سابق وزیراعظم کا ’’انکشاف‘‘؟

سابق وزیراعظم کا ’’انکشاف‘‘؟
سابق وزیراعظم کا ’’انکشاف‘‘؟

بظاہر تو آج کل پاکستان میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔سول اور ملٹری ادارے حسبِ سابق کام کرتے نظر آتے ہیں۔ پبلک کو اگرچہ کئی مشکلات کا سامنا ہے لیکن دفتروں، کارخانوں، مارکیٹوں اور کھیت کھلیانوں میں زندگی کے معمولات وہی ہیں جو ماضی ء قریب میں تھے۔

لیکن ان معمولات کو اگر ماضیء قریب اور ماضیء بعید کے دنوں میں لے جائیں اور مقابلہ کریں تو دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہمارے سامنے ہوگا۔یہ فرق ہمیں بادی النظر میں تو نظر نہیں آتا۔

وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو تبدیلی بتدریج آتی ہے وہ زیادہ نمایاں اور حیران کن دکھائی نہیں دیتی لیکن اگرکسی انسان کی ماضی و حال کی تصاویر کو اچانک یکجا کرکے ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر دیکھیں تو فوراً فرق محسوس ہوگا۔

ہم آہستہ آہستہ بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں لیکن چونکہ روز آئینہ دیکھتے ہیں اور اس میں اپنے چہرے کے خدو خال کا تماشا کرتے رہتے ہیں اس لئے وہ تبدیلی نظر نہیں آتی جو کسی ایسے دوست سے ملاقات کے بعد اس کی زبانی معلوم ہوتی ہے۔

وہ ملتے ہی آپ سے کہتا ہے: ’’اوہ! دیکھو یار تم کتنے بدل گئے ہو؟‘‘ اور آپ بھی اس کو یہی جملہ لوٹا دیتے ہیں کہ : ’’یار ذرا خود پر بھی نظر ڈال لو‘‘۔

پاکستان آج جن مشکلات میں گھرا ہوا ہے وہ ماضی و حال کے تناظر میں بھی رکھ کر دیکھے جانے چاہئیں اور اندرونی و بیرونی صورت حال کے تناظر میں بھی۔۔۔ میری نسل جس نے 1969-70ء کے شب و روز دیکھے ہیں، وہ جانتی ہے کہ آج بھی ملک میں وہی بے چینی، وہی اضطراب اور وہی بیکلی ہے جو کم و بیش نصف صدی پہلے اس دور کے سالم پاکستان میں دیکھنے اور سننے کو ملتی تھی! آج ملک بتدریج ڈوبتا جا رہا ہے اور ہمیں اس کی کچھ پرواہ نہیں۔

1971ء کی جنگ اور سقوطِ مشرقی پاکستان سے ذرا پہلے کے ایام یاد آتے ہیں تو اگرچہ آج کا میڈیا، نصف صدی پہلے کے میڈیا سے ہزار گنا زیادہ فعال ہے لیکن اس کی چیخ و پکار پر جو ردعمل دوسرے زندہ معاشروں میں دیکھا جاتا ہے، وہ ہمارے ہاں نظر نہیں آتا۔

ہم گویا خوابِ خرگوش میں مست ہیں۔ دوسری طرف دشمنوں کے ایجنڈے بہت خطرناک اور گہرے ہیں۔ اگر آپ بین الاقوامی میڈیا کے ریگولر ناظر اورسامع ہیں تو آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اس پر پاکستان کی خبریں آپ کو کم کم سنائی اور دکھائی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہمسایوں مثلاً ایران، افغانستان اور انڈیا کی خبروں کو سارا گلوبل میڈیا بڑھ چڑھ کے اچھالتا رہتا ہے۔

جہاں تک میں محسوس کرتا ہوں ہمارے احوال کی عکاسی کا یہ بلیک آؤٹ خالی از علّت نہیں۔1971ء کی جنگ جب 26نومبر کو مشرقی پاکستان میں اور 3دسمبر کو مغربی پاکستان میں شروع ہوئی تھی تو اس وقت کے فوجی اور سویلین دانشور بھی یہی کہتے تھے کہ انڈیا، مشرقی پاکستان کے کسی ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر قبضہ کرکے وہاں بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرا دے گا اور پھر یہ جھگڑا طول کھینچے گا۔

آل آؤٹ وار کی توقعات کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھیں۔ کسی کے دماغ میں بھی نہیں تھا کہ انڈیا صرف 13دنوں میں ہمارے مشرقی بازو کو الگ کرکے اسے بنگلہ دیش بنا دے گا اور اس کے بعد مغربی پاکستان پر بھی دندانِِ آز تیز کرنے کی کوشش کرے گا۔

