کیا سندھ میں نیا صوبہ مسائل کا حل ہے ؟

کیا سندھ میں نیا صوبہ مسائل کا حل ہے ؟

پنجاب میں صوبے کے قیام کی سیاسی جدوجہد ہو رہی ہے۔ ن لیگ پر جب افتاد پڑی تو طویل عرصہ ساتھ گزارنے والے لوگ بھی قیام صوبہ کا نعرہ لے کر اٹھے اور ٹھکانہ تبدیل کر لیا۔ تحریک انصاف کے دروازے تو ہر ایک کے لئے بوجوہ کھلے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی جیسے اگر سیاست دانوں کی یادداشت کام کرے تو مرحوم اصغر خان کی تحریک استقلال کے ساتھ ہوا تھا۔ ایک وقت تھا کہ اس وقت کے تمام نامی گرامی اور نواز شریف جیسے اس وقت غیر معروف افراد تحریک استقلال میں شامل ہو چکے تھے۔

پھر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا تلخ حصہ ہے۔ بہر حال بات ہورہی ہے صوبہ کے قیام کی۔ سندھ میں بھی ایم کیو ایم بہارد آباد والے ہوں یا پی آئی بی والے یا مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد، بوقت ضرورت علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر لیتے ہیں۔ اور اب تو انتخابات سر پر کھڑے ہیں ، اس لئے علیحدہ صوبہ کا نعرہ ان کے خیال میں کار آمد نسخہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا لوگوں کے لئے یہ نعرہ کوئی کشش رکھتا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینرڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے کنوینرکامنصب سنبھالنے کے بعد حیدرآبادکا حال میں ہی دورہ کیاجہاں اپنے اعزازمیں منعقدہ ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولادوں کو پاکستان کی تعمیر وترقی سے الگ نہیں کیا جاسکتا،دیر سے ہی سہی بات سمجھ آرہی ہے بانیاں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتاجو لوگ ستر سال سے اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں وہ آسانی سے اختیارات اور حقوق دینے والے نہیں۔

انہوں نے کہاکہ دو ہزار اٹھارہ ظلم کے خاتمے کا سال ثابت ہوگا۔خالد مقبول صدیقی تو کہتے رہتے ہیں کہ ’’ملک میں اب نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہیں۔

نئے صوبوں پر نام نہاد قوم پرست اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ہم نئے صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں جو انتظامی بنیاد پر ہو ‘‘۔ اسی استقبالیہ میں کہا گیا کہ ’’ پی پی پی مہاجروں کی قاتل جماعت ہے‘‘ ۔ جب سیاست میں حرکت ہوتی ہے تو اسی قسم کی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ اپنے ووٹروں کو لبھایا جا سکے۔

کسی دانشور کا قول ہے کہ مذہب اور سیاست کے بعد موتیا بند بصیرت کو متاثر کرنے کا تیسرا بڑا سبب ہے ۔

سندھ کی تقسیم یا انتظامی صوبہ کے قیام کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے۔ سندھ تو وہ سرزمین ہے جہاں قیام پاکستان کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے آنے والوں کا غیر مشروط استقبال کیا گیا تھا۔ لوگو ں نے دل اور گھر کے دروازے کھول دئے تھے۔

جن لوگوں نے 1947میں ہجرت کے نشیب وفراز دیکھے ہیں وہ تو آج بھی سندھ کے قدیمی باشندوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ قیام پاکستان کے بعد کی سیاست اور طرز حکمرانی نے لوگوں کو سندھ میں ایک اور صوبہ کے قیام کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ کیا علاقوں کی تقسیم ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔

بعد کے حالات سیاسی گھٹن اور محدود جمہوریت کی وجہ سے لوگوں کی تقسیم کا سبب بنے۔ نواب مظفر حسین خان کو کس نے کہا تھا کہ کرنل شیر جنگ اور علی احمد کاکڑ کے ساتھ مل کر سندھ کراچی مہاجر پنجابی پٹھان متحدہ محاذ قائم کریں ۔ سائیں جی ایم سید و دیگر اکابرین نے سندھ متحدہ محاذ قائم کیا تھا جس میں نواب زاہد بھی شامل تھے۔

