خانیوال، محکمہ صحت کا ملازم بیٹے سمیت ڈسپوزل میں ڈوب کر ہلاک، کوئی افسر نہ آیا

خانیوال، محکمہ صحت کا ملازم بیٹے سمیت ڈسپوزل میں ڈوب کر ہلاک، کوئی افسر نہ ...

  

خانیوال(بیورو نیوز )ڈسپوزل میں محکمہ صحت کے عارضی ملازم 50سالہ تنویر اپنے ایف اے پاس نوجوان بیٹے قیصر کے ہمراہ اپنے گھر کے قریب واقع پرانا سول ہسپتال میں کام کر رہے تھے کہ اچانک ڈسپوزل موٹر کا جین ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے اچانک گندہ پانی کنویں میں آ گیا اور زہریلی گیس پھیل گئی جس کے نتیجہ میں 50سالہ تنویر اپنے جواں سال بیٹے قیصر سمیت موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا گھر میں موجود 14سالہ بیٹا اپنے باپ کو بلانے کے لئے پہنچا تو ڈسپوزل میں گندہ پانی اور گیس کے باعث قریب نہ جا سکا اور باپ کو آوازیں دیتا رہااسی دوران اہل محلہ اکٹھے ہو گئے اور ریسکیو1122 کو اطلاع دی جس پر انہوں نےباپ بیٹے کی نعشوں کو ڈسپوزل سے باہر نکالا اور پوسٹمارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال منتقل کر دیا تنویر اور اس کے بیٹے کی اس اچانک موت پر گھر میں کہرام مچ گیا تنویر نے دو بیٹے اور 6بیٹیاں ہیں جن میں سے ایک بیٹا جاں بحق ہو گیا باپ اور بھائی کی اس المناک واقع پر بیٹیوں اور ماں کو غشی کے دورے پرنے لگے تنویر کے بیٹے اور محلے داروں کے مطابق تنویر کو پچھلے ایک سال سے تنخواہ بھی نہیں مل رہی تھی اور وہ بکریاں پال کر اور سول ہسپتال کے رہائیشی افسران کی خدمت کر کے اپنا اور بچوں کا گزر بسر کر رہا تھا واقع کے کئی گھنٹوں بعد بھیمحکمہ صحت کے افسران نہ موقع پر پہنچے اور نہ کوئی مدد کی جس پر اہل محلہ اور علاقہ نیمحکمہ صحت انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعشیں بہاولپور روڈ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سامنے رکھ کر احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی بھی کی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -