بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں،سروے

بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں،سروے
 بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے منفی اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں،سروے

  

پٹس برگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طویل سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر اوائل عمر میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ، ہراساں اور خوف کا سامنا ہو تو اس کے نفسیاتی اور طبعی اثرات پوری زندگی پر محیط ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس سے امراضِ قلب کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔اس عمل کے لیے ماہرین نے ’’بْلیئنگ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ایک وسیع رویئے کا احاطہ کرتا ہے جس میں کسی بچے کو گھر، اسکول یا ساتھیوں کی جانب سے حوصلہ شکنی، ستانے، ڈرانے دھمکانے، یا تشدد کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس کا احوال سائیکولوجیکل سائنس میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس انوکھے سروے میں 300 امریکی مردوں کا گریڈ اول سے لے کر 30 کے عشرے تک جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ آیا اگر وہ بچپن میں کسی عمل کے شکار ہوئے تو عمرگزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کیا منفی اثرات برآمد ہوئے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -