امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں!

امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں!
امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت کے بعد امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اپنے سفارت کار کو واپس لے جائے اور سزا سے بچا لے۔

ایک طرف امریکہ اصولوں اور قوانین کا چمپئن بنتا ہے اور دوسری طرف اس نے پوری دنیا میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پوری دنیا میں شاید اسی کا قانون چلتا ہے اور وہ جہاں چاہے مقامی قوانین کو روندنے کا حق رکھتا ہے۔

یہ امریکہ کی خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان جیسے خود مختار ملک کو اپنا بغل بچہ بنانے پر قادر ہے۔

پاکستان ایک آزاد ریاست ہے، جہاں ہر کسی کو قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ چاہے وہ ایک عام آدمی ہو یا پھر ملک کا صدر۔ امریکہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی ملک کو پہلے اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس کے بعد اسے ٹشو پیپر کی طرح مسل کر پھینک دیتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے پوری دنیا میں اس کا سکہ چلتا ہے اور پوری دنیا اس کی معاشی طور پر محتاج ہے۔

ایسا ہر گز نہیں ہے۔

ماضی میں ایسا ہوتا ہو گا، لیکن اب صورت حال بدل رہی ہے۔ پہلے صرف امریکہ دنیا کا چودھری بنا ہوا تھا، لیکن اب کئی نئی معاشی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں، ان میں چین سرفہرست ہے۔ اسی طرح روس اور جاپان بھی تیزی سے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

چین نے تو ایک گولی چلائے بغیر دنیا کو فتح کرنا شروع کر دیا ہے۔

خود امریکہ میں اب ہر قسم کی چیز چین سے بن کر جاتی ہے، یہی نہیں بلکہ امریکہ چین کا کھربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ امریکہ کو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ کسی بھی ملک کو اب اس طرح دبا نہیں سکتا، جیسا کہ وہ ماضی میں کرتا تھا۔

چین اور پاکستان کا تعلق بھی دنیا کے سامنے کھل کر آ چکا ہے۔ چین پاکستان کی ہر طرح سے سپورٹ کر رہا ہے، چاہے وہ معاشی میدان میں ہو یا سیاسی۔ چین کے ساتھ پاکستان کے جاری منصوبے صرف دونوں ملکوں کے مابین ہی نہیں، بلکہ آدھی سے زیادہ دنیا کے ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گے اور جب ایسا ہو تو لامحالہ یہ سارے ممالک بھی چین اور پاکستان کا ہی ساتھ دیں گے، اس طرح دنیا میں ایک نیا بلاک قائم ہو جائے گا، جس کے بعد امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ وہ ایک عام ملک کی طرح دیگر ممالک کے قوانین کا احترام کرے۔۔۔ اسلام آباد میں جس شہری کو امریکی سفیر کی گاڑی کے نیچے روند دیا گیا، وہ کوئی کیڑا مکوڑا نہیں تھا، اس پر حکومت پاکستان اپنے شہری کے حقوق کے لئے اس کے ساتھ کھڑی ہوئی، اس کا پرچہ بھی مقامی تھانے میں درج ہوا اور متعلقہ سفیر کو مورد الزام ٹھہرا یا گیا، جس سے امریکہ کو یہ پیغام پہنچا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا اور یہ کہ امریکہ کے سفراء کو یہ اختیار بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں جب چاہیں، جس کو چاہیں اپنی گاڑی تلے روند کر قتل دیں اور اس کے بعد استثنا کا حق مانگتے ہوئے اپنے ملزم کو واپس امریکہ منگوالیں۔ ہفتے کے روز تو امریکہ نے حد کر دی اور ملزم سفیر کو امریکہ لے جانے کے لئے سی ون تھرٹی طیارہ بھجوا دیا، جس سے اسلام آباد ایئرپورٹ پر جب وزارت خارجہ کا این او سی طلب کیا گیا، جسے نہ دکھانے پر طیارے کو واپس جانا پڑا۔

امریکہ میں پاکستانی سفارت کاروں پر بے جا پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

وہ مخصوص علاقے اور مخصوص حد سے باہر بغیر پیشگی اجازت نہیں جاسکتے۔ پاکستان نے بھی ضروری سمجھتے ہوئے یہ پابندیاں امریکی سفارت کاروں پر بھی عائد کر دی ہیں تاکہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر انہیں مقررہ حدود سے باہر جانا ہو تو وہ بھی پیشگی اجازت لیں۔

یہ اقدام بالکل درست ہے، اس سے امریکی اہلکاروں کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں اگر انہیں رہنا اور کام کرنا ہے تو یہاں کے ملکی قوانین کے تحت ہی کرنا ہو گا اور یہاں کوئی بھی قانون سے ماورا ہرگز نہیں ہے۔

امریکہ نے اپنے ملک میں ہمارے سفارت کاروں کا ناطقہ بند کیا تو ہم نے بھی اس کا فوری جواب دیاا ور امریکی سفارت کاروں پر وہ پابندیاں لگا دیں جو امریکی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کئی مدو جذر آئے۔

جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو اس نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے ہر طرح کے اقدامات کئے، لیکن جیسے ہی اس کی ضرورت پوری ہو گئی ، وہ نظریں پھیرنے لگا۔ امریکہ نے صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہی ایسا کیا، بلکہ مڈل ایسٹ کے کئی ممالک اس کی زد میں آئے۔

یہ پاکستان کا بھی تورا بورا بنانا چاہتا تھا، لیکن یہ تو پاکستان کی سول اور فوجی حکومتیں اس کے آڑے آ گئیں اور پاکستان کی داخلی خود مختاری اور سالمیت پر سمجھوتہ کرنا گوارا نہ کیا، وگرنہ امریکہ نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ وہ پاکستان کو بھی عراق اور افغانستان بنا دے۔

کبھی امریکہ نے پاکستان کو افغان جہاد میں جھونک دیا اور کبھی دہشت گردوں سے لڑنے کی آڑ میں پاکستان میں اڈے قائم کرنے لگا۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ انتہائی خلوص کا مظاہرہ کرتا رہا، لیکن امریکہ نے اس کا ہمیشہ منفی جواب دیا۔

سلالہ میں ہمارے درجنوں فوجی اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا، جس پر پاکستان نے امریکی نیٹو سپلائی لائن منقطع کر دی جو امریکہ کے معافی مانگنے کے بعد ہی بحال کی گئی۔ امریکہ نے عراق پر بھی ایسے ہی چڑھائی کی اور اس پر یہ الزام لگایا کہ وہ مہلک کیمیائی ہتھیار بنا رہا ہے۔

عراق نے بارہا اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ امریکی یا اقوام متحدہ کے انسپکٹرز آ کر معائنہ کر سکتے ہیں، لیکن امریکہ نے تو عراق کو ملیامیٹ کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا تھا، چنانچہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دنیا کے دیگر جدید ممالک کو ساتھ ملا کر عراق پر چڑھ دوڑا۔

جس کے بعد ابھی تک عراق آگ اور خون میں جل رہا ہے۔ دس لاکھ عراقی شہریوں کی جان لے لی گئی، عراق کو کھنڈر بنا دیا گیا، اس کے بعد شام کی باری آچکی ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب وہاں سینکڑوں بے گناہ شامیوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔

لاکھوں شامی ملک بدر ہو چکے اور کئی سمندروں میں غرق ہو گئے، لیکن امریکہ کی خون کی پیاس نہیں بجھ سکی۔ وہ اب دیگر ملکوں کو ہڑپ کرنے اور انہیں کھنڈر بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔ اس کی یہ خواہش اب پوری نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں جمہوری حکومت موجود ہے جو اپنا دفاع کرنا اور اپنی عزت کروانا جانتی ہے۔ امریکی سفارت کار سے ملکی قوانین کے مطابق سلوک ہو گا ۔ پاکستان امریکہ کا غلام نہیں ہے جو اس کی ڈکٹیشن لیتا جائے اور امریکہ جب چاہے اس کے شہریوں کو گاڑیوں تلے روند دے۔

چاہے امریکہ کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو، بات جہاں انسانی حقوق کی آئے گی، وہاں پورا ملک اور تمام انسان برابر اور ایک ہی حیثیت کے حامل ہیں۔

امریکہ کو یہ باور ہو چکا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس کے کسی دباؤ میں آنے والی نہیں، اس لئے اسے بھی دھمکی اور دھونس جمانے کی بجائے پاکستان کے قوانین کا مکمل احترام کرنا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم