ملک کی ترقی جمہوریت کی بدولت

ملک کی ترقی جمہوریت کی بدولت

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی صرف جمہوریت سے وابستہ ہے انتخابات جولائی میں ہوں گے اور جو بھی حکومت آئے گی پالیسیاں جاری رہیں گی، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے پچھلے دو سال سے ہماری پالیسیاں یہی ہیں انہوں نے تاجروں سے کہا کہ وہ سو ارب ڈالر کی برآمدات کا ٹارگٹ رکھیں ملکی ترقی کے لئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ملک کا نظام ٹیکسوں سے چلتا ہے اور ٹیکس ادا کرنے سے زیادہ حب الوطنی کوئی نہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے تاجروں کو فائدہ ہوا وزیر اعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ حکومت اپنے وقت سے ایک منٹ پہلے نہیں چھوڑیں گے، قبل ازیں انہیں تجویز پیش کی گئی تھی کہ وہ مدت ختم ہونے سے ایک دو دن پہلے اسمبلی توڑ دیں تو انہوں نے یہ تجویز قبول نہیں کی تھی۔

ویسے تو اس بات پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ ترقی جمہوری ادوار میں زیادہ ہوئی یا غیر جمہوری حکومتوں میں اور دلائل دیتے ہوئے جمہوریت نواز لوگ جمہوری حکومتوں کی مثالیں دیتے ہیں اور جن لوگوں کو غیر جمہوری حکومتیں زیادہ عزیز ہیں وہ ان ادوار سے مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈکر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ترقی کا عمل غیر جمہوری ادوار یا بالفاظِ دیگر آمرانہ حکومتوں میں زیادہ تیز رہا،ہم اس بحث میں نہیں اُلجھتے کہ ترقی کس دور میں زیادہ ہوئی لیکن وزیر اعظم جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے تو وہ ملک کی تاریخ اور مستقبل کو پیشِ نظر رکھ کر یہ بات کرتے ہیں جمہوریت کا تسلسل اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب انتخابات بروقت اورتواتر کے ساتھ ہوتے رہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوجائے تو آمریت نواز حلقے سر اُٹھانے لگتے ہیں کیونکہ انہیں سازگار فضا غیر جمہوری ادوار میں ہی ملتی ہے۔

جو حلقے قبل از وقت اسمبلی توڑنے کی بات کرتے ہیں چاہے وہ چند دن یا ایک دو روز قبل ہی ہو اُن کے ذہنوں میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اسمبلی کی مقررہ مدت پوری ہونے کی صورت میں انتخابات ساٹھ دن کے اندر کرانا آئینی ضرورت ہے جب کہ اگر اسمبلی پہلے توڑی جائے جس کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے تو انتخابات نوے دن میں کرانے کی پابندی ہے ایسی صورت میں انتخابات ایک ماہ لیٹ ہوجاتے اور ان لوگوں کی انا کی تسکین ہوجاتی جو سال ہا سال سے انتخابات میں تاخیر کی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں اور اب جبکہ اسمبلی کی مدت کے خاتمے میں 16دن باقی رہ گئے ہیں اور انہیں اپنی پیش گوئیوں کا حشر سامنے آتا نظر آرہا ہے تو وہ ایسی تجویز سامنے لے آئے ہیں تاکہ وہ یہ کہہ سکیں کہ اسمبلی اپنی مدت پوری نہیں کرسکی اور انتخابات میں بھی ’’تاخیر‘‘ ہوگئی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں مہینہ ڈیڑھ کی تاخیر کی بات کردی تھی معلوم نہیں انہیں کوئی اطلاع تھی یا اُن کا خیال تھا یا پھر خواہش، جو کچھ بھی تھا وزیر اعظم نے واضح کردیا کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے اور وہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر ہی اقتدار چھوڑیں گے۔

