فحش فلمیں دیکھنے والے مرد زندگی کی سب سے اہم چیز سے محروم ہو جاتے ہیں، تحقیق میں ہوش اڑا دینے والا انکشاف

فحش فلمیں دیکھنے والے مرد زندگی کی سب سے اہم چیز سے محروم ہو جاتے ہیں، تحقیق ...
فحش فلمیں دیکھنے والے مرد زندگی کی سب سے اہم چیز سے محروم ہو جاتے ہیں، تحقیق میں ہوش اڑا دینے والا انکشاف

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) فحش فلمیں د یکھنا حد درجہ بے حیائی کا کام ہے۔ بسا اوقات پکڑے جانے پر ذلت و رسوائی کا بھی سبب ہے۔ لیکن اگر یہ بھی کافی نہیں تو مزید جان لیجئے کہ نامردی کا دردناک دکھ بھی اسی گندے شوق کا نتیجہ ہے۔ تو فحش فلموں کے عادی نوجوان اگر اب بھی توبہ نہ کریں تو ان کی عقل کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بکثرت فحش فلمیں دیکھنے والوں میں نفسیاتی جنسی مسائل پیداہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ شریک حیات کو مطمئن کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ امریکن یورالوجیکل ایسوسی ایشن کی 112ویں سالانہ سائنسی کانفرنس میں پیش کی گئی یہ تحقیق خواتین اور مردوں کے الگ الگ سروے پر مشتمل ہے۔ سروے میں شامل خواتین اور مردوں کی عمر 20سے 40 سال کے درمیان تھی۔

تحقیق کے مطابق فحش بینی کا خواتین کی جنسی صحت پر قابل ذکر اثر نہیں ہوتا لیکن مردوں کی جنسی صحت کیلئے یہ زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ فحش بینی کی لت میں مبتلا مردوں کی اکثریت حقیقی زندگی میں ازدواجی فرائض ادا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے اور مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ متاثرہ مردوں میں سے چار فیصد کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ اب وہ صرف فحش فلموں سے مطمئن ہوتے ہیں اور کسی بھی انسان کے ساتھ جسمانی تعلق سے نفرت کی حد تک بیزار ہوچکے ہیں۔

جنسی صحت کے ماہر ڈاکٹر میتھیو کرائسٹمن نے تحقیق کے نتائج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ نوجوان نسل میں جسمانی نقائص سے زیادہ نفسیاتی مسائل نامردی کی وجہ بن رہے ہیں۔“ اسی طرح ڈاکٹر جوزف الوکال کا کہنا تھا کہ ”فحش فلموں کے غیر حقیقی مناظر نوجوانوں میں احساس کمتری پیدا کردیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی نظروں میں گر جاتے ہیں اور ازدواجی فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ فحش فلموں کے غیر حقیقی کرداروں کے سامنے خود کو کمتر محسوس کرنا رفتہ رفتہ ان کا پختہ نفسیاتی رویہ بن جاتا ہے۔ ازدواجی فرائض کی ادائیگی میں ناکامی ان کے لئے مزید مایوسی کا سبب بنتی ہے اور یوں معاملہ گھر برباد ہونے تک پہنچ جاتا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -