پاکستان کی سلامتی سب سے مقدم ہے!

پاکستان کی سلامتی سب سے مقدم ہے!

پاکستان کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ نواز شریف نے ممبئی حملوں کے حوالے سے جو کہا اس پر پاکستان میں تو ایک ہلچل مچی سو مچی، بھارت نے اسے ایسے اٹھایا جیسے اسے ممبئی حملوں کا سراغ مل گیا ہو، یہ تو چور کی داڑھی میں تنکا والی بات ہوئی، نواز شریف کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ پاکستان کے بیانیے کی درستگی کے لئے کہا، لیکن ان کی اس دلیل کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں مسترد کردیا گیا اور کہا گیا کہ ممبئی حملوں میں بھارت پاکستان کے کردار کو ثابت نہیں کرسکا، الٹا اس نے تحقیقات کی راہ میں روڑے اٹکاتے۔

بھارت کے اس حوالے سے کھوکھلا اور بودا مؤقف رکھنے کی یہ دلیل ہی کافی ہے کہ وہ شواہد دینے کی بجائے پاکستانی رہنماؤں کے بیانات کو توڑ مروڑ کر اپنے مؤقف کی تائید میں لانا چاہتا ہے۔ یہ سوال تو ابھی حل طلب ہے کہ نواز شریف کو اس موقع پر 10 سال پہلے کے واقعہ کی بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟جس طرح سب کچھ ارینج کیا گیا، اس نے بھی شکوک و شبہات پیدا کئے۔

اسی سرل المیڈا کو، جو ڈان لیکس میں ملوث تھا، اس بار بھی انٹرویو کے لئے بلایا گیا، اس کے لئے معمول سے ہٹ کر سہولتیں پیدا کی گئیں، پھر جونہی یہ انٹرویو شائع ہوا، بھارت کے ٹی وی چینلوں پر ہا ہا کار مچ گئی۔

کیا اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس کے تانے بانے کہیں اور سے ملائے جا رہے تھے۔ وہ پر اسرار شخص کون تھا جو دورانِ انٹرویو نواز شریف کے جوابات کو ایک خاص طرف موڑ دیتا تھا، جس نے صحافی کے منہ میں سوالات بھی ڈالے، اور مطلب کے جوابات بھی لئے۔

مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جب ملتان میں ایک بڑے صنعت کار کے گھر یہ انٹرویو ہورہا تھا تو مریم نواز بھی موجود تھیں اور اس انٹرویو کو ایک خاص رنگ دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔

شہباز شریف کی یہ حیرانی بجا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے خلاف بات کر ہی نہیں سکتے، ان سے بڑا محب وطن کوئی نہیں، تو کیا نواز شریف استعمال ہوئے یا ان جملوں کی شدت محسوس نہ کرسکے جو بھارت میں مداخلت اور ممبئی حملوں کے حوالے سے انٹرویو میں شامل ہیں؟

نہ جانے ہمارے اندر پاکستان سے غیر مشروط محبت کا جذبہ کب پیدا ہوگا؟ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں اپنی ریاست کے لئے ایسا کوئی سچ بولنے کی گنجائش نہیں جو اس کے مفادات کے خلاف جاتا ہو۔

دنیا میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے جب لاہور میں نوجوانوں کو قتل کیا تھا تو اس وقت کے امریکی صدر اوباما نے اسے امریکی سفارت کار کہا تھا، حالانکہ وہ سفارت کار نہیں تھا۔ صرف ایک سی آئی اے ایجنٹ کو بچانے کے لئے تاکہ امریکی راز افشا نہ ہوں۔

امریکی صدر جھوٹ بول گئے، عراق پر حملے کے لئے جھوٹ بولے گئے، ایران کو نشانہ بنانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا گیا۔ آپ بھارت کی مثال دیکھیں، کلبھوشن یادیو اس کا مستند جاسوس ہے، جو سب کچھ تسلیم کرچکا ہے اور شواہد بھی سامنے آگئے ہیں، لیکن بھارت ہے کہ ماننے کا نام نہیں لے رہا۔

وہ اسے ہر قیمت پر بچانا بھی چاہتا ہے اور دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کررہا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جب تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص ایک ایسی بات کرتا ہے جو قومی بیانیہ کے خلاف ہے، تو اس پر ہنگامہ تو برپا ہونا ہی ہے۔ یہ انٹرویو وقت کے مطابق ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیہ پر بھی ہوسکتا تھا، شفاف انتخابات اور احتساب کے نظام پر نواز شریف کے تحفظات کا بھی ذکر کیا جاسکتا تھا۔

نواز شریف عدالتی نظام اور اسٹیبلشمنٹ کی سول معاملات میں مداخلت بھی اس کا موضوع ہوسکتے تھے، یہ سب کچھ ہوتا تو کوئی ہلچل نہ مچتی، گھر کی بات تھی گھر میں ہی رہتی، لیکن جب اس میں بھارت کا ذکر آیا اور اس میں بھی ممبئی حملوں کا ذکر کیا گیا جو بھارت کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اور جسے وہ پچھلے دس برسوں سے پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے، عالمی سطح پر وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ پاکستان سے بھارت میں در اندازی ہورہی ہے، اس کی سب سے بڑی مثال ممبئی حملے ہیں، تو اسے بیٹھے بٹھائے ایک پکا پکایا ثبوت مل جاتا ہے۔

