس علاقے کے لوگ پیدل اور موٹر سائیکل پر آکر جہاز پر سوار ہوتے ہیں۔اس علاقے میں بے شمار رہائشی سکیمیں بن رہی ہیں جدید ترین سکول اور کالج بن رہے ہیں ۔ علاقے میں سماجی و معاشی انقلاب بر پا ہو نے لگا ہے جس پر سب ڈائریکٹران اور حصہ داران اللہ تبارک تعالیٰ کے انہتائی شکر گزار ہیں۔ ملک صاحب انتہائی خوشی سے بتارہے تھے کہ سیالکوٹ میں آنے والا کوئی ملکی و غیر ملکی گاہک یا مہمان، افسر، سفارت کار سیالکوٹ کے زندہ دل شہریوں کے منصوبوں خاص طور پر سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ملک اور بیرون ملک بھی ان کامیابیوں کا ذکر ہو تا رہتا ہے ۔ ان کا میابیوں کے پیچھے جہاں سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت اور اس کی لیڈر شپ انتہائی متحرک نظر آتی ہے وہاں سیالکوٹ انٹر نیشنل ائر پورٹ کمپنی کی ولولہ انگیز قیادت اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، جدو جہد اور مسلسل کاوشیں شامل ہیں۔ ملک صاحب اس بات پر گلا کرتے نظر آئے کہ سیالکو ٹ چیمبر اور سیال کی ان کاوشوں کا زبانی طور پر تو اعتراف کیا جا تا ہے لیکن عملی طور ان خدمات کا کوئی اعتراف نہیں کیا جاتا۔سرکاری سطح پر حکومت کی طرف سے سیال کی خدمات کا ابھی تک با ضابطہ کوئی اعتراف نہیں کیا گیا ۔ سیالکوٹ میں ابھی تک صرف دو کاروباری رہنماؤں کو تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیازسے نوازا گیا ہے۔ ان میں سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت کے بانی صدر اے ڈی بھٹہ اور پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی

ایشن کے چےئرمین اعجاز ا ے کھوکھر شامل ہیں۔ سیالکوٹ کی ملک وقوم کے لیے خدمات اس بات کی متقاضی ہیں کہ صدر پاکستان اس طرف توجہ فرمائیں۔ اگر یہاں سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں اور برآ مد کند گان کو بھی کسی سرکاری اعزاز عطا کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو سیالکوٹی مزید نئے نئے منصوبوں کو شروع کرنے کی طرف سوچنا شروع کر سکتے ہیں ۔چیئرمین سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ سیالکوٹ ملک محمد اشرف اعوان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ کی اقتصادی، معاشی اور جغرافیائی اہمیت بیان کی اور کہا کہ سیالکوٹ گوجرانولہ اور گجرات کے درمیان بننے والی تکون کا محور ہے اس خطے کے تینوں شہر اپنی منفرد گھریلو دستکاریوں اور صنعتوں کی وجہ سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔برآمدی تجارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہاں سے تعلق رکھنے والے محنت کش، ہنر مند، کاریگر، ڈاکٹر، انجنےئر، سائنس دان اور ماہرین تعلیم اپنے خون پسینے کی کمائی سے وطن عزیز کو خطیر زر مبادلہ کما کر دیتے ہیں جس سے ملکی معیشت میں جان پڑتی ہے۔اتنا اہم علاقہ ہونے کے باوجود حکومت یہاں اےئرپورٹ نہیں بنا رہی تھی تو اپنی مدد آپ کے جذبہ سے سر شار سیالکوٹیوں نے خود ہی اےئرپورٹ بنانے کی ٹھان لی اور دیکھتے ہی دیکھتے نجی شعبہ میں اےئر پورٹ بنا کردنیا میں ایک منفرد مثال قائم کردی۔ سیالکوٹ ائیر پورٹ پاکستان کا چوتھا مصرف ترین ائیر پورٹ ہے او یہاں ر پاکستان میں ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کی شرح میں سالانہ 4فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ جس رفتار سے یہ اےئر پورٹ ترقی کررہا ہے اس کی وجہ آئندہ کچھ عرصہ میں یہ ملک کا دوسرا مصروف ترین ائیر پورٹ بن جائے گا۔ملک محمد اشرف اعوان بتا رہے تھے کہ اس سال کے آخر تک سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت میں منفرد کارکردگی کے حامل سابق صدر فضل جیلانی چےئرمین اےئر سیال کی قیادت میں اپنی فضائی سروس اےئر سیال کام شروع کردے گی ۔ملک محمد اشرف اعوان ائیر پورٹ کی تعمیر میں وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت ضلعی انتظامیہ سیالکوٹ کے تعاون پر سیال کے تمام ڈاریکٹران کی طرف سے حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیاہے۔ملک صاحب نے اےئر پورٹ کے مسائل حل کرانے میں قائد سیالکوٹ وفاقی وزیر بجلی و پانی اور دفاع خواجہ محمد آصف ، صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ محمد منشاء اللہ بٹ اور دیگر ارکان پارلیمنٹ، قائد اتحاد فاؤنڈر گروپ ریاض الدین شیخ ،مےئر سیالکوٹ توحید اختر چودھری کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادروں کے بھی شکر گزار نظر آئے۔انہوں نے ایک سوال میں بتایا کہ سیالکوٹ انٹر نیشنل اےئرپورٹ کے قیام میں سپوت سیالکوٹ خواجہ محمد آصف اور اعجاز احمد شیخ کی درخواست پر و زیر اعظم محمد نواز شریف اولین حصہ اراضی کی خرید کے لیے 23 کروڑ کی گرانٹ کا اعلان کرکے ڈال دیامگر جب ان کی حکومت ہو گئی تو پھر اس گرانٹ کو آسان قرضے میں بدل دیا گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں ملک محمد اشرف اعوام نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے کہنے پر وزیر اعظم یو سف رضا گیلانی نے75 کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر 25 کروڑ روپے تو مل گئے مگر باقی 50 کروڑ تاحال کوششوں کے باوجود نہیں مل سکے۔ملک صاحب نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم محمد نواز شریف نارووال میں وزیراعظم صحت پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں میں صحت کارڈ تقسیم کرنے کے لیے جب اسلام آباد سے خصوصی طیارے کے ذریعے سیالکوٹ انٹر نیشنل ائر پورٹ پر اترے تو ان کے استقبال کے موقع پر سیالکوٹ مےئر میونسپل کارپوریشن سیالکوٹ چوہدری توحید اختر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال ، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ڈاکٹر آصف طفیل اور ڈی پی او ڈاکٹر محمد عابد کی موجودگی میں انہوں نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کوسیالکوٹ انٹر نیشنل ائرپورٹ کے نئے تعمیر ہونے والے ٹرمینل2 کا افتتاح اپنے دست مبارک سے کرنے کی دعوت دی تو وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنی مدد آپ کے تحت بنائے جانے والے دنیا کے اس منفرد منصوبے کو ملکی ترقی میں ایک سنگ میل قرار دیا تھا کہا تھا کہ اس منصوبے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا تھا کہ انہیں یہاں مسافروں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے تعمیر کئے جانے والے نئے ٹرمینل کا افتتاح کرکے دلی خوشی ہو گی لہذا وہ اس دعوت کو بصد خوشی قبول کرتے ہیں۔ ملک صاحب کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ملک صاحب میں بتایا کہ میں چےئرمین ہوتے ہوئے بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتا ہوں اور کسی قسم کا کوئی پروٹوکول نہیں لیتا۔