نواب مظفر کا محاذ بعد میں سمٹ کر مہاجر متحدہ محاذ رہ گیا۔ نواب مظفر کیوں چاہتے تھے کہ مہاجروں کی کوئی علیحدہ شناخت ہو۔ علیحدہ شناخت کے سوال نے ہی تو مہاجروں اور سندھیوں کو دریا کے دو پاٹ بنا دیا۔ مہاجروں کو کیوں نہیں سندھی زبان سیکھنا چاہئے تھی۔

یہ کہہ دینا کہ جنرل ٹکا خان نے جو اس وقت حیدرآباد میں برگیڈئر کی حیثیت سے فائز تھے ، سندھی زبان کی اسکولوں میں غیر سندھیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔

کیا عذر کوئی وزن رکھتا ہے؟ جب پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سندھی زبان کو سرکاری زبان کا با ضابطہ درجہ دیا گیا تھا تو کن اسباب اور وجوہات کی بناء پر اس کی اس حد تک مخالفت ہوئی کہ سندھ میں لسانی فسادات ہوگئے۔

کیا سندھی زبان کو سرکاری درجہ دیاجانا اردو کا جنازہ تھا ۔ لسانی فسادات کے بعد بھٹو مرحوم کو اردو بولنے والے اکابرین سے مذاکرات کرنا پڑے اور سندھ کو دو لسانی صوبہ قرار دیا گیا تھا ۔

کوٹہ سسٹم کے بارے میں بھی حکمت عملی طے کی گئی جس میں کہا گیا کہ شہری علاقوں کو ملازمت میں چالیس فیصدحصہ دیا جائے گا۔ اس وقت شہری علاقوں کے بارے میں یہ تاثر لیا جاتا تھا کہ غیر سندھی رہائش رکھتے ہیں جو سراسر خام خیالی تھی۔ اسی کا خمیازہ اردو بولنے والے بھگت رہے ہیں۔

اخبارات میں اشتہار دئے جاتے تھے کہ کراچی حیدرآباد اور سکھر کے امیدوار درخواست نہیں دے سکتے۔ یہ پبلک سروس کمیشن کے اشتہارات اخبار میں شائع ہوتے تھے۔ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کی پالیسی اس طرح مرتب کی گئی کہ کراچی اور حیدرآباد کے طلباء کی اکثریت داخلوں سے آج تک محروم ہے۔

دس سال کے لئے کوٹہ سسٹم کا نفاذ 1973ء میں آئینی تحفظ دے کر اس لئے کیا گیا تھا کہ سندھ کے غیر ترقی یافتہ دیہی علاقوں کے بچوں کو تعلیم اور ملازمت میں آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔ اس پر عمل در آمد اس طرح ہوا کہ غیر ترقی یافتہ علاقوں کے غریب گھرانوں کے بچوں کی اکثریت ہی محروم رہی۔ شہروں میں رہائش رکھنے والے خوش حال گھرانوں کے بچے دیہی علاقوں کے ڈومیسائل پر داخلوں کے حق دار ٹہرے جو آج تک اس سہولت سے استفاد ہ حاصل کر رہے ہیں۔

جنرل ضیاء کے دور کے بعد ایک سابق وفاقی وزیر اور حیدرآباد کے میئر سید وصی مظہر ندوی مرحوم اور دیگر لوگ مطالبہ کرتے تھے کہ دیہی علاقوں کے ڈومیسائل کے سبب فوائد اور سہولت کا اطلاق ان بچوں پر کیا جانا چاہئے جو ان ہی علاقوں کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوں۔ اس مطالبہ پر کسی نے غور کرنا ضروری نہ جانا۔