وہ تو اچھا ہوا کہ بڑی طاقتوں نے آڑے آکر بچے کھچے پاکستان کو بچا کر ہمیں دے دیا تھا۔ لیکن ہم پھر بھی نہ جاگے اور کچھ ہی دیر کے بعد پھر آنکھیں موندنے لگے۔

ہماری یہ نیند اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ خدا نہ کرے ہمارے دشمن ہمیں جیتے جاگتے ہمیشہ کی نیند نہ سلا دیں!۔۔۔ یہ جملہ میں نے بڑے بھاری دل کے ساتھ لکھا ہے۔۔۔ لیکن ہماری چھ لاکھ فوج کب تک 20،22کروڑ کی سوئی ہوئی آبادی کے سامنے صورِ اسرافیل پھونک کر اسے جگانے کی کوشش کرے گی؟

وطنِ عزیز کی اندرونی حالت پر نظر ڈالیں تو ایک دل شکن منظر سامنے آئے گا۔۔۔ اقتصادی بدحالی۔۔۔آنے والے انتخابات کا دباؤ۔۔۔ برآمدات میں کمی۔۔۔ بیرونی قرضہ جات۔۔۔ مہنگائی کا طوفان۔۔۔ عدالتوں کے آئے روز کے سخت فیصلے۔۔۔ میڈیا کی پولرائزیشن۔۔۔ دشمنوں کی طرف سے سرجیکل سٹرائیک کا خدشہ۔۔۔ بھارت کے دانشوروں کی پیش گوئی کہ مارچ 2018ء میں پاکستان کے چار ٹکڑے ہوجائیں گے(یہ تاریخ تو گزر گئی ہے لیکن پیش گوئی کی تاریخیں جو بھارتیوں کے سامنے آئینہ تھیں وہ شاید کچھ آگے پیچھے ہو گئی ہیں)۔۔۔ افواج پر دباؤ (بالخصوص آرمی پر) ہے کہ ملک کا سالانہ ریونیو بھی اور قرضے بھی ایک برابر ہیں اس لئے افواج کی تنخواہیں کون دے گا اور راشن پانی کہاں سے آئے گا اور ان سب پر مستزاد سابق وزیراعظم نوازشریف صاحب کا حالیہ بیان کہ دس برس قبل ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر حملے ، پاکستان نے کروائے تھے جس میں 150ہندوستانی مارے گئے تھے۔کل پرسوں سے میڈیا پر اس موضوع کی خاصی چھان پھٹک کی جا رہی ہے۔

ان داخلی خطرات و خدشات کے بعد اگر خارج میں دیکھیں تو صورتِ حال اور بھی گھمبیر ہے۔ افغانستان میں صبح و شام دھماکے ہو رہے ہیں اور سینکڑوں لوگ ہلاک کئے جا رہے ہیں۔۔۔ امریکہ نے ایران سے وہ معاہدہ ختم کر دیا ہے جس کی رو سے اوباما نے اس پر سے پابندیاں ہٹالی تھیں۔ اب وہ پابندیاں دوبارہ لگا دی گئی ہیں۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ وغیرہ نے اگرچہ امریکہ کا ساتھ نہیں دیا لیکن وہ تو جنم جنم کے امریکی پتنگ کے دم چھلّے ہیں، آج نہیں تو کل وہ بھی معاہدے سے نکل جائیں گے۔۔۔ جس روز امریکہ نے ایران سے معاہدہ ختم کیا(گزشتہ منگل وار)اس کے چند ہی گھنٹے بعد اسرائیل نے شام میں ایرانی سپاہ کی پاکٹوں پر شدید بمباری کی۔

امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بالکل ترک کر دے۔ اپنی تمام جوہری تنصیبات کو IAEA کی چیکنگ کے لئے کھول دے، تمام زیر زمین یا بالائے زمین تعمیر شدہ جوہری کارخانے مسمار کر دے، میزائل سازی روک دے اور ہر قسم کے مسلح ڈرون بھی بنانے بند کر دے۔

اس کے لئے کچھ ماہ کی مدت دی گئی ہے لیکن کیا ایران ایسا کرنے پر راضی ہو گا؟۔۔۔ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہوگا اور یہی کچھ امریکہ چاہے گا کہ اس کو ایران پر فوج کشی کا بہانہ مل جائے۔ وہ ایران کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتا ہے۔ یہ موضوع گلوبل میڈیا پر آج کل طویل بحث و مباحثہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مغربی قوتوں کا اگلا ہدف نیو کلیئر پاکستان ہوگا۔۔۔ آرمی چیف نے گزشتہ ماہ پاکستان کے خلاف جس ہائی برڈ (Hybrid) وار کا ذکر کیا تھاوہ شروع ہو چکی ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے کنگال کرنا ہے اور دوسرا مرحلہ اندرونی صورتِ حال میں انتشار و اضطراب کی وہ کیفیت پیدا کرنا ہے جو ملک کی یکجہتی اور یک خیالی کو توڑ پھوڑ دے اور خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا ہو جائے۔

جس ملک کی آبادی (قوم) اس کی فوج کے ساتھ نہ ہو، وہ فوج جنگ نہیں لڑ سکتی۔ اس کا تجربہ ہمیں 1971ء کی جنگ میں بخوبی ہو چکا ہے۔ انڈیا، امریکہ اور اس کے دوسرے حواری نیوکلیئر پاکستان کے ساتھ وہی کچھ دہرانا چاہتے ہیں۔

ہمارے ساتھ چین ضرور ہے اور روس کی طرف سے بھی کئی مثبت اشارے مل رہے ہیں لیکن ان دونوں قوتوں کی طرف سے اب تک کوئی ایسا ٹھوس بیان سامنے نہیں آیا جو کھل کر پاکستان کے حق میں ہو۔ چینی بیانات اگرچہ حوصلہ افزاء ہیں لیکن ان کو عملی جامہ پہنانے کے وہ شواہد جو زمین پر نظر آنے چاہئیں، وہ ابھی تک ناپید ہیں۔

مجھے معلوم نہیں ہمارے آرمی چیف نے حال ہی میں روس کا جو دورہ کیا تھا اور وہاں روس کے آرمی چیف سے جو ملاقات کی تھی اس میں کس طرح کے سٹرٹیجک مضمرات ڈسکس کئے گئے تھے اور ان کو بروئے عمل لانے کے لئے زمان و مکان (Time and Space) کی کون کون سی امدادی حدود طے کی گئی تھیں۔

پاکستان ایک جوہری اور میزائلی قوت ضرور ہے لیکن ہم باہمی خودکشی کی آپشن تو نہیں اپناسکتے۔ عوام کو بھی تو کچھ نہ کچھمعلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے چین اور روس سے جو خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں (اگر کر رکھے ہیں) ان کی SOPs کیا ہیں اور کیا ان کی خبر امریکہ اور انڈیا کو بھی کر دی گئی ہے یا نہیں کیونکہ مستقبل میں پاکستان کو جس کولیشن سے سابقہ پڑے گا اس میں امریکہ اور انڈیا پیش پیش ہوں گے۔

اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جنرل ہیڈکوارٹر نے کیا اقدامات کئے ہوئے ہیں، ان کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ ایسے اقدامات (Plans) کو ظاہر بھی نہیں کیا جاتا کہ یہ ریاستی راز ہوتے ہیں اور کوئی بھی سابق (یا موجودہ) آرمی چیف یا چیف ایگزیکٹو ان رازوں کو افشا کرنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔

یہ شرف البتہ ہمارے ایک سابق چیف ایگزیکٹو کو حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے سینے میں پوشیدہ ان ریاستی رازوں میں سے ایک راز کو بے نقاب کرکے پہل کر دی ہے۔

سارا پاکستان ہی نہیں، ساری دنیا حیران ہے کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ذاتی دشمنی کو قومی مفاد پر مقدم سمجھ لیا جائے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ’’افشائے راز‘‘ کی اورکئی پرتیں بھی آہستہ آہستہ کھلیں گی۔

یہ ایک پرت نہیں بلکہ اس سے کہیں اہم اور نازک پرتوں کا ایک بڑا دفینہ ہوتا ہے جو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے سینے میں چھپا رہتا ہے اور باہر نہیں نکلتا ۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہوگا جس کا تین مرتبہ کا وزیراعظم اس حد تک چلا گیا ہے جس تک نوازشریف صاحب جانے کے سفر کا آغاز کر چکے ہیں!۔۔۔

کل قومی سلامتی کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اس میں سابق وزیراعظم کے انٹرویو کو مشترکہ طور پر مسترد کر دیا گیا۔ پاکستان نے بارہا بھارت سے اس کیس میں تعاون مانگا تھا جسے بھارتی حکام نے فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔اب اس کیس کا ایک دوسرا پہلو بھی پاکستان کے باسیوں کے ذہن نشین ہونا چاہیے۔۔۔ نومبر دسمبر 1971ء کی جنگ میں کسی بھارتی وزیر یا وزیراعظم نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ اس جنگ کی پلاننگ میں بھارت شریک جرم تھا۔ لیکن کئی برس بعد بھارتی وزراعظم نریندرا مودی نے برملا تسلیم کیا کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والا اور اس کی تمام پلاننگ کرنے والا بھارت ہی تھا!

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...