ممکن ہے نواز شریف نے یہ بات اس تناظر میں نہ کہی ہو، مگر بھارت کے میڈیا کو تو یہ اعتراف جرم کی ایک شکل لگی اور اس کی چیختی چنگھاڑتی بریکنگ نیوز اسی حوالے سے تھی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے تسلیم کرلیا کہ حملہ آور پاکستان سے ممبئی آئے تھے۔

حیرت ہے کہ میڈیا پر پورا دن یہ خبر چلتی رہی، پاکستانی اور بھارتی میڈیا اس کے اثرات تلے دب گیا، مگر نواز شریف نے فوراً ٹی وی پر آکر اس کی وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور اسے کیا سمجھا گیا؟ وہ خاموش رہے اور ان کی خاموشی کو یہ سمجھا گیا کہ جو کچھ میڈیا پر دکھایا جارہا ہے وہ سچ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ضرور کہا کہ نواز شریف کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، یہی بات شہباز شریف نے بھی ایک جلسے میں کہی۔ 14 مئی کو جب نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے صحافیوں سے پوچھا کہ آخر میں نے کون سی بات غلط کی ہے؟ انہوں نے انٹرویو کا وہ حصہ پڑھ کر بھی سنایا کیا نواز شریف واقعی اتنے بھولے ہیں کہ اپنے ہی انٹرویو کے نازک پہلوؤں کو نہیں سمجھ سکے، یا پھر وہ اپنے بیانیہ کو بھی وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں، جسے اپنا کر پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار کو دنیا سے منوایا جاسکتا ہے؟ ریاست نے نواز شریف کا مؤقف مسترد کردیا ہے، گویا اب ان کا مؤقف ایک فرد واحد کا ہے، لیکن بہتر یہی ہوگا کہ نواز شریف اپنے مؤقف کو ریاستی مؤقف سے ہم آہنگ کریں۔ میرا خیال ہے ان کی حب الوطنی پر شک کرنے کی قطعاً گنجائش موجود نہیں، لیکن آج کل سیاسی دباؤ اور نفسیاتی فرسٹریشن کی وجہ سے وہ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو ان کی زندگی کا کمزور دور کہا جاسکتا ہے۔

وہ اپنے آپ کو غیر متنازعہ سے متنازعہ شخصیت بنا رہے ہیں۔۔۔ اگر بالفرض وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے لئے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

وہ شاید اندازہ بھی نہ کرسکتے ہوں کہ ان کے اس انٹرویو نے انہیں اندرون ملک کتنا بڑا سیاسی نقصان پہنچایا ہے، ایسے انٹرویوز سے پاکستان پر کچھ پابندیاں تو لگ سکتی ہیں، نواز شریف اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی کشمکش پاکستان میں ہمیشہ جاری رہی ہے، لیکن اس کشمکش میں کبھی اپنے مفاد کے لئے کوئی ایسا حربہ نہیں آزمایا گیا جو قومی سلامتی یا اس کے اقتدار اعلیٰ کے لئے خطرہ بن سکتا ہو۔

کسی کو بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر عوام ہیں۔ عوام کی پاکستان کے ساتھ محبت اٹوٹ اور غیر مشروط ہے۔

وہ بھوکوں مرجائیں گے، لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیل لیں گے، پولیس کے مظالم سہہ لیں گے، انصاف کے لئے دھکے کھائیں گے، مگر کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ یہی رویہ سیاستدانوں کا بھی ہونا چاہئے۔

بھارت کے خلاف تو غیر مشروط یکجہتی اشد ضروری ہے۔ آپ کوئی ایک واقعہ اٹھا کر دکھادیں جس میں بھارت کے سیاستدانوں نے پاکستان کے لئے کوئی لچک دکھائی ہو، وہ بغض اور دشمنی سے بھرے بیٹھے ہیں، ان کا بس نہیں چلتا کہ پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹادیں، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر ایسی بقراطی جھاڑتے رہتے ہیں جو بھارت کو دنیا میں ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

نوازشریف کے انٹرویو کو بنیاد بنا کر بھارت نے کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کی جو مذموم کوشش کی ہے، اس کا توڑ تو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کرلیا گیا اور دنیا کو پیغام دے دیاگیا کہ ممبئی بم دھماکوں کے حوالے سے بھارت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، اجمل قصاب کو بھارت میں پھانسی دی گئی، پاکستان کو جائے وقوعہ تک رسائی نہیں دی گئی، پاکستان کے تحقیقاتی ادارے آج بھی بھارت کی طرف سے ان سوالات کے جوابات کا انتظار کررہے ہیں، جو اس حوالے سے اٹھائے گئے۔

نواز شریف کو بھی اب چاہئے کہ وہ جو چاہے بیانیہ اختیار کریں، مگر انہیں اپنے طرز سیاست میں ایک لکیر ضرور کھینچنی چاہئے جو قومی مفادات اور سیاست کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرسکے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...