کچھ ذکرجاپانی درگاہوں کا

کچھ ذکرجاپانی درگاہوں کا
کچھ ذکرجاپانی درگاہوں کا

  

زندگی میں انسان بہت سا سفر اور منزلیں نہ چاہتے ہوئے بھی طے کر جاتا ہے۔۔۔جب اس کو احساس ہوتا ہے تو اس وقت تک بہت کچھ اس کی طاقت میں نہیں رہتا۔۔آج کا سفر منزل نہیں۔۔بلکہ منزل کی تلاش میں ایک دریافت ہے۔۔یوں سمجھ لیں جس طرح کولمبس نکلا کہیں اور تھا، جاتے جاتے نئی دنیا بھی دریافت کر بیٹھا۔۔ یار لوگ کہتے ہیں دریافت کوئی نئی چیز نہیں۔۔۔ اس کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے رکھنا کہ وہ نئی نظر آئے۔۔۔یہی بِکتا بھی ہے۔۔۔اور دِکھتا بھی۔۔ہم چلے تو چڑیا جی کے گھر تھے راستے میں کہیں اور اٹک گے۔۔ ہم پہنچے ایک بہت ہی پُرفضا اور دل کو موہ لینے والے مقام پر۔ وہ کیا ہے ۔۔ اس کا گھونگٹ اٹھانے سے پہلے تعارف ہو جائے ۔۔ جاپان کی زبان میں jinjaیا shrine ہماری مادری زبان انگلش میں SHRINEاور ہماری ملکی و قومی زبان میں ،مزار، ہماری ماں بولی میں دربار اور درگاہ۔۔۔ یہ سب اس کے نام ہیں۔۔۔جاپان میں بدھ مذہب ہے اس لیے ان کے ہاں بھی اس کا تصور خوب ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق جاپان میں ایک لاکھ رجسٹرڈ درگاہیں ہیں۔۔ چھوٹی موٹی اس کے علاوہ ہیں۔ سب سے مشہور شرائن MIJI SHRINE TOKYO کے نام سے جانا جاتاہے۔ ان کا انتظام گورنمنٹ کے پاس بھی ہے لیکن بدھشٹ اس کے تمام معاملات کو دیکھتے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں وطن عزیز کے محکمہ اوقاف کی طرح،باقی آپ خو سجھدار ہیں۔۔۔اب آتے ہیں ہماری دریافت۔بلکہ بازیافت۔۔ Takuboku Ishkiwa's ۔1912_1886 ۔ یہ ایک طالب علم تھا اور اپنے گاؤں سے شہر پڑھنے کو آیا لیکن تعلیم تو مکمل نہ کر سکا اور ایک جاپانی مٹیار کی زلفوں کا اسیر ہو گیا ۔پھر اس اسیری کو عمر قید میں بدل لیا۔۔اپنے موری اوکا کے قیام کے دوران وہ Tenmangu shrine جوکہ دیار کے خوبصورت درختوں کے جھنڈ میں ہے اور ہماری آج کی منزل بھی۔۔۔وقت گزارا کرتا تھا۔۔ ماحول کا اثر کہیں یا طبعیت کی مائیگی اس پُر فضا مقام پر اس نے اپنی شاعری اور ناول نگاری کو مکمل کیا اور ادیب موری اوکا کے نام سے پہچانا گیا ۔آئیے آپ کو بھی لیے چلتے ہیں اس جانب۔

حضرات۔۔۔احساس ہو جانابھی۔۔۔۔زندگی میں۔۔۔نصیب کی بات ہے۔ورنہ بندہ ساری زندگی۔۔۔نہ منزل کو پا سکتاہے نہ مرادتک پہنچ پاتا ہے۔۔۔یہ تارٍڑ چاچا۔۔۔یہ مفتی میاں۔۔۔ رضیہ آپا۔۔۔کمال کے۔۔ہمت حوصلے۔۔۔اور صبرکے خوگرتھے اور ہیں۔۔ایسے تو نہیں چاچا رائیلٹی کی مد میں گھر کا چولہا دہکانے کے قابل ہوئے ۔۔۔ خام سے کندن تک کیا مراحل ہیں۔۔۔ وہ سونا جانے۔۔۔ہمیں تو ماتھے کاجھومر۔۔۔اور پائل کی جھنکارکانظارہ چاہیے۔۔۔۔لگتا آج کافی ہوئی جو درس احساس لیے بیٹھا ہے۔۔۔چلو چلیں سوئے منزل۔۔۔کہتے ہیں موسم اورحالات کے اثرات پڑھنے ،لکھنے اورسوچنے پراثر انداز ہوتے ہیں۔۔۔