جنرل ضیاء دور میں اس میں مزید دس سال کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد بھی کسی آئینی تحفظ کے بغیر کوٹہ سسٹم جاری ہے ۔ کراچی میں بشریٰ زیدی کی حادثہ میں ہلاکت کے واقعہ کے بعد کی صورت حال پر صوبائی حکومت نے کمیٹی قائم کی تھی اس کی سفارشات پر عمل در آمد میں کوتاہی برتی گئی۔ جس کے نقصانات سے سب ہی آگا ہ ہیں اور اس کا خمیازہ بھی صوبہ سندھ نے بری طرح بھگتا ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ صوبہ سندھ میں تمام سیاسی مفادات، تحفظات اور اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ان کا حل تلاش کیا جائے تاکہ صوبہ میں رہائش رکھنے والے تمام طبقے کسی خوف اور مسائل کے بغیر شیر و شکر بن کر صوبہ کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں۔

تحمل برداشت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کوٹہ سسٹم نافذ ہی رکھنا ہے تو اس کا مکینزم طے کیا جانا ضروری ہے۔

کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا جائے کہ کوٹہ سسٹم کے تحت پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں ساٹھ فیصد حصہ سندھی زبان بولنے والوں اور چالیس فیصد حصہ اردو زبان بولنے کو ملے گا۔ بلاول زرداری کا کراچی کے جلسہ میں یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کراچی کے ہر ضلع میں ایک یونی ورسٹی قائم کی جائے گی۔ کراچی میں دوسری سرکاری یونی ورسٹی کے قیام میں کیا رکاوٹ ہے، حیدرآباد میں طویل عرصہ تک کھینچا تانی کے بعد گزشتہ اکتوبر کے مہینے میں وزیر اعلی مراد علی شاہ نے گورمنٹ کالج کو یونی ورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا جو ابھی تک اعلان کی حد تک ہی محدود ہے۔

مزید میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج، قانون کی تعلیم دینے والے سرکاری کالج کیوں نہیں قائم کئے جاسکتے ہیں۔ مشہور کہاوت ہے کہ جب خواہش ہو تو راستے بن ہی جاتے ہیں لیکن سندھ میں حکمران طبقہ خواہش ہی نہیں رکھتا ہے۔

اسے سندھی یا اردو زبان سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ اسے صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور برقرار رکھنے کی خواہش ہوتی ہے جو لوگوں کو دیوار سے لگانے کا سبب بنتی ہے ۔

اس تماش گاہ میں غور کیا جائے کہ سندھ میں اگر مہاجروں کو نظر انداز کئے جانے، امتیازی سلوک کا شکار کئے جانے کی شکایت ہے تو ایسی ہی شکایت تو سندھیوں کے اس طبقے کو بھی ہے جن کے پاس سفارش کی سہولت نہیں ہے۔

سرکاری نظام تعلیم میں جو خامیاں ہیں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔ اس کے شکار بچے یا لوگ کہاں جائیں، کس سے شکایت کریں۔ سرکاری ملازمت میں سفارش سے محروم لوگ کیا کریں ۔

کسی نا انصافی کے حل کی تلاش میں تقسیم کا نعرہ لگانا کیوں کر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ علیحدہ صوبہ کے حامی عناصر ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ علیحدہ صوبہ کے قیام میں ہی ان کے مسائل کا حل موجود ہے۔ قطعی ضروری نہیں کہ سندھ میں ایک اور صوبہ کا قیام صوبہ کی آبادی کے کسی حصے کے لئے سود مند ثابت ہو سکے۔

سندھ بنگلہ دیش تو نہیں ہے جہاں متوسط طبقے کی حکمرانی ہو جو اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی خواہش کے پیش نظر اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال بھی کرتا ہو۔ سندھ کی سیاست پر حاوی بڑا زمیندار طبقہ ہے جسے عام لوگوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے یہ لوگ حکومت بنا لیتے ہیں ، ایم کیو ایم دوسری بڑی نمائندہ جماعت بن کر ابھرتی رہی ہے جو حکمرانی میں بھی بعض اوقات حصہ دار بنتی رہی ہے لیکن وہ بھی تو اردو بولنے والے لوگوں کو درپیش حقیقی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...