کیا فوج اور پشتین ایک پیج پر نہیں؟

کیا فوج اور پشتین ایک پیج پر نہیں؟
کیا فوج اور پشتین ایک پیج پر نہیں؟

  

منظور پشتین کے جلسوں میں ہزاروں افراد شامل ہوتے ہیں۔

فوج بھی قبائلی علاقوں میں امن چاہتی ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ بھی امن چاہتی ہے۔ فوج بھی آپریشن کے بعد روزمرہ کی ذمہ داریاں سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کے حوالے کرنے کے حق میں ہے اور پشتون موومنٹ کا بھی یہی مطالبہ ہے۔

فوج بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہتی ہے اور منظور پشتین بھی وہی حقوق چاہتے ہیں جو آئین میں ہیں۔فوج بھی عدلیہ کی بالادستی کی بابت آئی ایس پی آر کے ذریعے اپنا عہد بارہا دہراتی ہے اور پشتون موومنٹ کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ جن جن لوگوں پر الزامات ہیں یا دہشت گردی سمیت جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے انھیں باقاعدہ گرفتار کر کے باقاعدہ فردِ جرم عائد کر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور کوئی بھی ادارہ خود وکیل اور ماورائے قانون منصف نہ بنے کہ جس کی آئین میں بھی گنجائش نہیں۔ اور جب سول سے لے کر انسدادِ دہشت گردی کے ٹریبونلز اور شرعی و فوجی عدالتوں تک ہر طرح کے ادارے فعال ہیں تو دن دہاڑے وارنٹ دکھا کر گرفتار کرنے کی بجائے رات کے اندھیرے میں اٹھانے اور مکرنے کی کیا ضرورت ہے؟

فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اندرون و بیرونِ ملک بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم دراصل پچھلے چالیس سال کی غلطیوں کی قمیت چکا رہے ہیں اور منظور پشتین وغیرہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ چالیس سال سے جاری پالیسیوں کو بدلا جائے جنھوں نے تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فوج بھی ملک کے اندر مسلح گروہوں کو ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی قیمت پر اجازت دینے کو تیار نہیں اور پشتون موومنٹ بھی غیر مسلح اور آئین و قانون کے دائرے میں جدوجہد کے اصولوں پر اب تک کاربند ہے۔ فوج بھی پاکستان جیسے کثیر نسلی ملک میں وفاقیت، پارلیمانی نظام اور بین الصوبائی، نسلی و گروہی مفاہمت کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتی ہے اور پشتون موومنٹ بھی یہی کہہ رہی ہے کہ دل کا غبار اور روح میں پیوست کانٹے نکالنے کے لیے جنوبی افریقہ کی طرز پر سچائی کمیشن قائم کر کے کیوں نہ غلطیوں کا اعتراف کیا جائے تاکہ جن کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں وہ بھی کھلے دل سے معاف کر کے آگے بڑھ سکیں۔ جب فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ دونوں ہی ہم موقف ہیں تو ایسا کیوں ہے کہ پہلے اس کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے۔

پھر کوئی عجلت میں ترتیب دیا گیا محبِ وطن مقامی گروپ قومی جھنڈے اٹھا کر چھوٹا سا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر پشتون موومنٹ کو جلسہ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

مگر میڈیا کوریج کی تب بھی اجازت نہیں ہوتی اور کوریج ہوتی بھی ہے تو ایسی گویا یہ کوئی ملک دشمن تنظیم ہے جس کا کام بیرونی ایجنسیوں سے پیسے لے کر اداروں کے خلاف عام لوگوں میں نفرت پھیلانا ہے ( کیا ہی اچھا ہو کہ اس میڈیا ٹرائیل کو عدالتی ٹرائیل بنا دیا جائے)۔

مسلح طالبان تک کو میڈیا پر اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت تھی مگر غیر مسلح پشتون تحفظ موومنٹ کو یہ لگڑری حاصل نہیں۔ پیمرا تک کہہ رہا ہے کہ اس نے ملک گیر میڈیا کو پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کی کوریج سے نہیں روکا اور جنھوں نے روکا ہے وہ بھی کھل کے نہیں کہہ رہے کہ ہاں ہم نے روکا ہے۔

مگر یہ کیسے ملک دشمن اور غدار بچے ہیں کہ ان سے مذاکرات کرنے والے جرگے سے لے کر کور کمانڈر پشاور، بلاول بھٹو، عمران خان، ہیومن رائٹس کمیشن اور سول سوسائٹی کی تنظیموں تک سب کہہ رہے ہیں کہ مطالبات تو ٹھیک ہیں۔

اس ملک میں غفار خان، ولی خان، جی ایم سید، خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، جام ساقی، بے نظیر بھٹو، کمیونسٹ پارٹی، عوامی لیگ، نیپ سمیت کئی غدار اور سیکورٹی رسک قرار پائے مگر تاریخ نے صنعتِ غدار سازی کا کبھی ساتھ نہیں دیا۔ دو ہزار اٹھارہ میں اس فلم کا چلنا اور مشکل ہے۔ ایک دور تھا جب دلیل کو بھی دبانا ممکن تھا۔

آج دلیل کو دلیل کے ہتھیار سے نہ مارا جائے تو بار بار قبر سے نکل کر بھوت کی طرح ڈراتی ہے۔ وفاق شئیر ہولڈنگ کمپنی کی طرح تو چل سکتا ہے، کاؤنٹر پر بیٹھے سیٹھ اور اکتائے ہوئے ویٹروں پر مشتمل ریسٹورنٹ کی طرح نہیں چلایا جا سکتا۔

اگر نوگو ایریاز اور نو گو معاملات میں اب سے چار برس پہلے بھی میڈیا کو گائیڈڈ ہیلی کاپٹرانہ جرنلزم کے بجائے سڑک کے راستے رسائی مل جاتی اور کھلی عدالت کا دائرہ بھی بڑھا دیا جاتا تو آج کوئی منظور پشتین کسی قبائلی چائے خانے میں بیٹھا گپ لگا رہا ہوتا۔

مزید : رائے /کالم