ظہر کی نماز، کے لیے نکلا بارش کافی کھل کے ہورہی تھی۔۔۔سوچا آج آرام میں ہی عافیت ہے۔بارش کیا رکی۔۔۔ساتھی مچل پڑا۔۔۔سمجھایا،بجھایا۔۔۔کب مانے۔پوچھا کہا ں۔۔۔بولا کہیں بھی،مگر جانا ضرور ہے۔۔لو جی انکل گوگل کو ساتھ تیارکیاتو ایک آنٹی بھی ساتھ۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی چل دیے۔انکل نے پوچھا کہاں؟۔۔ کہاکہ چڑیا گھر،مسکرا دیا۔۔۔پوچھا کیسے؟۔۔۔ پیدل یا گاڑی پر۔۔ہم مسکرائے۔۔۔اپنی سواری پر۔۔۔او ر اوقات کے مطابق۔۔ پیدل ہی لے چلو۔۔۔کہتاہے کہ لمبا ہے۔ کہا۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔۔اس کو کیا پتہ۔ہم گاڑی نما۔۔۔سائیکل پر ہیں۔۔اس کو پتا نہیں تھا کہ ہم اس سے چالاک ہیں۔۔۔ہر سوال کا جواب رکھتے ہیں۔۔انکل نے بتایا جانے میں گھنٹہ لگے گا پیدل۔۔۔ جب آپ پہنچیں گے ڈیڑھ گھنٹے بعد چڑیا گھر بند ہو جائے گا۔۔ہم نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی۔۔ہمارے خیال میں پیدل جلد پہنچ جائیں گے گاڑی سے۔۔جس کو وہ پیدل کہہ رہے ہیں وہ تو سائیکل پر آدھے گھنٹے کا ہوگا۔۔یہ سب سوچتے ہم جا رہے تھے۔۔ جی انکل تو شاید سو گئے ،ہمیں آنٹی جی کے حوالے کر دیا۔۔۔آنٹی تو شاید فوج سے تھی۔لیفٹ۔رائٹ۔ سیدھاچل،الٹا مڑ۔کہاانٹی میں۔۔۔موجی ہو فوجی نہیں۔جواب ملاموجی کا دل پر بس نہیں چلتا،اور فوجی کا دماغ ۔پرجو کہوں سنتا جا۔۔نو کمنٹ۔۔۔آنٹی بھی سیاستدان لگی۔۔۔اس بیان سے۔۔حضرات گلیوں،کونوں کھدروں۔پتا نہیں کدھر کدھر۔۔۔ انکل کو جگایا۔۔۔ اس نے قہر بھری آوازاور زہر آلود الفاط سے

انٹی کی بات ماننے کاکہا۔چل دیے۔۔منزل قریب کیا ہوئی۔۔۔کٹھن سے کٹھن۔کبھی آنٹی حوصلہ بھی دیتی۔۔۔۔ بس قریب ہے۔۔۔فری ہونے کا سوچا۔۔آنٹی کا فوجی جاگ گیا۔کام سے کام۔۔۔ چل دیے۔۔۔ہم بھی موجی تھے۔۔۔راستے میں ایک خوبصورت جگہ دیکھی۔ہم لٹو ہو گے۔۔۔آنٹی روکتی رہی۔۔۔ہم نے ایک نہ سنی۔۔۔لیں جناب ہم موری اوکا کے ایک ادیب اور۔۔۔ مشہور ناول نگار۔۔۔۔تاکوبک کی۔۔۔درگاہ پر تھے۔۔۔انکل کو اٹھایااورپوچھا تو کچھ منت ،سماجت کے بعدبتانے لگے۔۔اس نے اس پُر فضامقام پردیار کے کڑیل درختوں کے بیچ۔۔۔جہاں سے شہر اماں کا نظارہ کیا اورکئی ناولوں کا مصنف بنانے کی ہمت اور حوصلہ بخشتا ہے ۔اسی جگہ پراپنا مشہور ناول‘ 'Furnal procession لکھا۔۔۔ جو اس کو امر کرگیا۔واہ،واہ کمال کر دی۔۔۔ بابا جی نے۔۔۔ادھر انٹی بار بار۔ انکل کے کان بھرے جا رہی تھی ۔غلط راستے پر ہیں،منزل اور ہے ۔گو بیک۔۔۔۔ہم ان سنی کیے۔۔۔جا رہے تھے۔۔۔۔اس درگاہ پرپاکستان۔۔۔کا۔۔۔منطر دیکھا ۔گویا کہ ہم پاکستان پر کسی درگاہ یا خانقاہ پر ہیں۔۔۔وہی دھاگے،منتیں۔شرینیاں،کارڈ۔۔۔واپس پاکستان پہنچ گئے۔ کچھ اپنا سا لگا ،انکل سے پوچھا یہ کیا ہے سب ؟۔جوا ب ملاکہ سب اس معاملے میں کافی مشترک ہیں ،بس فرق یہ ہے وہ کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں۔۔۔یہ انکار کرکے۔۔وہ اولیا اللہ ہیں۔یہ اولیا شیطان ۔ طریقہ ایک ۔منزل مختلف۔۔۔پوچھا۔۔۔کارڈ اور یہ کاغذ کے ٹکرے ۔ یہ خوبصورت چادریں ،اور شرینیاں کیوں ؟۔۔۔۔بولا۔۔یہاں منتیں ماننے آتے ہیں کہ بابا جی۔۔۔ان کی اچھی نوکری۔۔۔تعلیم میں کامیابی۔۔۔اور کامیاب انسان بننے۔۔۔۔کی دعا فرما دیجیے۔۔۔جس کی پوری ہوتی ہے۔۔۔وہ پھر یہاں شرینی کے طورپر کوئی چیز بنوا دیتا ہے۔میں گم صم کھڑا سوچ رہا تھا،میں۔۔ہم تو رب پر ایمان رکھتے ہیں۔۔اس لیے وہ ہماری مرادیں پوری کر نے پر قادر ہے۔۔لیکن یہ بھی ہماری نقل کرتے ہیں۔۔۔پوچھا۔۔۔ہم نے ان سے یہ سب ادھار لیا۔۔۔یا انہوں نے۔۔۔انکل تو خاموش تھے۔۔۔ساتھی جاگا۔۔۔کہا جن کو اپنے ربّ پرجس طرح کا گمان وہ ویسے ہی ملتا ہے۔۔پھروہ شارٹ کٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اپنے مالک سے دور ہو جاتے ہیں۔وہ کوئی بھی ہوسکتاہے۔لیکن ایک بات جو بھلی لگی وہ یہ کہ باذوق لوگوں کی قدرہر جگہ پر ہے ۔اس پر فضا ماحول میں کیا تخلیق ہواہو گا۔امید ہے ایک شاہکار ضرور ہو گا۔۔ادیب حالات کے تھپیڑے بناتے ہیں۔۔یاپھرذوق جمال قدرت۔۔۔ساتھی تورکنا چاہتا تھالیکن ایک عجیب سی وحشت نے ٹکنے نہ دیا۔۔۔آنٹی بار بار ہدایات دے رہی تھی گو سیدھا۔۔۔ہم نے آنٹی سے معذرت کی اس نے۔۔۔۔۔مان لی اور ہم منزل۔۔۔کو ہو لیے۔۔۔منزل تک کیسے پہنچے۔۔۔اُف اُف اُف۔۔۔امید ہے آپ منزل تک۔۔۔ساتھ رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -