سیاسی شہید ہوا کرے کوئی

سیاسی شہید ہوا کرے کوئی
سیاسی شہید ہوا کرے کوئی

  

یہ بات تما م مُحبانِ وطن کے لئے خوش آئیند ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان ڈان لیکس کے حوالے سے پیدا ہو نی والی بد گُمانی خوش اسلُوبی سے طے پا گئی ہے۔ حا لات کی سنگینی سے ہر شخص سہما ہوا تھا۔ لگ بھگ تمام سیاسی پارٹیوں کی کوشش تھی کہ معاملے کو ہوا دِی جائے تاکہ سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان تعلقات میں تناؤ اِسقدر بڑھ جائے کہ نوبت مارشل لاء تک آ پہنچے۔ ویسے میاں نواز شریف کے سابقہ ریکارڈ کو اگر سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ میاں صاحب نے ہر دور میں فوج کے چیف سے لڑائی مول لی ہے ،پارٹی کے معتبر رہنماء کے مُطابق میاں صاحب اپنے پاؤں پر کُلہاڑی مارنے کے ما ہر ہیں۔ وُہُ فوج کو اپنے دباؤ میں رکھنے کے عادی ہیں۔ جنرل راحیل سے تعلقات بھی اتنے خوشگوار نہ تھے۔ مو صوُف اُنکی شہرت سے گھبراتے تھے۔ عوام میں اُنکی مقبولیت دیکھ کر نالاں رہتے تھے۔خاص کر امریکہ میں اُنکی مقبُو لیت اُنکو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ لیکن وقت گُزاری کے لئے وُہ جنرل راحیل کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔

ڈان لیکس کا معاملہ بھی جنرل راحیل کے دور کا ہی ہے۔ جنرل راحیل کے ردِ عمل کو دیکھ کر ہی نواز شریف کی حکومت نے اپنے معتمد خاص پرویز رشید کو سبکدوش کیا اور ڈان لیکس کی تحقیق کرنے کے لئے با قاعدہ تحقیق کا سلسلہ شروع کیا گیا۔سَب کو اُمید تھی کہ ڈان لیکس کے مرکزی کردار کو ڈان لیکس کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اپوزیشن، عوام اور فوج کی اُمیدوں پر پانی پھیر گیا۔ مایوسی اور غُصے کے عالم میں فوج کے تعلقاتِ عامہ کے انچارج میجر جنرل غفور نے وزیر نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے جاری شُدہ نو ٹیفیکشن کو مسترد کر دیا۔ جو کہ حکومت کے لئے دردِ سر کا باعث بنا۔ اپوزیشن نے اِس ٹویٹ کو نعمتِ متبرکہ سمجھا اور مذ کورہ ٹویٹ کی اپنے اپنے انداز میں تشریح فرمائی۔ اِس ٹویٹ سے یہ تا ثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت اور فوج کے درمیان معاملات نو ریٹرن تک پہنچ گئے ہیں۔ اور کسی وقت بھی فوج ا اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے۔ بلا شُبہ حالات ایسے ہی تھے۔ لیکن اِسے اتفاق کہیئے یا نواز شریف کی خوش قسمتی کہ فوج نے ٹویٹ کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ حالا نکہ حقیقت یہ ہے کہ جاری کردہ ٹویٹ میجر جنرل غفور نے اپنی مرضی سے نہیں لکھا تھا۔ بلکہ یہ ٹویٹ عسکری قیادت کے خیالات کا ترجمان تھا۔ عام طور پر فوج کے تعلقات عامہ سے جاری کردہ ا یسے اعلامیے یا ٹویٹ کو عسکری قیادت کی منظوری کے بعد ہی جاری کیا جاتا ہے۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ فوجی قیادت کو وزیر اعظم کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکش پر مایوسی ہوئی تھی۔

صورتِ حال اِس قدر گھمبیر تھی کہ وزیر داخلہ نے پانچ دنوں میں پانچ دفعہ وزیر اعظم سے اِس بارے میں بات چیت کی۔ فوج کی قیادت سے گفت و شنید کا آغاز کرنے کے لئے مُختلف حربے اور طریقے استعمال کئے گئے۔ تقریباً ایک ہفتہ کی مکمل خاموشی کے بعد وزیر اعظم اور آرمی کے درمیان مُلاقات ہوئی اور ایکدم تمام غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گیا۔ لیکن مُلاقات سے ایک روز پہلے وزیر اعظم نے وزراء اور مشیروں سے مشاورت کی۔ جس میں طے پایا کہ سول حکومت کی بالا دستی کو ہمیشہ قایم رکھا جائے گا۔

مُلاقات کے بعد، فوج کے تعلقات عامہ کی جا نب سے ٹویٹ کو با ضاطہ طور پر و اپس لے لیا گیا۔ جنرل غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج وزیر اعظم کو مُلک کا آ ئینی سر براہ سمجھتی اور اُ ن کے احکامات کے تحت کام کرتی ہے۔ ٹویٹ کو منفی رنگ دیا گیا ہے۔ جو کہ افسوناک ہے۔ بد قسمتی سے فوج اور سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا گیا ہے۔ فوج کے سیاسی قیادت سے کوئی اختلافات نہیں۔ نوٹیفیکش پر اَب عمل درآمد ہو چُکا ہے ۔ لہذا فوجی قیادت پہلے والے ٹویٹ کو با قاعدہ واپس لیتی ہے۔ مزید براں اِس سلسلے میں پیدا کی جانے والی تمام غلط فہمیوں کی تردید کرتی ہے۔ اِس طرح حکومت اور فوج کے درمیان ٹکراؤ یا تصادم کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔

پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں بر سرِ اقتدار پارٹی کی حکومت کو گرانے کے لئے فوج کو ہمیشہ استعمال کرنے کے موڈ میں رہتی ہیں۔ کیونکہ اُنکے نزدیک فوج کو حکومت کے خلاف لڑانا مفید رہتا ہے کیونکہ فوج کو اقتدار کی دعوت دینا ایک شارٹ کٹ ہے۔ اِسلئے اُنکی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ فوج سوِل حکومت کو سبکدوش کرکے مارشل لاء لگا دے۔لیکن افسوس ہے کہ یہ نادان سیاستدان مارشل لاء کے منفی اثرات سے واقف نہیں ہوتے۔ لیکن اُنکو مُلک یا اُسکے مُفادات کی پرواہ نہیں ہوتی۔ اُن کے نزدیک حکومت کو گرا کر اپنی حکومت بنانا ہی اہم ہوتا ہے۔

ڈان لیکس کے حوالے سے بہت سارے تبصرے کئے گئے ہیں۔ ہر پہلو اور زا و ئیے کو بڑی باریکی سے دیکھا اور تانکا گیا ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں کے مُطابق، جنرل با جو ہ نے جمہوریت کی خاطر سب کُچھ برا دشت کر لیا ہے۔ انہوں نے آئین کی بالا دستی کو اہمیت دِی ہے۔ لیکن کُچھ لوگ اِس کو بُز د لی سے تعبیر کرتے ہیں۔جبکہ منجھے ہوئے سیاستدان اِس کو مصلحت پسندی کا نام دیتے ہیں۔ اُنکے مُطابق، فوج نواز شریف کو سیاسی شہید بننے کا مو قعہ فراہم نہیں کرنا چاہتی۔ اُن کو معلوم ہے کہ نواز شریف کی حکومت کا جانا ٹھہر چُکا ہے۔ اِس لئے حکومت کو گرا کر فوج اپنی بد نامی نہیں چاہتی۔ فوج کی نظریں بھی عوام کی طرح عدالتِ عالیہ کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔

مُسلم لیگ(ق) کے رہنماء گو کہ زیادہ خبروں میں نہیں رہتے لیکں اُنکے اثر و رسوخ اور تعلقات سے انکار ممکن نہیں۔ اُنکو بھی پل پل کی خبر رہتی ہے۔چوہدری پرویز الہی نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو ڈان لیکس کو بھول جانا چا ہئے اور پانامہ کیس کے سلسلے میں بننے والی جے آئی ٹی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ جس کا عام اور سادہ معنوں میں مطلب یہ ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت کے درمیاں ڈان لیکس کے حوالے سے مفاہمت ہو چُکی ہے۔ اُس پر مزید تنقید کرنے سے کُچھ حا صل نہ ہوگا۔ اپوزیشن کو پانامہ کیس پر توجہ دینی چاہئے۔ کیونکہ پانامہ کیس میں نواز شریف اور اُن کے خاندان کی پوزیشن کمزور ہے۔ جبکہ عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو بتایا جائیکے فوج اور حکومت کے درمیان ڈان لیکس کے سلسلے میں کیا معاہدہ ہوا ہے۔ یہ مسئلہ صرف حکومت اور فوج کا ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ جس کی تفصیلات جاننا عوام کا جمہوری حق ہے۔ عوام اِس مسئلہ پر فوج کے سر براہ کا موقف سُننے کے لئے بے چین تھے۔ بالاآخر آرمی چیف نے کوئٹہ میں فو جیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنکی سول حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ اُنکو خریدنے کی کوئی جُرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مُختصر سا بیان دیکر اپنی اور فوج کی پوزیشن کو واضع کر دِیا ہے۔ تاہم سیاسی پنڈت فوج کی موقف سے پسپائی کو معنی خیز قرار دیتے ہیں۔ اُنکے مُطابق نواز شریف اِس کھیل میں جیت کر بھی ہار گئے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -