شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 52

15 مئی 2017 (13:45)

اس سلسلہ میں ایک نامور مورخ محمد مجیب بی اے آکسن پروفیسر تاریخ و سیاست جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنی تالیف تاریخ تمدن ہند عہد قدیم ۱۹۵۱ء عثمانیہ یونیورسٹی پریس حیدر آباد دکن میں یوں اظہار خیال کرتے ہیں۔

۱۔ یورپ میں سنسکرت کا مطالعہ شروع ہوا۔ اور اس کا پتہ چلا کہ سنسکرت ، ایرانی لاطینی، یونانی اور جرمن زبانیں ایک اصل سے ہیں تو ہند جرمنی یاہند یورپی زبان اور تہذیب اور اس تہذیب کو پھیلانے والی آریہ نسل کا تصور قائم ہوا۔ اصل میں یہ تصور بے بنیاد تھا ۔آریہ نسل کی کوئی حقیقت نہیں وہ جسمانی خصوصیات جو آریہ نسل کی پہچان مانی جاتی ہیں ان قوموں میں جو اپنے آپ کو آریہ کہتی ہیں اس کثرت سے نہیں پائی جاتی ہیں کہ ان کے آریہ ہونے کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے لیکن قومیت کے پرستاروں نے اس عقیدت کے ساتھ آریہ نسل کے گن گائے کہ ایک دنیا دھوکے میں پڑ گئی۔ نسل کا لفظ اب اس قدر رائج ہوگیا ہے کہ غلط فہمی کے اندیشوں کے باوجود اسے ترک کرنا مشکل ہے۔ (ص ۱۹)

شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

۲۔ آریوں کے مذہب میں آگ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اور آریوں میں عورتوں(بتوں) کی پوجا کا رواج نہ تھا۔ صفحہ ۵۳

۳۔ سنسکرت ابجد کے دندانی حروف ٹ وغیرہ اور کسی ہند جرمانی زبان میں نہیں ملتے۔ سنسکرت کے بہت سے الفاظ کا مادہ آریائی نہیں معلوم ہوتا۔ صفحہ ۵۴۔

۴۔ آریہ دراصل کسی نسل کا نام نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہوتا ہم اس لفظ کو بالکل چھوڑ دیتے اور ان لوگوں کے لیے جو اپنے آپ کو ہندوستان میں آکر آریہ کہنے لگے کوئی اور نام تجویز کرلیتے مگر یہ اصلاح اس قدر رائج ہوگئی ہے کہ اسے ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے اسی سے کام نکالنا پڑتا ہے۔ غلط فہمی سے بچنے کی یہ صورت ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ آریہ سب گورے اور قد آور نہیں تھے۔ سب کی ناک اونچی، بال سنہرے اور آنکھیں نیلی نہیں تھیں۔ انہیں آریہ صرف اس بنا پر کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو آریہ کہتے تھے۔ آریوں کے اصل وطن کا پتہ چلانا مشکل ہے۔ اب اکثر محقق اس پرمتفق ہیں کہ آریہ نسل کا گہوارہ دریائے ڈینیوب کی وادی تھی ۔یہاں سے اس کے قبیلے ادھر ادھر جاتے رہے وہ قبیلے جو ہندوستان پہنچے درہ دانیال سے گزر کر ایشیائے کوچک اور شمالی ایران ہوتے ہوئے آئے۔ ۱۲۰۰ ق م کے لگ بھگ شمالی ہندوستان میں آباد ہونے لگے تھے۔ زرتشی مذہب کی مقدس کتاب ژنداوستااور رگ وید کی زبان میں اتنا کم فرق ہے کہ خیال ہوتا ہے کہ آریا کے ہندوستان آنے اور رگ وید کے مرتب ہونے کے درمیان بہت لمبا عرصہ نہ گزرا ہوگا۔ (ص ۵۵)

۵۔ سات سو ق م کے بعد سے ان میں لکھنے کا رواج بھی آہستہ آہستہ شروع ہوا۔ اوک کے کتبات یا تو کھروشٹی (خروشتی) رسم خط میں ہیں جو مشرقی افغانستان اورپنجاب میں رائج تھا یا براہمی رسم خط میں ہیں۔ کھروشٹی (خروشتی) ایک قدم آرامی رسم خط سے اخذ کیا گیا ہے جو پانچ سو ق م میں رائج تھا ۔یہ دائیں سے بائیں طرف لکھا جاتا تھا۔ آریوں نے اس رسم خط کی علامتوں کو اپنی زبان کی اصوات اور خروف میں تبدیل کر لیا۔ براہمی ابجد کے چھیالیس حروف کی شکلیں معین کی گئیں اور اسے دائیں سے بائیں طرف کے بجائے بائیں سے دائیں طرف لکھنے کاقاعدہ بنا۔ غالباً پانچ سو ق م تک براہمی ابجد مکمل ہوگئی تھی۔ پانی نی (پنی) نے جس کا زمانہ چوتھی صدی ق م تھا اس کو صحیح مانا ہے ۔اس زمانے میں یا اسکے کچھ بعد براہمی رسم خط کی دو شاخیں ہوگئیں ۔ایک شمالی دوسری جنوبی، پانی نی (پنی) کے قواعد نے رسم خط کے ساتھ زبان کو بھی ایک معیاری شکل دے دی اور جو کام کئی سو برس سے آہستہ آہستہ ہو رہا تھا۔ اسکی تکمیل کر دی۔ یہیں سے ویدی زبان کا سلسلہ ختم اور سنسکرت کا شروع ہوتا ہے۔ بول چال کی زبانیں اس کے بعد بھی رہیں اور ان کو کچھ نہ کچھ ترقی بھی ہوتی رہی لیکن پڑھے لکھے شائستہ لوگوں کی زبان سنسکرت تھی(صفحہ ۵۷)

۶۔ آریوں نے شمال مغربی ہندوستان(یعنی ہند )میں آباد ہونے کے بعد تمام بھجن یکجا کرلئے۔ اور اس مجموعے کانام رگ وید رکھا۔ رگ وید ہند جرمانی تہذیب کی سب سے پرانی یاگار ہے اور اس کی ادبی خوبیوں کو دیکھئے تو ایک کرشمہ سے کم نہیں۔ رگ وید کے بھجن اس وقت گائے جاتے جب پوجا کے لئے آگ جلائی جاتی۔ یا سوم کے پودے کا رس نکالا جاتا اسسے شراب بنتی تھی جسکاپینا عبادت میں داخل تھا اور اسے آریہ پسند بھی کرتے تھے۔ رگ وید مرتب ہوگیا تو اس کے وہ بھجن جن میں سوم کو مخاطب کیا گیا تھا الگ الگ کرکے ایک نیا مجموعی تیار کیا گیا جو سام وید کہلاتا ہے۔ صفحہ ۵۸

۷۔آریوں کی خاندانی رسمیں مثلاً گھر کے ایک مرکزی مقام پر ہر وقت آگ جلتی رکھنا اور دولہا دلہن کا اس آگ کے گرد چکر لگانا۔ صفحہ ۶۹

۸۔ عورتیں بس گھر میں پوجا کی آگ جلتی رکھتیں اور چڑہاوے اور نذر کے لئے ضروری سامان مہیا کرتیں صفحہ ۷۱

۹۔ دولہا کے ساتھ برات ضرور آتی۔ دلہن کا ہاتھ دلہا کے ہاتھ میں دیا جاتا۔ دونوں پوجا کی آگ کے گرد طواف کرتے۔ صفحہ ۷۲

۱۰۔ ہندو مذہب عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک نظام ہے اور جو شخص اس نظام کو قبول کرلے وہ عقائد میں آزادی کے ساتھ انتخاب کر سکتاہے۔ (صفحہ ۲۴۱)

۱۱۔اس نئے دور میں مذہبی اتحاد پسندی نے ہر فرقے اور نسل کوجس نے ہندو نظام زندگی کو قبول کیا۔ سماج اور مذہب میں داخل کر لیا۔ صفحہ ۲۴۲۔

اور پروفیسر مکس میولر کے نزدیک یہ آریا یا جیساکہ ہم اس وقت انہیں آرین پکارتے ہیں ایک کلچرل گروپ تھا۔‘‘ (احمد چاگلا، بحوالہ یوسفی)(جاری ہے)

شجاع قوم پٹھان کی تاریخی داستان، قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزیدخبریں