”اگر امریکہ نے اس ایٹم بم رکھنے والے اس ملک کو کچھ کہا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے “ روسی صدر پیوٹن کا ایسا اعلان کہ سن کر ٹرمپ پریشان ہو جائیں گے

”اگر امریکہ نے اس ایٹم بم رکھنے والے اس ملک کو کچھ کہا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں ...
”اگر امریکہ نے اس ایٹم بم رکھنے والے اس ملک کو کچھ کہا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے “ روسی صدر پیوٹن کا ایسا اعلان کہ سن کر ٹرمپ پریشان ہو جائیں گے

  

ماسکو (نیوز ڈیسک)جس ملک کا امریکا دشمن ہوجائے روس عموماً اس کے ساتھ کھڑاہوجاتا ہے، اور شمالی کوریا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کو پے در پے ایٹمی حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکہ نے اپنی بحری افواج کوریائی سمندر میں پہنچادیں اور اسے جنگ کی دھمکی دے ڈالی، لیکن دوسری جانب پیوٹن نے یہ بیان دے کر امریکہ کو حیران کردیا ہے کہ شمالی کوریا کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاﺅ کے خلاف ہیں لیکن یہ بھی پسند نہیں کریں گے کہ شمالی کوریا کو خوفزدہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ گزشتہ ہفتے شمالی کوریا کی جانب سے چلایا جانے والا میزائل روسی شہر ولادی ووستک کے خطرناک حد تک قریب آکر گرا۔ امریکہ کی جانب سے گزشتہ روز یہ بیان سامنے آیا تھا کہ شمالی کوریا کا میڈیم رینج میزائل روسی شہرولادی پوسٹک سے صرف 60 میل کی دوری پر بحرالکاہل میں گرا تھا۔ دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ میزائل روسی ساحل سے کم از کم 300میل کی دوری پر سمندر میں گرا اور اس کی وجہ سے روس کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔

اس میزائل تجربے کے بارے میں شمالی کوریا کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ ایک نئی قسم کا میڈیم لانگ رینج بیلسٹک میزائل ہے جو ایٹمی ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے میزائل تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا مزید ایٹمی میزائلوں کے تجربے کرے گا اور ضرورت پڑنے پر اپنے ایٹمی میزائلوں سے امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنائے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -