کراچی :پی ایس پی ملین مارچ پر پولیس کا دھاوا،مصطفیٰ کمال سمیت متعدد زخمی و گرفتار

کراچی :پی ایس پی ملین مارچ پر پولیس کا دھاوا،مصطفیٰ کمال سمیت متعدد زخمی و ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان مذا کر ا ت ناکام ہو گئے جس کے بعد پی ایس پی کے ملین مارچ میں شامل شرکاء نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی توپولیس اور مظا ہرین میں جھڑ پ ہو گئی ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج ، شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس سے بھگڈر مچ گئی ۔پولیس نے شیل لگنے سے زخمی ہونیوالے پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال، رضا ہارون ، ڈاکٹر صغیر سمیت متعدد رہنما ؤ ں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ،پولیس نے انیس قائم خانی کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو کارکنان کی بڑی تعداد نے انہیں گھیر لیا جس پر پولیس اہلکاروں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے ملین مارچ کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے شاہراہ فیصل پر عائشہ باوانی سکول کے قریب سندھ حکومت کا وفد مذاکرات کیلئے پہنچ گیا ،وفد میں ڈاکٹر سکندر میندھرو ، وقار مہدی ، مرتضی وہاب اور راشد ربانی شامل تھے جبکہ پی ایس پی کے وفد میں رضا ہارون ، وسیم آفتاب ، ڈاکٹر صغیر احمد ، اشفاق منگی ، آصف حسنین اور دیگر شامل تھے ۔ دونوں جماعتوں کے در میا ن شاہراہ فیصل پر سڑک پر بیٹھ کر مذاکرات ہوئے ۔ پی ایس پی نے اپنے 16 مطالبات پر عملدر آمد کیلئے فوری اقدامات کرنے پر زورد یا ۔ مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی نے میڈیا کو بتایا پی ایس پی کے 16 مطا لبا ت میں سے 10 پر عملدرآمد ممکن ہے اور بعض پر عملدرآمد ہو چکا ہے، تاہم 6 مطالبات میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں اور قانونی مراحل کو طے کرنے کے بعد ہی یہ مطالبات منظور ہو سکتے ہیں ، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی اور عوامی جماعت ہے ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں۔قبل ازیں مارچ کے آغاز سے قبل پولیس حکام اور پی ایس پی رہنماؤں کے در میا ن بھی مذا کر ا ت ہوئے اور پولیس افسران نے پی ایس پی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے ۔ لہٰذا پی ایس پی ایف ٹی سی برج پر اپنا پروگرام کا انعقاد کر لے ، تاہم یہ مذاکرات بھی ناکام رہے ۔ شیلنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مصطفی کمال کا کہنا تھا ہم پرامن احتجاج کیلئے نکلے تھے ۔ ہمارے ساتھ بچے ، عورتیں ، نوجوان اور بزرگ تھے ۔ ہم کوئی سیاسی احتجاج نہیں کر رہے تھے بلکہ عوام کے حقوق مانگ رہے تھے ۔ ہمارا احتجاج پرامن انداز میں تھا اور ہم نے ایک پتھر بھی نہیں مارا لیکن سندھ حکومت نے ہمارے احتجاج کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا اور مارچ کے شرکاء پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا ۔ اب کراچی کی گلی گلی میں احتجاج ہو گا اور ہم حقوق لے کر رہیں گے ۔ اس موقع پر انیس قائم خانی کاکہنا تھا حکومت کے تشدد سے ہم ڈرنے والے نہیں ، ہم حقوق لے کر رہیں گے ۔

پی ایس پی مارچ

مزید :

صفحہ اول -