مولانا عبدالغفور حیدری پر قاتلانہ حملے کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری

مولانا عبدالغفور حیدری پر قاتلانہ حملے کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری

  

پشاور+ بونیر + جمرود + مٹہ + صوابی (نمائندگان) جے یو آئی بونیر کے زیر اہتمام مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کی کال پر پارٹی رہنماء ڈپٹی چئیرمین سینٹ عبدالغفور حیدری پر حملے کیخلاف ضلعی امیر ایم پی اے مفتی فضل غفور کی قیادت میں مرکزی بازار سواڑی میں زبردست احتجاجی مظاہر ہ کیاگیا۔ضلع کے کونے کونے سے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے میں بھر پور شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھارکھے تھے۔جس پر گزشتہ روز پارٹی رہنماء عبدالغفور حیدری پر حملے کی مذمتی نعرے درج تھے۔مظاہرین نے اس موقع پر سڑک کے تمام اطراف ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند رکھے تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر ایم پی اے مفتی فضل غفور ،ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا سعید الرحمن مفکر ودیگر نے کہا کہ غبدالغفور حیدری پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پگڑی داڑھی اور علماء کیخلاف ناکام کوششیں کی جارہی ہے۔مگر اسلام دشمن عناصر کے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں بلکہ اس سے زادہ بڑھ جاتے ہیں،۔پرچم بنوی کے سالاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔امریکہ ،اسرائیل اور بھارت سے اس ملک کی امن ،ترقی اور خوشھالی برداشت نہیں ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے بلند ہے اسلام کا یہ قافلہ اپنی جدوجہد کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔آخر میں مظاہرین نے غفور حیدری کی جلد صحتیابی اور ان کیساتھ شہید ہونے والوں کیلئے خصوصی دعا کی۔اور بعد ازاں پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ خیبر ایجنسی تحصیل جمرود باب خیبر کے مقام پر جمعیت علمائے اسلام نے ڈپٹی چئرمین مولانا عبدلغفور حیدری پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ باب خیبر میں مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر خودکش حملے اور حکومت سے نوٹس لینے کے نغریں درج تھے ۔ مظاہرین سے مفتی اعجاز اور مولانا غفران خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہمارے رہنماء وں پر حملے تمام اسلام پر حملہ ہے۔ اسلام کے خلاف طاغوتی قواتیں مختلف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ جس کو جی ۔یو۔ ائی بھر پور مزاحمت کریں گا۔ انھوں نے کھا کہ مولانا عبدلغفور کے حملے پر جی یو ائی خیبر ایجنسی بھر پور مذ مت کرتا ہے ۔۔ اور حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقع کا نوٹس لیا جائے۔ جمعیت علماء اسلام ضلع سوات کے امیر اور سابق صوبائی وزیر قاری محمود مٹہ تحصیل کے امیر قاری رحیم اللہ اور مفتی نصرواللہ بابر نے کہا ہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ امریکہ اور انکے ساتھیوں نے کیا ہے اور اس حملے کا مقصد جمعیت علماء اسلام کے جاری ملک میں اسلامی نظام اور امت مسلمہ کیلئے کوششوں کو روکنا اور سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا ہے لیکن اس طرح بزدلانہ حملوں نے نہ کبھی پہلے جمعیت کا راستہ روک لیا ہے اور نہ ائندہ روک لینگے بلکے ان جیسے حملوں سے جمعیت علماء اسلام کی مورال مذید مضبوط ہوکر اپنے مشن کو جاری رکھینگے انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے ملک میں ابھی تک کسی مجرم کو سزا نہ دینے کی وجہ سے امن بحال نہیں ہوسکتی ذمہ دار احکام کی کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکے ملزموں تک پہنچنا اور انکو کو گرفتار کر نا ہے مولانا عبدلغفور حیدری کے قافلے پر ہونے والے حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے تو کم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کی دیگر علاقوں کی طرح ڈپٹی چیرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی خلاف مٹہ چوک میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مولانا عبید اللہ خورشید علی خان ایڈوکیٹ مولانا قاسیم شامیزئی مولانا عبداللہ مولانا سیف اللہ مولانا سمیع اللہ مولانا عمران نعمانی اور دیگر نے بھی خطاب کی انہوں نے کہا کہ یہودی ایجنڈے کی مطابق اس وقت پاکستان میں علماء کرام پر حملے ہورہے ہیں لیکن جمعیت علماء اسلام دباو میں انے والے نہیں بلکے جمعیت بغیر کسی روکاٹ کی ملک میں اسلام نظام ملک کی حفاظت اور امت مسلمہ کیلئے کام کرینگے اور کبھی بھی یہودی لابی اور امریکہ کو اپنے مذموم کوششوں میں کامیاب نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا کہ تمام حکومتی ادارے جو ملک میں قیام امن اور عوام کی حفاظت کیلئے سرکاری خزانے سے بھاری پیسے لیتے ہیں وہ اپنے کام کرکے مذید علماء کرام اور مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کو روکیں انہوں نے کہا کہ مولانا عبد الغفور حیدری پر ہونے والا حملہ سینٹ پارلیمنٹ اور ذمہ دار اداروں پر حملہ ہے اسلئے بجائے اس کے ذمہ دار احکام صرف مذمت کریں وہ اپنے ڈیوٹی پوری کرکے واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے انہوں نے کہا کہ سکولوں مدرسوں مسجدوں عوام اور علماء کرام پر حملے کرنے والوں کی اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکے اسلام میں ان کاموں کی کوئی گنجائش نہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے یہ ارمان کبھی بھی پوری نہیں ہوگی کہ جمعیت اپنا کام چھوڑ دیں اور پاکستان میں سی پیک منصوبہ ناکام ہوجائے بلکے جمعیت علماء اسلام اپنا اہم مشن ملک میں اسلامی نظام امت مسلمہ کیلئے کام اور سی پیک منصوبے کو مکمل کرکے دنیا اور امریکہ اور انکے ساتھیوں کو ثابت کرینگے کہ ہم نہ ڈرنے نہ دبنے نہ جھکنے اور نہ دباو میں انے والے لوگ ہے بلکے ان جیسے کاروایؤں سے جمعیت کے قائدین اور کارکنان میں مذید حوصلہ بڑھ کر مضبوط ہونگے اخر میں شرکاء نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس کی اختتام پر خصوصی دعاکی گئی ۔ سانحہ مستونگ کوئٹہ کے خلاف ہنگو میں جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی ،احتجاجی ریلی میں مفتی دین اظہر ،مفتی عبید اللہ ،مفتی سید جنان سمیت کثیر تعداد میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنا ن نے شرکت کی ،ریلی کے شرکاء نے امریکہ اور انڈیا کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کے باعث محب وطن اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم دشمن کی ایسی بزدلانہ کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسلام کے لبادے میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے والے عناصر اسلام کو بدنام کرنے اور اسلام کو دہشت گرد قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم دشمن کے ناپاک اور مذموم عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ مستونگ میں مولانا عبدالغفور حیدری پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ،آخر میں ریلی کے شرکاء نے سانحہ مستونگ کوئٹہ کے شہداء کی درجات کی بلندی ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔ سانحہ مستونگ اورجمعیت علما ء اسلام کے رہنماء ڈپٹی چےئرمین سینٹ عبد الغفور حیدری پر قاتلانہ حملے کے لئے خلاف جے یو آئی ملاکنڈ کے زیر اہتمام سخاکوٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مین بازار میں ریلی نکالی کی گئی جس کی قیادت ضلعی آمیر اور سابق سینیٹر صاحبزادہ خالد جان ، سابقہ ناظم حق نواز خان ایڈوکیٹ اور سینئر وائس آمیر مولانا شمس الحق کر رہے تھیں ۔ مظاہرے میں جے یو آئی کے کارکنوں ، ٹریڈ یونین کے عہدیداروں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور واقعہ مستونگ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھیں جس پر سانحہ مستونگ کے خلاف نعرے درج تھیں۔ مظاہرے نے بس سٹاپ پر جلسے کی شکل اختیار کی جس سے ضلعی آمیر صاحبزادہ خالد جان ، سینئر وائس آمیر مولانا شمس الحق، سابق ناظم حق نواز خان ایڈوکیٹ ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد آمین ، حبیب الحسین ،متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا ،مولانا حبیب گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ جے یو آئی کے مرکزی رہنماء پر قاتلانہ حملہ پورے پاکستان اورپارلیمنٹ پر حملہ ہے جس کی ہم پُر زور مذمت اور حملے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ دشمنوں کے مذموم مقاصد کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے اور سب مل کر دہشت گردی کے اس ناسور کر جڑ سے ختم کرینگے ۔ مقررین نے کہا کہ علماء اور بے گناہ مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کے کاروائیاں آفسوس ناک ہے جس کے خلاف پورے اُمت مسلمہ کو متحد ہونا پڑے گا ۔اس موقع پر سانحے میں شہید ہونے والے شہداء کے درجات بلندی اور زخمیوں کے جلد صحت یابی کے لئے خصوصی دعا مانگی گئے ۔ جمعیت علماء اسلام ضلع صوابی نے ڈپٹی سپیکر آف سینیٹ و مرکزی سیکرٹری جنرل جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری پر خود کش حملے اور اس کے نتیجے میں آٹھائیس افراد کی شہادت اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت تیس افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ کے خلاف اتوار کے روز امن چوک صوابی میں ضلعی امیر مولانا عطاء الحق درویش کی قیادت میں زبر دست احتجاجی مظاہرہ کیا مرکزی نائب امیر مولانا فضل علی حقانی کے علاوہ صوبائی رہنما مولانا اشرف علی ، سینئر نائب امیر الحاج غفور خان جدون ، مولانا نعیم حقانی ،ضلعی تر جمان مولانا محمد ہارون اور دیگر نے خطاب کر تے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث مجرموں کو جلد بے نقاب کر کے عبر تناک سزا دی جائے شہداء کے ورثاء کو خصوصی پیکیج اور زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے جے یو آئی کی موجودگی میں اسلام اور ملک دشمن قوتوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مجرموں کو گرفتار کر کے کیفر کر دار تک نہیں پہنچایا تو جے یو آئی کا یہ احتجاج جاری رہے گا اس سے قبل چار بار قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماؤں پر حملے کئے گئے جب کہ کئی علماء کرام کو شہید کر دیا گیا #

مزید :

کراچی صفحہ اول -