زکواۃ و فطرہ کی جبری وصولی روکنے کیلئے حکمت عملی تیار

زکواۃ و فطرہ کی جبری وصولی روکنے کیلئے حکمت عملی تیار

  

کراچی(کرائم رپورٹر)رمضان المبارک کے قریب آتے ہی شہر قائد میں ملک بھر سے مذہبی یا دیگر اداروں کے نام پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے زکواۃ اور فطرے کی مد میں رقوم جمع کرنے کی روک تھام کیلئے حکمت عملی کی تیاری کرلی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی آپریشن کے آغاز کے بعدرمضان المبارک میں ریکارڈ توڑ خریداری اور شہریوں کی جانب سے زکواۃ ، فطرے اور دیگر امداد کی مد میں ریکارڈ رقم دینے کے سلسلے میں اس سال بھی رمضان کی آمد سے قبل ہی سیکیورٹی پلان کی تیاریاں آخری مراحل میں پہنچ گئی ہیں ۔اس ضمن میں کراچی پولیس کے انتہائی سینئر افسر نے بتایا کہ کراچی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ہی دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کی فنڈنگ روکنے کے لیے جو فیصلہ کیا گیا تھا اس کے تناظر میں اس سال بھی حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے کوائف جمع کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے جس میں 30 سے زائد تنظیموں کی فہرست مکمل کی گئی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ایسی تنظیمیں کام کررہی ہیں جو کراچی میں تو فعال نہیں ہیں لیکن وہ زکواۃ ، فطرے یا دیگر چیزوں کی مد میں کراچی آکر پیسے جمع کرسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کراچی میں جاری کارروائیوں کے دوران ہونے والی تفتیش کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اینالائز ونگ کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے زکواۃ اورفطرہ جمع کرنے کے لئے ان کے ونگز کے سرگرم ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور تاجر بھی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں تاجر برادری کے وفود نے بھی مختلف ملاقاتوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران کاروبار بڑھ جاتا ہے تو بھتے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں لہذا اس پر کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں ، تاجربرادری نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بھی تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری کی روک تھام کو بھی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور جلد ہی عوام میں بھی شعوری مہم چلائی جائیگی جس میں انہیں اس بات کو یقینی بنانے کا کہا جائیگا کہ وہ اچھی طرح یقین کرلیں کہ وہ جس کی مدد کررہے ہیں وہ اس کا مستحق ہے یا نہیں یا پھر ان کی دی ہوئی رقم کسی غلط کام میں استعمال نہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اسپیشل برانچ کو ہدایت دی جائینگی کہ وہ تھانے کی سطح پر ایسی مساجد اور مدارس کی بھی مانیٹرنگ کریں جن کے باہر امداد لینے کے لئے دوسرے نام سے یا کسی اور لبادے میں ایسے عناصر تو امداد جمع نہیں کررہے ہیں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق کالعدم تنظیم یا کسی جرائم پیشہ عناصر سے تو نہیں ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -