ایران کے خلاف عالمی طاقتوں کی سازش

ایران کے خلاف عالمی طاقتوں کی سازش

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر سال 2015ء میں عالمی طاقتوں کے تہران کے ساتھ معاہدے سے دستبرداری کے اعلان پراس کا زیادہ فائدہ تہران کو ہوگا تاہم بعض کے بقول مغربی ممالک جو اس وقت معاہدے کی پاسداری کا اعادہ کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ ایران کو امریکہ کی ایما پر نئے کسی معاہدے کے لئے راضی کرنے کی کوشش کریں۔

امریکہ چین، روس اور ایران کے تعلقات اور مفادات میں کایا پلٹ کو نہیں سمجھ پا رہا۔ اس طرح کا دباؤ اب تہران پر کار گر نہیں رہا، اگر معاہدے میں تبدیلی مقصود تھی بھی تو معاہدے کے اندر رہتے ہوئے اس کو ’’ ری انفورس‘‘ کیا جانا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو ایران کے اندر انفراسٹرکچر میں دلچسپی ہے۔ وہ پہلے کی طرح امریکہ کو روس یا ایران کے خلاف بلینک چیک نہیں دے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ شروع دن سے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کو کمزور سمجھتی تھی۔ پھر اس معاہدے میں تبدیلی یا دستبرداری انتخابی وعدہ تھا اور اس سے نکلنے کا ایک اہم مقصد ایران کے مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔

اس کا تعین وقت کرے گا مگر یہ ضرور ہے کہ جو یورپی ملک اس وقت تہران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ آئندہ امریکہ کے ایما پر کسی نئے معاہدے کے لئے ایران پر زور دے سکتے ہیں۔

مغرب کے لئے امریکہ اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو واشنگٹن کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہو گا، جس سے امریکہ کو اس معاہدے سے نکلنے کا اس قدر نقصان نہ ہو جتنا خیال کیا جا رہا ہے۔ ایران کی قیادت اور عوام کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر ذرا برابر حیرت نہیں ہوئی۔ صدر حسن روحانی اور سپریم کمانڈر واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر کوئی نیا معاہدہ نہیں کرے گا۔

ایران کو اس حد تک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ عالمی طاقتوں میں اس وقت دراڑ پڑ چکی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل واشنگٹن سے بات کرنے والی ہیں۔

یورپی ملکوں کے امریکہ کے ساتھ گہرے مفادات وابستہ ہیں وہ ایران کے لئے امریکہ سے لڑائی تو کرنے سے رہے۔ جہاں تک امریکہ کی ساکھ کا سوال ہے، معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے ضرور متاثر ہوئی ہے۔

اب تو افغان طالبان بھی کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اگر کوئی معاہدے کریں تو کیا وہ اس پر قائم بھی رہے گا۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد اگر امریکہ ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس کے اثرات بھارت پر بھی کسی حد تک مرتب ہوسکتے ہیں۔

عراق اور سعودی عرب کے بعد ایران بھارت کو تیل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پابندیوں کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور بھارتی معیشت متاثر ہوگی۔ اس کا اثر یہاں کی کرنسی اور مہنگائی پر بھی پڑے گا۔

بھارت گزشتہ کچھ برسوں سے ایران کی چابہار پورٹ کی تعمیر میں حصہ لے رہا ہے۔ وہ افغانستان سے تجارت کے لئے اس کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔

نئی امریکی پابندیاں اسے بھی متاثر کر سکتی ہیں بھارت نے اس پراجیکٹ میں 85 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، اگر وہ مزید سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ معاملہ بھارت اور امریکہ کے مابین تنازعے کا سبب بن سکتا ہے، اگر پابندیوں سے تیل کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تو اس کا اثر بھارت کی معیشت پر بھی پڑے گا۔

تیل کی قیمتیں بڑھنا شروع بھی ہوگئی ہیں۔ بھارت نے شرح نمو کا جو آٹھ فیصد ہدف مقرر کر رکھا ہے، وہ متاثر ہوگا۔ چابہار پورٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے توسط سے بھارت وسطی ایشیائی ملکوں تک پہنچ سکتا ہے۔

بھارت نے امریکہ، ایران، سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ کیا پابندیوں کے بعد ان ملکوں سے بھارت کے تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا؟ بھارت کے کسی ملک کے ساتھ تعلقات کا انحصار دوسرے ملکوں سے اس کے تعلقات پر نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر اس کے اسرائیل سے بھی اور فلسطین سے بھی تعلقات ہیں۔بھارت نے گزشتہ سال ’شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن‘ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جون میں چین کے شہر کوئینگ داو میں ہونے والے اس کے اجلاس میں اسے اور پاکستان کو باضابطہ اس میں شامل کیا جائے گا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو بھی اس میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں، اگر ایسا ہوا تو بھارت اس گروپ کا جسے امریکہ مخالف بلاک سمجھا جاتا ہے ایک ممبر بن جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران سے کیے جانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے سے باہر نہ نکلے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے درمیان 2015ء میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بدلے میں مغربی ملکوں نے اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں،ایسے خدشات تھے کہ ایران اس پروگرام کو جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کرے گا،اس معاہدے کے تحت ایران سینٹری فیوجز کی تعداد میں کمی کرے گا جو مشینیں یورینیم کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نتنیا ہو نے ایٹمی طاقت بننے سے متعلق ایران کے خفیہ عزائم طشت از بام کردیئے۔ ایران کی ذمہ داری ہے کہ وہ فراہم کردہ شواہد کو غلط ثابت کرے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے انسپکٹرز کو تحفظات کے بغیر اپنی تمام ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے اور یہ بھی مطالبہ جاری رکھے کہ اسرائیل کی بھی تمام ایٹمی تنصیبات کا معائنہ تحفظات کے بغیر ہو۔شمالی کوریا کے سربراہ نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا اعلان تو کردیا مگر ابھی تک پورا منظر نامہ واضح نہیں ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور نیٹو ،نیز اسکے اتحادی بھی دنیا میں ایٹمی انارکی کے ذمہ دار ہیں۔

اگر وہ شروع سے ہی اسرائیل کے ایٹمی طاقت بننے کے حوالے سے چشم پوشی نہ کرتے تو دیگر ممالک ان کی سنتے مگر ان لوگوں نے ایک طرف تو اسرائیل کی جانب سے آنکھیں موند لیں اور دوسری جانب دیگر ممالک سے ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاؤکے معاہدے کی پابندی پر زو ر دینا شروع کردیا، اگر ایران اور اسرائیل کے ایٹمی معاملات کو موثر طور پر درست نہ کیا گیاتو عرب ممالک کو ایران اور اسرائیل کی ایٹمی دھمکیوں سے نمٹنے کے لئے ایٹمی طاقت بنناپڑیگا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...