پاکستان کی تنہائی کا خواب دیکھنے والا بھار ت تنہا رہ گیا

پاکستان کی تنہائی کا خواب دیکھنے والا بھار ت تنہا رہ گیا
پاکستان کی تنہائی کا خواب دیکھنے والا بھار ت تنہا رہ گیا

  

نئی دہلی/بیجنگ( آن لائن )مودی سرکار کو پاک چین اقتصادی راہداری پر جلن اور حسد مہنگی پڑگئی، پاکستان کی تنہائی کے خواب دیکھنے والا بھارت خود تنہا رہ گیا، ون بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے بائیکاٹ کر کے خطے میں الگ تھلگ ہوگیا۔پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشیں رچانے والا بھارت عالمی منصوبے سے الگ تھلک ہو کر رہ گیا۔ بھارت نے یہ بہانہ تراشا ہے کہ سی پیک منصوبے میں کشمیر شامل ہے جو ایک متنازعہ علاقہ ہے۔بھارت نے فورم کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اقتصادی راہداری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے واویلا مچایا ہے کہ چین اقتصادی راہداری منصوبے پر باضابطہ بات کرے۔چین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے یوریشیا سے ملانے کیلئے چین کے اس منصوبے میں شامل ہو جائے۔بیجنگ میں جاری کانفرنس میں کم از کم 28 سربراہان مملکت اور حکومتی عہدیدار شرکت کررہے ہیں اور اس کانفرنس کو عالمی مقبولیت کا منصوبہ قراردیا جارہا ہے۔ بھارت نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت سے گریز کیا اور اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جس سے اس کی خود مختاری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔بھارتی حکومت نے بیجنگ میں جاری ایک خطہ ایک سڑک وڑن سے متعلق منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے لیے اپنا حکومتی وفد نہیں بھیجا تاہم اجلاس میں شرکت کئے لیے بھارتی تھنک ٹینک کا ایک وفد بیجنگ میں موجود ہے۔

سعودی عرب روانگی سے قبل ایف بی آئی کا نیا سربراہ نامزد کردوں گا‘صدر ٹرمپ

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ‘ایک خطہ ایک سڑک’ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں شامل ممالک پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ آجائے گا۔گوپال باگلے نے کہا ہے کہ بھارت کسی بھی ایسے منصوبے میں شرکت نہیں کرے گا جس میں اسے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔ایک بھارتی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے حکومتی سطح کا کوئی وفد اس تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ نہیں گیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی تھنک ٹینک کے چند ماہرین فورم کے کچھ اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیجنگ روانہ ہوئے ہیں۔

بھارت ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر نالاں ہے کیوں کہ اس کا ایک اہم ترین منصوبہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) پاکستان اور کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔اس سلسلے میں گوپال پاگلے کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک ایسا منصوبہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے بنیادی خدشات کو نظر انداز کرتا ہو۔

مزید :

بین الاقوامی -