” وہ زمین پر زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے جب آسمان سے ایک خوفناک آگ نے انہیں آلیا “سائنسی تحقیق میں ایسا انکشاف کہ آپ گہری سوچ میں ڈوب جائیں گے

” وہ زمین پر زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے جب آسمان سے ایک خوفناک آگ نے انہیں آلیا ...
” وہ زمین پر زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے جب آسمان سے ایک خوفناک آگ نے انہیں آلیا “سائنسی تحقیق میں ایسا انکشاف کہ آپ گہری سوچ میں ڈوب جائیں گے

  

لندن (نیوز ڈیسک) سائنسدان کہتے ہیں کہ آج سے کروڑوں سال قبل کرہ ارض پر دیو ہیکل جانور ڈائنوسار کا راج تھا، لیکن پھر کوئی پراسرار آفت نازل ہوئی اور یہ جانور ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ یہ پراسرار آفت کیا تھی، اس کے متعلق طرح طرح کے نظریات پیش کئے جا چکے ہیں، البتہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تازہ ترین ڈاکیومنٹری میں پیش کئے جانے والے نئے نظریے نے ساری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

ڈاکومنٹری "The Day The Dinosaur Died" میں بتایا گیا ہے کہ کروڑوں سال قبل زمین پر 9میل لمبا شہاب ثاقب گرا جس کے بعد زمین پر برف کے دور کا آغاز ہوا اور ڈائنوسار سمیت ہر طرح کے جانداروں کا کرہ ارض سے صفایا ہوگیا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈاکیومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال قبل میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان کے قریب نومیل لمبائی پر محیط شہاب ثاقب گرا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میکسیکو میں اس جگہ اب بھی 20 میل گہرا گڑھا موجود ہے جس کی وسعت 111 میلوں پر محیط ہے۔

اس نظریے کے مطابق جب شہاب ثاقب زمین پر گرا تو راکھ کے گہرے بادل زمین کے اردگرد کے تمام ماحول میں پھیل گئے۔ دبیز راکھ کے ان بادلوں کی وجہ سے سورج کی روشنی زمین تک پہنچنا بند ہوگئی۔ اگلے 10 سال تک زمین سورج کی روشنی سے محروم رہی اور اس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیا۔ جب ہر طرف برف ہی برف جم گئی تو زمین سے سب نباتات کا بھی خاتمہ ہو گیا اور ان نباتات کو کھا کر زندہ رہنے والے تمام جانور بھی مر گئے۔ تو یعنی ڈائنوسار کی نسل یوں ختم ہوئی کہ ان کیلئے زمین پر خوراک دستیاب نہیں تھی اور رفتہ رفتہ وہ بھوک کے ہاتھوں مرگئے۔

ماہرین نے مزید دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ 40 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے میکسیکو میں گرنے والا شہاب ثاقب اگر محض 30 سیکنڈ پہلے یا بعد میں گرتا تو یا یہ اوقیانوس سمندر میں گرتا یا پھر بحرالکاہل میں ۔ دونوں صورت میں زمین پر وہ تباہی نہ آتی جو شہاب ثاقب کے خشکی پر گرنے کی وجہ سے آئی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -