بھٹو فیملی سے شریف فیملی تک

بھٹو فیملی سے شریف فیملی تک
 بھٹو فیملی سے شریف فیملی تک

  

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ہونے والے ٹوئیٹ پر جب وزیراعظم نواز شریف کی ایماء پر یہ بیان آیا کہ وہ مایوس ہیں تو یوں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ 2014ء کی طرح 2017ء کا سال بھی ان کے منحوس ہی ثابت ہوگا، پھر یہ ہوا کہ ان کے سارے مخالفین مایوس ہو گئے اور یاجوج ماجوج کی فوج لگنے لگے، غالباً مخالفین کا خیال تھا کہ ڈان لیکس کے تنازع کو لے کر ایک بار پھر ڈی چوک اسلام آباد کو وہ غازہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، وہ اپنے تئیں دھرنا ٹو تیار کئے بیٹھے تھے،مگر حکومت ان کے ارادوں کو ایک آزمائے ہوئے ہتھیار کے طور پر لے رہی تھی ۔پھر یکایک یہ ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف اختیارات کی جنگ میں سرخرو ہو گئے ہیں اور جمہوریت کی آبرو رہ گئی ۔

حکومت کے سیاسی مخالفین فوجی سربراہ کی سیر چشمی کو ان کے زخمی ہونے سے تعبیر کر رہے ہیں،حالانکہ وزیراعظم اور ان کی بیٹی کے حوالے سے ان مخالفین نے جو میڈیا ٹرائل شروع کیا تھا وہ ملبہ جب واپس خود ان کے اپنے اوپر گرا ہے تو اپنے زخموں کا ذائقہ چکھنے کے روادار نہیں ہیں۔ وہ تسلسل کے ساتھ قوم کو اک سراب میں مبتلا کر کے بے خواب آنکھوں کو جھوٹے خواب دکھلانے میں مصروف تھے اور ان میں سے اکثر تو ایسے مایوس ہیں کہ ان کے منہ پچکے ہوئے جوس کے ڈبے جیسے ہو گئے ہیں۔اس منہ سے جب وہ ڈان لیکس کی رپورٹ مانگتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے ایک نئی چوٹ مانگتے ہوں، مریم نواز کی ڈھنڈیا کرنے والوں کے مُنہ پر ہنڈیا الٹی جا پڑی ہے،اکثر تو ہکا بکا ہیں اور باقی تیر تلوار بھول کر اب بھی تکے پر تکا لگا رہے ہیں، حالانکہ کئی بھٹی اینکروں کی سٹی گم ہو چکی ہے، جو وزیراعظم نواز شریف کو گاڈ فادر سمجھنا شروع ہو گئے تھے ، اب انہیں ڈان کہنے سے بھی نہیں کتراتے حالانکہ میاں صاحب کے ووٹر سپورٹر اب بھی انہیں اپنی جان ہی کہتے ہیں، خاص طور پر پی ٹی آئی تو بالکل ہی پٹ گئی ہے،یوں کہئے کہ اس کی لٹیا لٹ گئی ہے اور ان کے پیچھے لگ کے اداروں کی رٹ بھی ہوا میں معلق ہے۔ حکومت اور فوج کے درمیان ایک Settle معاملہ پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن کی جماعتوں کے لئے Fatal ثابت ہوا ہے ، اب وہ یوں گرج برس رہے ہیں جیسے اپنے حق میں فیصلے کو ترس رہے ہوں، ان کا نقطہ بکتا نظر نہیں آتا، تحقیق تو ہو چکی اب وہ تفتیش چاہتے ہیں، ہمارے کچھ سابق فوجی تجزیہ کار وں کا حال تو برما کے جنگلوں میں چھپے ان فوجیوں ایسا ہو چکا ہے جو ابھی تک سمجھ رہے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم جاری ہے، خاص طور پر اے آر وائی پر بیٹھے اینکروں اور تجزیہ کاروں کی باتیں تو بالکل ہی ہوائی لگ رہی ہیں، وہ اب تک لفظ Settleکو Battleپڑ ھ رہے ہیں اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں، وہ توپ سے مکھی مارنا چاہتے ہیں اور کوشش میں اپنی ہی چھاؤنی تباہ کئے جا رہے ہیں۔وہ لفظ Setttlementکا انگریزی نہیں پنجابی ترجمہ کر رہے ہیں، جس کا مطلب مک مکا ہوتا ہے ، حالانکہ انگریزی میں اس لفظ کا مطلب مسئلے کا حل ہونا ہی ہوتا ہے!

جناب اعتزاز احسن کا مسئلہ الگ ہے،ان پر بے نظیر بھٹو کی ایما پر بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو سکھ علیحدگی پسندوں کی فہرستیں دینے کا الزام لگا تھا اور یوں ان کی لیڈر کو پاکستان کے لئے سیکیورٹی رسک ڈکلیئر کر دیا گیا تھا، اگرچہ وہ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں،مگر مسلم لیگ(ن) سمیت ان کے مخالفین نے اس پر ان کے خوب لتے لئے ہیں اور پراپیگنڈے کی بھرمار نے ان پر اس الزام کو حتمی کردیا ہے۔ پھر یہ کہ اس الزام کے حوالے سے کوئی جے آئی ٹی بھی نہ بنی جو مریم نواز شریف کی طرح انہیں بھی بے قصور قرار دے دیتی،چنانچہ اب ڈان لیکس پر کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے تو اعتزاز احسن کے زخم ہرے ہو گئے ہیں اور وہ پاک فوج کے ترجمان کو بھی رگیدنے سے باز نہیں آئے ہیں اور استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے، یوں کہئے کہ انہوں نے اپنے دِل کی بھڑاس نکالی ہے ، خواہ ان کا موقف پارٹی موقف سے مختلف ہی کیوں نہ ہو!

سول ملٹری تعلقات کے ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں بھٹو فیملی اور شریف فیملی کی حکومت ہی قائم ہو سکی ہے ۔ لہٰذا سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ہونے والی ساری بحث ان دو فیملیوں کے فوج سے تعلقات پر ہی عبارت ہے ، اگر ذوالفقار علی بھٹو کو کرنل قذافی بھی بچالے جانے میں کامیاب ہو جاتے تو 80ء کی دہائی کے آخر میں مُلک کی سیاسی صورت وہی ہوتی جو آج ہے!

سب سے اہم بات یہ ہے کہ 1977ء میں پی این اے کی موومنٹ ہو یا پھر 2017ء میں نواز شریف مخالف تحریک ہو، ان میں تب تک جان پڑتی نظر نہیں آتی، جب تک حکومت سے طاقتور کوئی ادارہ حرکت میں نہ آ جائے ، خواہ یہ ادارہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ پاکستان میں اپوزیشن کا پلڑا ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جھکا نظر آیا ہے،وگرنہ حکومت کے خلاف کتنی بھی بڑی تحریک چلے Manageableہوتی ہے، اپوزیشن کی طرح میڈیا اورعوام کا بھی یہی حال ہے کہ بڑے طاقتور کو مان لو اور چھوٹے طاقتور کی جان لواور یوں پاکستانی جمہور بھی غیر جمہوری رویہ اپنائے رکھتا ہے، برصغیر کی تاریخ یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے ہر حملہ آور کو خوش آمدید کہا ہے!

مزید :

کالم -