آئیے مل کر امید کے دیے جلائیں!

آئیے مل کر امید کے دیے جلائیں!

کائنات فاطمہ سے میری ملاقات شوکت خانم ہسپتال لاہور میں ہوئی جہاں اس کا گلے کے کینسر کا علاج جاری ہے۔ اس 6سالہ بچی کی ہمت اور خوش مزاجی حیران کن ہے۔ کیمو تھراپی کے4سیشنز ہونے کے بعد اگرچہ اس کی رنگت جل گئی ہے ، سر کے بال بھی جھڑ گئے ہیں لیکن کینسر اور اس کے علاج کی یہ سختی بھی اس کی آنکھوں کی روشنی کونہیں ماند کر سکی۔ یہ روشنی امید کے ان دیوں کی ہے جو شوکت خانم ہسپتال بنانے اور اس کی سپورٹ کرنے والوں کی وجہ سے جلتے ہیں۔

ایک رضا کار کے طور پر میں نے شوکت خانم ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں ایک ماہ کا عرصہ گزارا تو اندازہ ہوا کہ یہ ادارہ پاکستان میں مستحق کینسر کے مریضوں کی واحد امید ہے۔ یہاں دستیاب کینسر کے علاج کی عالمی معیار کی سہولیات کی بدولت اب تک ہزاروں افراد کینسر کو شکست دے کر نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔ کائنات فاطمہ کوبھی یقین ہے کہ وہ بہت جلد صحتیاب ہو جائے گی اور اس کاا رادہ ہے کہ بڑی ہو کر وہ بھی ڈاکٹر بنے گی اور شوکت خانم ہسپتال میں ہی آکر کینسر کے مریضوں میں زندگی کی امید بانٹے گی۔ کائنات اور اس کے ہم عمر ہزاروں بچوں کے خواب پورے کرنے کے لیے ہم میں سے ہر کسی کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا ۔ کوئی بھی رقم بڑی یا چھوٹی نہیں ہوتی بات تو نیت کی ہے اور ہم سب کو مل کر یہ نیت کرنی ہے کہ امید کے یہ دیے کبھی بھی بجھنے نہیں دیں گے۔(زہرہ اختر-والئنٹئر، شوکت خانم ہسپتال، ماڈل ٹاؤن لاہور)

مزید : رائے /اداریہ