جمہوریت کے تسلسل کے لئے یہ سوچ بڑی مثبت ہے انتخابات کا عمل وقت مقررہ پر ہوتا رہے تو جمہوریت کا سفر آگے بڑھتا اور مستحکم ہوتا رہتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی خرابیوں کا علاج مزید جمہوریت میں ہے یہی وجہ ہے کہ جو ملک ترقی و استحکام کی طویل منازل طے کرکے مستحکم جمہوری حکومتیں قائم کرنے کے قابل ہوئے ہیں انہوں نے بار بار مختلف النوع تجربات کرنے کی بجائے انتخابات پر ہی انحصار کیا، یہ درست ہے کہ بعض اوقات انتخابات کی وجہ سے نااہل قیادت بھی برسراقتدار آجاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتخابات میں فی نفسہ کوئی خرابی ہے۔ کیونکہ ’’پک اینڈ چوز‘‘ میں بھی ایسے امکانات ہوتے ہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت قومی مفادات کو پیش نظر رکھیں اور بہترین لوگ منتخب کریں اگر چند انتخابات اسی طرح ہو جائیں تو جمہوریت کا سفر ہموار ہو جائیگا لیکن ہم ہر چند برس بعد بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر جمہوری ٹرین کو پٹڑی سے اتارنے پر تل جائیں یا جمہوریت سے مایوس ہوکر آمریت کی آرزو کرنے لگیں اور غیر جمہوری قوتوں کو جمہوریت کا متبادل قرار دینے لگیں تو پھر کبھی نہ استحکام آسکے گا نہ جمہوریت مضبوط ہوگی جمہوریت کی مضبوطی پارلیمنٹ کی مضبوطی سے وابستہ ہے اور پارلیمنٹ اس طرح مضبوط نہیں ہوتی کہ جلسوں میں سیاسی رہنما اس پر لعنت بھیجتے رہیں اور جمہوری قوتیں ایسی تقریریں سن کر بظاہر خاموش ہوجائیں جمہوریت پسند پارٹیوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے مایوس اور مایوسی پھیلانے والے عناصر کو اپنی جماعت کا پلیٹ فارم مہیا نہ کریں جہاں سے ایسی اشتعال انگیز تقریریں کی جائیں۔

جمہوریت ایک صبر طلب پراسیس ہے جو اپنی رفتار سے آگے بڑھتا ہے اس میں آمرانہ طور طریقے نہیں اپنائے جاتے اور جن حکومتوں میں ایسے طریقوں پر انحصار کرکے ابتدا میں چند نمائشی کامیابیاں حاصل کی گئیں وہ بھی بعدازاں سراب ثابت ہوئیں اور جو آمر بڑے طمطراق سے حکومت میں آئے تھے جب وہ رخصت ہوئے تو قوم انہیں اچھے نہیں برے القابات سے یاد کررہی تھی اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ انتخابات یا ان کے نتیجے سے مایوس ہوا جائے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی نمائندے سامنے آئیں ان میں سے بہترین کا انتخاب کیا جائے ایسے لوگوں کو منتخب نہ کیا جائے جو پارٹیاں بدلنے کے شوقین ہیں آج ایک برسراقتدار جماعت میں ہیں تو کل دوسری ایسی جماعت کا حصہ بن جائیں جس کے بارے میں امکان ہو کہ وہ برسر اقتدار آرہی ہے ایسی روش کسی صورت جمہوریت کی مضبوطی کا باعث نہیں ہوگی، سیاست دان اگر بالغ نظری کا ثبوت نہیں دیں گے تو غیر جمہوری قوتیں انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہیں گی اور وہ سادہ لوحی سے ان کا آلہٰ کار بھی بنتے رہیں گے، ملک میں استحکام مضبوط جمہوری حکومتیں ہی لاسکتی ہیں اور وہی متوازن اور دیر پاترقی کا عمل شروع کرسکتی ہیں نمائشی ترقی کے غبارے سے عین اس وقت ہوا نکل جاتی ہے جب ترقی کے عشرے کا جشن منایا جارہا ہوتا ہے حقیقی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ ان ادوار میں جعلی ترقی کا ڈھول پیٹنا ممکن نہیں ہوتا۔

وزیراعظم نے تاجروں کو برآمدات کا 100 ارب ڈالر کا جو ہدف پیشِ نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے یہ اگرچہ بڑی خوشنما بات ہے لیکن اس کا حصول آسان نہیں ہے، ہماری برآمدات گزشتہ کئی سال سے کم ہورہی تھیں، اب روپے کی قیمت میں کمی سے کچھ فائدہ ہوگا تو بھی ان میں اتنے اضافے کا امکان نہیں کہ یہ یک بیک پانچ گنا بڑھ جائیں اس وقت تو ہماری برآمدات اتنی بھی نہیں جتنی بنگلہ دیش کی ہیں اور ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بھی اس سے کم ہیں، اسلئے خواہش بہترین کی رکھنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن حقیقت پسندانہ ٹارگٹ ہی حاصل ہوسکتا ہے، تاہم اگر وزیراعظم کے ذہن میں کوئی ایسا منصوبہ ہے جس پر عمل کرکے برآمدات 100 ارب ڈالر تک پہنچائی جاسکتی ہیں اور انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ کتنے عرصے میں یہ ٹارگٹ حاصل کرنا ممکن ہے، تو اس کی تفصیلات بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ چلے کہ محض خواہشات ہی نہیں کی جارہیں عملی اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