جیمز کومی کی برطرفی نے ٹرمپ کی اکڑ ختم ،کمزور دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا

جیمز کومی کی برطرفی نے ٹرمپ کی اکڑ ختم ،کمزور دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی دارالحکومت کے سیاسی و سکیورٹی حلقوں کے علاوہ میڈیا میں جہاں صدارتی انتخابات میں رو سی مداخلت پر بحث سنجیدگی اختیار کرچکی ہے۔ وہاں اس ویک اینڈ میں صدر ٹرمپ کی طرف سے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بر طر ف کرنے کے فیصلے پر تنقید و بحث بھی تازہ مسائل میں شامل ہوگئی ہے۔ صدر ٹرمپ بدستور کمزور دفاعی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہیں اور محکمہ انصاف میں اپنے ساتھیوں کیساتھ ایف بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کی نامزدگی کیلئے انٹرویو کرنے میں مصروف ہیں۔ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں امریکی سرکار کی تمام اہم انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں نے جن میں ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر بھی شامل تھے اپنی ریکارڈ شہادتوں میں جس طرح یک زبان ہوکر صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی توثیق کی، اس سے ٹرمپ اور انکی انتظامیہ کو شد ید جھٹکا لگاہے۔ جیمز کومی جن کی برطرفی کو عمومی طور پر سخت ناپسند کیا گیاہے، کل منگل کے روز سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں اپنی شہادت پیش کر کے ٹرمپ پر ایک اور بڑی ضرب لگانیوالے ہیں ، بلاشک امریکہ میں جو صدارتی طرز حکومت ہے، اس میں سب سے بڑی مقتدر قوت کانگریس ہے اور وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ اور فوج سمیت تمام ادارے اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، حتیٰ کہ اسکی توثیق کے بغیر سپریم کورٹ کے جج بھی مقرر نہیں ہوسکتے اور کانگریس میں بنیادی اہم فیصلے اس کی کمیٹیاں کرتی ہیں اور تمام قوانین اس کی چھلنی سے گزر کر جب مکمل ایو ا نو ں میں پہنچتے ہیں تو ان کا مستقبل پہلے سے ہی طے ہوچکا ہوتا ہے۔ کانگریس یا اسکی کسی کمیٹی کی قوت کا ایک بڑا مظاہرہ ابھی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی کارروائی میں دیکھنے میں آیا جب اس نے تمام اہم سرکاری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں کو ایک ہی وقت شہادت کیلئے طلب کیا۔ یاد رہے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی انتظامی ایجنسیوں کے علاوہ خود بھی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ تازہ کارروائی اسی کا ایک حصہ ہے جس میں سرکاری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہوں کو اس سلسلے میں اپنے نتائج کے پیش کرنے کیلئے طلب کیا گیا تھا ، اس کارروائی کے دوران اہم ترین مرحلہ اسوقت پیش آیا جب ورجینیا سے تعلق رکھنے والی ڈیمو کریٹک سینیٹر مارک وارنر نے تمام سربراہوں سے ایک سیدھا اور براہ راست سوال پوچھا اور انہیں آپشن دی کہ وہ تفصیل میں جائے بغیر اس کا پہلے صرف ہاں یا ناں میں جواب دے سکتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کس حد تک روس امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو رہا تھا اور ان کی تفتیش کے مطابق کیا روسی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے انفارمیشن کو ’’ہیک‘‘ اور ’’لیک‘‘ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے جواب میں وہاں موجود انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تمام سربراہوں نے الگ الگ اس کا جواب ہاں میں دیا۔ یاد رہے یہ تمام حکام ٹرمپ انتظامیہ کے تحت کام کرتے ہیں لیکن ان کا موقف وائٹ ہاؤس کے سرکاری موقف سے بالکل الٹ تھا۔ جن سربراہوں نے روسی مداخلت کی تصدیق کی ان میں نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ڈان کوٹس، سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو، ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈریو میکاب اور پینٹاگون انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ شامل تھے جبکہ سینیٹ کمیٹی میں ایف بی آئی کے برطرف ڈائر یکٹر جیمز کومی کی طرف سے منگل کو ٹرمپ انتظامیہ کا مزید بھانڈا پھوڑنے کا بھی قوی امکان ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -