چولستانی مر رہے ہیں‘ حکمرانوں کو کلر میوزیکل فواروں سے فرصت نہیں‘ ظہور دھریجہ

چولستانی مر رہے ہیں‘ حکمرانوں کو کلر میوزیکل فواروں سے فرصت نہیں‘ ظہور ...

  

خان پور (نمائندہ خصوصی)چولستان کی آواز فقیرا بھگت کو کالے یرقان کے موذی مرض نے خاموش کرادیا ،آج بھی چولستان میں لوگ پیاس اور موذی امراض سے مررہے ہیں۔حکمرانوں کو لاہور کو کلر میوزیکل فوارے بنانے سے فرصت نہیں۔ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے چولستان میں فقیرا بھگت کی برسی کے موقع پر مرحوم کے فرزند موہن بھگت اور بھائی آڈو رام سے بات (بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سرائیکی ایکشن کمیٹی کے چےئرمین راشد عزیز بھٹہ ،آصف دھریجہ ،شہزاد بھٹہ ،بلال بھٹی ،سراج ساغربھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ فریدؒ نے جس چولستان کو امن اور مقدس سرزمین قراردیا آج یہاں قاتل شکاریوں کا راج ہے چولستان میں ناجائز الاٹمنٹوں کا طوفان آیا ہوا ہے،مختلف حیلوں بہانوں سے چولستان کی زمینیں لوٹی جاری ہیں وہاں صدیوں سے آباد بے دخل کرکے پنجاب سے آنیوالے قبضہ گیروں کو رقبے الاٹ کیے جارہے ہیں،مقامی لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں سے معاشی طور پر تباہ کرکے ان کو کراچی اور دوسرے علاقوں نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے،پنجاب سے آبادکار کالی آندھی کی شکل میں آکر وسیب کی تہذیبی ،ثقافتی ،معاشی اور معاشرتی اقدار کو ملیا میٹ کررہے ہیں ظہور دھریجہ نے کہا کہ جو آباد کار آچکے ہمیں قبول ہیں انکو سرائیکی وسیب کا حصہ بن جانا چاہئے اور مردم شماری میں خود کو سرائیکی لکھوانا چاہئے البتہ ہم مزید ہر طرح کی آبادی اور الاٹمنٹوں کے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں راشد عزیز بھٹہ نے اس موقع پر کہا کہ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ہم اپنا تن من دھن قربان کریں گے اس سلسلے میں ہم تیزی کے ساتھ سرائیکی ترانے ریکارڈ کررہے ہیں اور ہمارے اگلے ترانے چولستان کی تاریخ میں موہن بھگت اور آڈو رام کی آواز میں ہونگے۔دریں اثناء ظہور دھریجہ نے گوادر میں سرائیکی اور سندھی مزدوروں کے بہیمانہ قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وسیب میں سوگ منانے کا اعلان کیا اورحادثے میں زخمی ہونے پر سرائیکی اداکار سلیم ناصر آف رحیم یارخان کی صحت یابی کیلئے دعا کے ساتھ حکومت سے سرکاری خرچ پر علاج کا مطالبہ کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -