رواں سال ، ڈکیتی ، راہزنی جیسے سنگین واقعات کے 1106مقدمات درج ہی نہ ہو سکے

رواں سال ، ڈکیتی ، راہزنی جیسے سنگین واقعات کے 1106مقدمات درج ہی نہ ہو سکے

لاہور(لیاقت کھرل) تھانوں میں فرنٹ ڈیسکوں پر شکایات درج کروانے اور بار بار چکر لگانے کے باوجود لاہور پولیس نے رواں سال کے دوران 1106ڈکیتی جیسے سنگین واقعات کی درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جبکہ 2590 سنگین واقعات میں پولیس کی تفتیش ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ تفصیلات کے مطابق تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کرنے کا بھی شہریوں کو فائدہ نہیں ہو سکا ہے، پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے دوران شہریوں کے ساتھ ڈکیتی اور راہزنی جیسے 3696 واقعات پیش آئے، جس میں 1106 تھانوں میں قائم فرنٹ ڈیسکوں اور تھانیداروں کے پاس چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس ان شہریوں کی درخواستوں پر مقدمات درج نہیں کر رہی ہے اسی طرح پولیس نے رواں سال کے دوران آنے والے 2590 سنگین واقعات کے مقدمات تو رجسٹرڈ کر لئے جس میں 7شہریوں کو ڈکیتی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے قتل کر کے لاکھوں روپے کے زیورات اور نقدی سے محروم کیا۔ جس میں سے پولیس کسی ایک سنگین واقعہ میں بھی ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ اسی طرح 890 شہریوں سے ڈاکوؤں نے شاہراؤں اور گھروں کی دہلیز پر لاکھوں روپے کی لوٹ مار کی جس میں 101شہریوں کو ڈاکوؤں نے مزاحمت پر زخمی کیا، ل 2018 شروع ہوتے ہی گاڑیاں چھیننے اور چوری ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا جبکہ ڈاکوؤں نے رواں سال کے 4ماہ 14دنوں میں 301 شہریوں کو گن پوائنٹ پر 2017ء اور 2018ء ماڈل کی موٹر سائیکلوں سے محروم کیا۔سا۔پولیس نے 102واقعات کے مقدمات رجسٹرڈ کئے اور ایک سو سے زائد شہری تھانوں اور پولیس افسران کے پاس چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس محض دس واقعات میں ڈاکوؤں تک رسائی حاصل کر سکی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے دوران 1491شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیوں سے محروم کیا گیا، جس میں 190گاڑیوں کے واقعات گن پوائنٹ پر چھیننے کے پیش آئے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق قتل اور اقدام قتل سمیت غیرت پر خواتین اور بچوں کو اغواء کر کے قتل کرنے کے واقعات بھی گزشتہ سال 2017ء کے پہلے چار ماہ کی نسبت رواں سال میں زیادہ رونما ہوئے ہیں اور گزشتہ سال کے ان چار ماہ کی نسبت رواں سال میں سنگین کرائم کا گراف بڑھا ہے اور اس میں ڈولفن سکواڈ اور پیرو فورس کے گشت کے باوجود سنگین واقعات میں تیزی رہی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر مسعود یاسین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران متعدد ڈاکوؤں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور اس میں اہلکار ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات کم ہوئے ہیں تاہم ڈکیتی اور راہزنی جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس گشت سخت کرنے کا حکم دے دیا دیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...