وہ بتا رہے تھے کہ ہم پوری ٹیم انتہائی دل جمی اور ایمانداری سے اےئر پورٹ کے مسائل کو حل کرانے میں انتھک کام کر رہے ہیں اور متعلقہ محکوں سے رابطے کر کے ائرپورٹ کے مسائل حل کرانے کی کوششوں میں دن رات مصروف ہیں۔ ہے

ملک اشرف اعوان نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے ائیر پورٹ کے مسائل حل کرانے میں خصوصی دلچسپی لینے اور اس سلسلے میں صوبائی وزیر بلدیات و کمیونٹی دویلپمنٹ خواجہ محمدمنشاء اللہ بٹ کی سربراہی میں قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کمیٹی کے اراکین سیکرٹری ایری گیشن اسد اللہ خان ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کمیونٹی ڈویلپمنٹ محمد اسلم کمبوہ، چیف انجینئر ایری گیشن لاہور زون شیخ ریاض رشید کا بطور خاص ذکر کیا۔ جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹر ی پنجاب شمائل احمدخوا جہ کی طرف سے شروع سے اےئرپورٹ کے قیام کے سلسلے میں خصوصی دلچسپی لینے پر ان بھی شاندار الفاظ میں ذکر کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ ملک محمد اشرف اعوان نے اس موقع پر گوجرانوالہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے ساتھ ساتھ جہلم اور آزاد جموں کشمیر کے بھمبر اور میر پور کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن سے اپیل ہے کہ وہ سیالکوٹ اےئرپورٹ کے فضائی سفر کیا کریں جبکہ عمرہ اور عازمین حج بھی اپنے اس قریبی علاقے میں بہتر سہولتوں سے آراستہ اےئرپورٹ کو استعمال کریں ۔ وہ تمام مسافروں کو معیاری سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں اگر انہیں کسی قسم کی مزید معلومات یا وضاحت درکار ہو تو وہ بذات ک خود اور ان کی پوری ٹیم چوبیس گھنٹے خدمت کے لیے حاضر ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -