یونس خان دنیائے کرکٹ کا چمکتا ستارہ جو ہمیشہ دلوں میں زند ہ رہیگا

یونس خان دنیائے کرکٹ کا چمکتا ستارہ جو ہمیشہ دلوں میں زند ہ رہیگا
یونس خان دنیائے کرکٹ کا چمکتا ستارہ جو ہمیشہ دلوں میں زند ہ رہیگا

  

پاکستان کے سابق کپتان اور مایہ ناز بیٹسمین یونس خان کرکٹ کا جو چمکتا ستارہ ہے جس نے اپنی روشنی سے نہ صرف اپنے آپ کو روشن کیا بلکہ کرکٹ کی دنیا کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے بھی آج مشعل راہ بنے ہوئے ہیں ۔ یونس خان کو کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بیٹسمین تصور کیا جاتا ہے یونس خان کو اگر پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں ریکا رڈ کا بادشاہ کہاجائے تو یہ غلط نہیں ہوگا انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں بے پناہ ایسے ریکارڈ زقائم کئے جو بہت کم کھلاڑیوں کونصیب ہوتے ہیں۔ان کے کرکٹ کیرئیر پر نظر دوڑائی جائے تو یونس خان نے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کیلئے117 ٹیسٹ میچوں کی211اننگز میں 10046 رنز بنائے ان کا سب سے بڑا سکور313 ہے جبکہ اس میں34 سنچریاں اور 33 نصف سنچریاں شامل ہیں، ون ڈے کی با ت کی جائے تو یونس خان نے پاکستان کی ون ڈے ٹیم کی طرف سے بھی بہت شاندار کھیل پیش کیا او ر جس طرح ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ قائم کئے اسی طرح ون ڈے میں بھی کئے جبکہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں بھی انہوں نے قومی ٹیم کے لئے خدمات سر انجام دیں مجموعی طور پر ان کی کرکٹ کے لئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یونس خان دنیا کے واحد ایسے بیٹسمین ہیں جنہوں نے تمام ٹیسٹ ملکوں کے خلاف ان کے ہی سٹیڈیمز میں سنچریاں بنانے کا منفرد ریکارڈ قائم کیا ہوا ہے جبکہ ان کو دنیا کے ایسے واحد بیٹسمین کا بھی اعزاز حاصل ہے جس نے ریکارڈ پانچ سنچریاں چوتھی اننگز میں کھیلتے ہوئے مکمل کی ہیں جبکہ 21 جون 2009 کا و ہ دن یونس خان کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے جب انہو ں نے بطور کپتان ٹیم کو ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں کامیابی دلوائی تھی یونس خان ٹیسٹ سیریز میں 10 کیچ لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں یونس خان نے بشو کا کیچ لے کر سیریز میں 10 کیچ لینے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔یونس خان ایک سیریز میں 10 کیچ کانے والے پہلے پاکستانی فیلڈر بن گئے ہیں کھلاڑیوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔یونس خان کا کیرئیر ہمیشہ ہی افواہوں اور الزامات سے پاک رہا اور روہ کبھی کسی تنازعہ کا شکار نہیں ہوئے۔ یونس خان نے بطور کپتان ہمیشہ میدان میں تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا اور پوری ٹیم کو ساتھ لیکر چلیں اور نہ صرف وہ حوصلہ مند نظر آئے بلکہ کھلاڑیوں کو بھی حوصلہ دیتے رہے اور مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا یونس خان اصولوں کا بہت پابند او ر کام کو وقت پر انجام دینا ان کی اچھی عادت سمجھی جاتی ہے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی دوستی رہی اور ہر موقع پر انہوں نے ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ان کو ساتھ ساتھ سیکھاتے بھی رہے جس وہ سے آج نوجوان کھلاڑی ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتے یونس خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے بہت پیار ہے او رہمیشہ میں نے ملک کے لئے کھیلا ہے اور جس طرح سے مجھے عوام نے محبت دی ہے میں اس کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا اور ہمیشہ یاد رکھوں گا اور کرکٹ سے دوری کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کھیل سے دور تو ہو رہا ہوں مگر میں کرکٹ کے فروغ و قومی کرکٹ ٹیم کے لئے ہر وقت حاصر ہوں اور میری یہ دعا ہے کہ ہماری ٹیم ہمیشہ کامیابیاں سمیٹے اور اس کے لئے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں یونس خان نے کہا کہ گزرا وقت میں ہمیشہ یاد رکھوں گا اور کرکٹ کے کھیل کے دوران بہت ایسے حسین و یادگار لمحات بھی ہیں جنہیں میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا اور خاص طور پر میں شائقین کرکٹ کی اپنے لئے محبت ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

مزید :

کالم -