اینٹی کرپشن میں تفتیشی افسران کی کمی ، مقدمات لٹک گئے ، سائل پریشان

اینٹی کرپشن میں تفتیشی افسران کی کمی ، مقدمات لٹک گئے ، سائل پریشان

لاہور (اپنے نمائندے سے) محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں انوسٹی گیشن افسروں کی کمی اور زیر التواء کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے محکمہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسروں کی کارکردگی جہاں بری طرح متاثر کی ہے وہاں انصاف کے حصول کے لئے آنیوالے شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ ریونیو، پولیس، ایل ڈی اے، اوقاف، ایجوکیشن، آبپاشی، ہیلتھ، ٹاؤنوں سمیت دیگر محکموں کے افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف ہزاروں کیس زیر سماعت ہیں اس کے علاوہ کئی سو مقدمات بھی درج کئے جا چکے ہیں مگر اس کے باوجود ان اداروں سے کرپشن کا خاتمہ ہونے کی بجائے ان میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ انکوائری نمبر426/16ایک عرصہ سے التوا کا شکار ہے جوکہ ڈپٹی ڈائریکٹرمحمد نواز گوندل کے پاس زیر سماعت ہے یہ اپنی نوعیت کا وہ خاص کیس ہے جس پر کارروائی کا مطالبہ خود وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی کیا ہوا ہے، 2004میں اے او ایس کمپنی نے ایک سافٹ وئیر خریدا ، کمپیوٹر سامان اور دیگر آلات کی خریداری کی مد میں کروڑوں روپے کا غبن ہوا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انکوائری ڈپٹی ڈائریکٹر لاہور ریجن کے آفس میں ردی کا ڈھیر بنادی گئی ہے۔ اس طرح پٹواریوں کی تعلیمی اسناد اور پٹوار اسناد کی تصدیق کیلئے بھی گزشتہ3سال سے انکوائری نمبر358/16ڈپٹی ڈائریکٹر لاہورریجن کے آفس میں التوا کا شکار ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو ریکارڈ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کے دفتر سے محکمہ اینٹی کرپشن کو وصول کروایا گیا وہ بھی غائب کروادیا گیا جس سے یہ بات بھی عیاں ہورہی ہے کہ ملزمان کا بھرپور تحفظ کیا جارہاہے ۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ مقدمہ نمبر106/17میں نکاح خواں سمیت پانچ ملزمان کے خلاف ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کی ہدایت پر جوڈیشل ایکشن کی منظوری ہوئی اور اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے سٹاف نے ملزمان کو پکڑنے کی بجائے ان کو جوڈیشل ایکشن سمیت تمام فائل کے کاغذات فراہم کرتے ہوئے ان کی ضمانتیں بھی کروائیں جس سے یہ تاثر عام ہوچکا ہے کہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے انویسٹی گیشن افسران ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے اور سائلین کو خوار کرنے میں مصروف ہیں۔شہریوں کی بڑی تعداد نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور ریجن میں ایسے افسران بھی ہیں جن کو ٹیکنیکل الزامات پر عبور نہیں ہے جس کی وجہ سے انکوائریوں کو تاخیر کا شکار کردیا گیا ہے اور ہمارے کیسز میں صحیح طریقے سے قانونی رائے بھی نہیں دے پارہے جس کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن کے انویسٹی گیشن افسران کا کہنا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ سائلین کی داد رسی کی جائے اس کے باوجود اگر کوئی شہری شکایت کرتا ہے تو اس کی مرضی ہے عدالتوں میں ریکارڈ بھی پیش کرنا ہوتا ہے افسران کی میٹنگوں میں بھی جانا ہوتا ہے اوردیگر بنیادی ذمہ داریاں بھی کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

اینٹی کرپشن

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...