سرینگر،بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2کشمیری نوجوان شہید،مختلف علاقوں میں مظاہرے پاکستانی پرچم پھر لہرا دیئے

سرینگر،بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2کشمیری نوجوان شہید،مختلف علاقوں میں مظاہرے ...

  

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این)بھارتی فورسز نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں جھڑپ کے دوران دو مبینہ حریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا تھا کہ سری نگر سے 70 کلومیٹر دور ہندواڑہ کے علاقے میں قائم جنگلات میں فورسز نے خفیہ معلومات پر آپریشن کیا جہاں حریت پسندوں اور فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی۔بھارتی فوج کے ترجمان راجیش کالیہ کا کہنا تھا کہ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں برآمد کرلی گئیں ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔دوسری طرفمقبوضہ کشمیر میں احتجاج جاری،جھڑپوں میں مزید 10افراد زخمی،6گرفتار،حریت (ع) کا ہفتہ شہادت ، کلینڈر جاری ،وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال،فورسز پر پتھراؤ،سکول میں قائم فوجی کیمپ کو شدید نقصان پہنچا،مشتعل نوجوانوں کی بھارت مخالف نعرے بازی،پاکستانی پرچم پھر لہرا دئیے،بھارتی فورسز کی حراست سے نوجوان کی گمشدگی پر عوام سراپا احتجاج،کئی علاقوں میں احتجاج کے باعث کاروباری اور تجارتی مراکز بند،طلباء کا کلاسوں کا بائیکاٹ جاری ،تعلیمی ادارے سنسان۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور اس ضمن میں بھارت کے اعلیٰ حکام کے مسلسل دورے بھی کاریگر ثابت نہیں ہو سکے ہیں ۔ گزشتہ روز وادی کے جنوب و شمال میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے دوران سرینگر کے پائین علاقوں، سوپور، حاجن،ترہگام کپوارہ اور شوپیاں میں فورسز وپولیس اہلکاروں کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران شوپیاں اور پلوامہ میں ہڑتال بھی رہی ۔ سرینگر میں نوجوانوں نے جلوس برآمد کیا اور اس دوران نعرہ بازی کی۔ جب یہ جلوس اختتام پذ یر ہوا تو نوجوان نوہٹہ علاقہ میں مختلف حصوں میں تقسیم ہوئے اور مظاہرے کرنے لگے۔پولیس اور فورسز نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا جس کے بعد پر تشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا۔اس موقعہ پر نوہٹہ اور دیگر علاقوں میں پتھراؤ اور بے تحاشہ شلنگ کی گئی۔جس کے نتیجے میں ہر سو دھواں ہی دھواں نظر آنے لگا۔ اس دوران 3افراد کے خمی اور دو کے گرفتار ہونے کی اطلاعات ہیں جن کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ۔ بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں بھی احتجاج ہوا اور فورسز کے ساتھ تصادم آرائی ہوئی ۔ نوجوانوں نے آرمی گڈ ول سکول میں قائم فورسز کیمپ پر پتھراؤکیا جس سے کیمپ کو شدید نقصان پہنچا ۔ اس دوران بازار بند ہوا اور کافی دیر تک پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ کی گئی جس سے دو افراد زخمی ہو ئے ۔ کپوارہ کے ترہگام قصبہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب لوگو ں اور فورسز کی درمیان جھڑپو ں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نا گرلز ہائر سکینڈری سکول ترہگام کی طالبات نے جلوس نکالا جبکہ مرکزی جامع مسجد ترہگام سے بھی لوگوں نے جلوس نکالا تاہم قصبہ میں تعینات فورسز اہلکاروں نے گرلز ہائر سکینڈری سکول ترہگام اور لوگو ں کے جلوسوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے دوران فورسز اور جلوس میں شامل لوگو ں کے درمیان جھڑپو ں کا سلسلہ شروع ہو ا ۔فورسز نے جلوس میں شامل لوگو ں کو منتشر کرنے کے لئے شلنگ کی جبکہ حالات کشیدہ ہونے کے بعد ترہگام کے باقی محلو ں سے بھی مردوزن اپنے گھرو ں سے باہر آئے اور نعرۂ بازی کی ۔فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپو ں میں 4شہری زخمی ہوئے ۔ جو ں ہی فورسز نے پر امن جلوس پر ٹائر گیس شلنگ کی تو قصبہ میں فوری طور دکانیں بند ہوگئیں اور وہا ں سنا ٹا چھا گیا ۔ترہگام میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد کرالہ پورہ کپوارہ سڑک پر گاڑیو ں کی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ۔

کشمیر احتجاج

مزید :

علاقائی -