نوجوانوں کے مسائل

نوجوانوں کے مسائل
 نوجوانوں کے مسائل

  

ان کا شکوہ تھا کہ میڈیا نوجوانوں کے مسائل کو اہمیت نہیں دیتا، وہ صرف سیاست پر بات کرتا ہے ، نوجوان ملکی آبادی کا 60فیصد ہیں،مگر ان کی بجائے بحث و مباحثے کا تمام وقت نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری اور دیگر سیاستدان لے جاتے ہیں، جبکہ میرا کہنا یہ تھا کہ نوجوانوں کے مسائل کو فی الوقت ہمیں درپیش دوسرے آئینی ، قانونی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے الگ کر کے نہیں دیکھاجاسکتا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دو بڑے مسائل ہیں،پہلا تعلیم اور دوسرا روزگار، اگر آپ فہرست کو طویل کرتے چلے جائیں تو ان میں صحت، ٹرانسپورٹ اور امن و امان سمیت بہت سارے دیگر ایشوز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج اینڈ کلچر کے خوبصورت ہال میں چیف منسٹر یوتھ موبلائزیشن کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مذاکراہ تھا،جس میں باقی مذاکروں کی طرح روایتی انداز میں ہونے والی جذباتی تنقید پر بہت تالیاں بج رہی تھیں۔حکومت سے لے کر میڈیا تک ہر کسی کو رگیدے جانے کو پسند کیا جا رہا تھا۔ ہمارا یہ عمومی رویہ ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داری سے فرار چاہتے ہیں۔ ہماری ناکامی کی وجہ ہمارا تعلیمی نظام بھی ہوتا ہے، ہمارے والدین بھی اور ہمارے اساتذہ کرام بھی، اگر ذمہ دار نہیں ہوتے تو صرف ہم خود نہیں ہوتے۔

مَیں نے کہا، میری نظر میں نوجوانوں کے مسائل کسی طور بھی مُلک کے باقی تمام مسائل سے الگ نہیں ہیں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم کی بہتر سہولتیں نہیں ملتیں، اگر ان کے لئے روزگار کے در پوری طرح وا نہیں ہوتے، ان کو صحت اور صفائی کے مسائل کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے تو اس کی اصل وجہ ہماری حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا اپنے اقتدار کے لئے ووٹروں کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا ہے۔ میرا یقین ہے کہ جب حکومتوں کو یہ علم ہوجائے گا کہ انہیں اقتدار میں لانے اور اقتدار سے ہٹانے والے صرف عوام ہیں تو پھر وہ اپنی تمام تر توانائیاں انہی عوام کے لئے صرف کریں گی جن میں 60 فیصد نوجوان ہیں۔مجھے کہنے دیجئے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم اور روزگار کے مسائل بھی صرف نوجوانوں کے نہیں ،ان کے پورے خاندان کے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بزرگوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ کے نہیں آتے،بلکہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار ہی ان کی رہائش، خوراک اور علاج و معالجے کا معیار طے کرتا ہے لہٰذا ہمارے نوجوانوں کے خصوصی مسائل عمومی طور پر تمام عوام کے مسائل بن جاتے ہیں۔ جب ہمارے نوجوان سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ نجی اور عوامی محفلوں میں بیٹھ کے کسی اخبار میں شائع ہونے والی کسی خبر کی بنیاد پر حکومت کے حق حکمرانی کو چیلنج کرتے ہیں تو پھر وہاں سے ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور حکمران بھی اپنی آئینی، سیاسی اور جمہوری حکومت بچانے کے لئے عوامی مسائل کی بجائے انہی چو ر دروازوں کو بند کرنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہ اہمیت صرف توجہ میں ہی نہیں ہوتی ۔

میرا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بہت گہرا تعلق ہے، لہٰذا میں ان کے مسائل کو ان لوگوں کی نسبت بہت بہتر سمجھتا ہوں جو ان پر محض تھڑوں پر بیٹھ کے یا نئی نئی بننے والی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ٹھنڈے کمروں میں خام دماغوں کے سامنے زیر بحث لاتے ہیں۔ ایک عمومی تاثر کے تحت میڈیا کو نوجوانوں کی بجائے سیاسی مسائل ڈسکس کرنے کا مجرم سمجھا جاتا ہے۔مَیں بھی جب رات چھ بجے سے بارہ تک بہت سارے پروگرام دیکھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میڈیا ہمارے حقیقی مسائل سے نظر چرا رہا ہے، وہ سیاسی معاملات کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے ،مگر میں اس ’’ مجرمانہ‘‘ روئیے کا جواز دو بنیادوں پر پیش کرتا ہوں۔ پہلا جواز سو فیصد فکری اور علمی نوعیت کا ہے، جس کے مزید دوپہلو ہیں۔پہلا یہ کہ ہمارے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری حزب اقتدار کی ہے اورحزب اقتدار کودرست راستے پر رکھنے کے لئے ذمہ دار حزب اختلاف ہے۔ جیسا مَیں نے پہلے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کسی طور بھی معاشرے کے دیگر تمام مسائل سے الگ نہیں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب ہمارا میڈیا اور حزب اختلاف ، حکومت پر تنقید کریں تو اس کا مقصد معاشرے میں موجود مسائل کو حل کرنا ہو ،مگر افسوس کامقام ہے کہ یہ تنقید عوامی مسائل کے حل کی بجائے حکومتوں کے اپنی آئینی اور پارلیمانی مدت پوری کرنے سے پہلے ختم کرنے کی نیت اور کوشش کے ساتھ کی جاتی ہے۔موجودہ سیاسی منظر نامے میں بھی ہماری ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں اور ایک سے زیادہ میڈیا گروپ ایسے ہیں جو حکومتوں پر عوامی مسائل حل کروانے کے لئے نہیں،بلکہ ان کے بہر صورت خاتمے کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیںیوں حکومتوں کے کام کرنے کی ساری سمت تبدیل ہو جاتی ہے،جس کی مظہرہماری سیاسی تاریخ ہے۔ دوسرا پہلو کسی حد تک مثبت ہے کہ جب کبھی میڈیا اور حزب اختلاف حکومتوں کی ملکی معیشت اور امن و امان سمیت دیگر مسائل حل کرنے کو ڈسکس کرتے ہیں تو ان میں نوجوانوں کے مسائل خود بخود شامل ہوجاتے ہیں، یعنی اگر ملکی معیشت میں بہتری آئے گی، روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے تو اس کا فائدہ بہرحال ہماری نوجوان نسل کو ہی پہنچے گا اور جب ایک نوجوان بہتر کمانے لگے گا تو وہ اپنے بچوں کے لئے بہتر صحت، تعلیم اور دیگر سہولتوں کوخود یقینی بنا لے گا۔

یہاں نوجوانوں کے مسائل کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ نہ دینے کا دوسرا ٹھوس جواز کمرشل ازم ہے۔ میڈیا وہی بات کرے گا جو عوام سننا چاہیں گے اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میڈیا نوجوانوں کی بات کرے تو نوجوانوں کو اس سے پہلے خود اپنی بات کرنی پڑے گی۔ آپ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر فرد جرم عائد کر سکتے ہیں ،مگر سوشل میڈیا کی کمان تو کسی ایک فرد یا حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔مَیں نے دیکھا کہ وہاں بھی نوجوان اپنے مسائل کی بجائے سیاست پر زیادہ بات کرتے ہیں یہ بات نہیں کہ وہ اپنے مسائل کے حل کی فکر نہیں کرتے ،مگر وہ فکری مغالطوں شکار ہو کر اپنے مسائل کے حل کی راہ سیاسی تبدیلی میں دیکھتے ہیں چاہے وہ آئینی یا غیر آئینی کسی بھی طریقے سے وقوع پذیر ہو رہی ہو۔وہ اپنے تئیں جب نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کو زیر بحث لاتے ہیں تو مسائل حل کرنے کے ذمہ داروں کے طور پر اپنے مسائل پر ہی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کا یہ رویہ بھی قابلِ فہم ہے کہ جس معاشرے میں مسائل حل کرنے والے ایجنٹوں، یعنی حکومتوں کی تبدیلی کا کوئی ٹھوس اور قابل اعتماد طریقہ ہی نہ رہا ہو وہاں پھر یہی نتیجہ نکلے گا،مگر اس کا ایک منفی اثر یہ بھی ہے کہ جب نوجوان اپنے مسائل کے حل کے لئے اپنے مسائل کی بجائے سیاست اور حکومت پر زیادہ بات کریں گے تو پھر میڈیا گروپس کو کیا پڑی ہے کہ وہ ایسے موضوعات کو چنیں، جن میں خود ان کے سٹیک ہولڈرزکی براہِ راست دلچسپی نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ کے لئے تندہی سے کام کر رہی ہے، توانائی کے بحران کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور سی پیک کے ذریعے تعمیر وترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ حکومتی سیاسی جماعتیں اگر جاگ رہی ہوں تو میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں سے ہی فیڈ بیک لیتی اور ان کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کرتی ہیں۔ تعلیم اور صحت دو ایسے مسائل ہیں جن کی طرف حکومت کی توجہ بڑھانے کے لئے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ،مگر یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم شیخ رشید احمد جیسے دانشوروں کی جعلی دانش کے جھانسے سے باہر نکلیں، اپنے منتخب ارکان سے کہیں کہ وہ دھرنوں جیسی سرگرمیوں کی بجائے ایوانوں میں تعلیم،صحت اور امن و امان جیسے بنیادی مسائل کو تحاریک التوائے کار کے ذریعے زیر بحث لاتے ہوئے حکومتوں کو جوابدہ بنائیں۔ وہ آئینی اور جمہوری حکومتوں کے خاتمے کے لئے دن نہ گنیں،بلکہ انہیں کام کرنے کے موقعے دیں۔ جب حکومتوں کے بے وقت آنے اور جانے کی بحث ختم ہو گی تو پھر وقت میسر ہو گا کہ ہم کچھ دوسرے مسائل کو بھی زیر بحث لا سکیں، جن کا سیاست کے بائی پاس سے ہوتے ہوئے باالواسطہ نہیں،بلکہ براہِ راست ہماری ذات کے ساتھ تعلق ہے۔

مزید :

کالم -