فون لینے کیلئے بڑھنے والا ہاتھ گولی اور سینے کے درمیان ڈھال بن گیا

فون لینے کیلئے بڑھنے والا ہاتھ گولی اور سینے کے درمیان ڈھال بن گیا

لاہور (ایثار رانا سے)سروسز ہسپتال کے داکٹروں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کی حالت تسلی بخش قراردے کر انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال سے گزشتہ روز بھی اہم شخصیات کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ملاقات کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن بھی شامل تھے۔جے آئی ٹی ارکان نے بھی وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے وقوعہ کے حوالے سے بات چیت کی۔ احسن اقبال نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قاتلانہ حملے سے چند لمحے قبل ان کو ایک سپورٹر کا ٹیلی فون آیا، جسے انہوں نے اپنے پاس کھڑے ایک ساتھی کے حوالے کردیا ۔اسی دوران جب ساتھی نے فون واپس کرنا چاہا اور انہوں نے موبائل لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو ملزم عابد حسین نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اللہ کی کرم نوازی سے فون لینے کیلئے آگے بڑھنے والا ہاتھ گولی اور ان کے سینے کے درمیان آگیا اور گولی ان کی کہنی میں جا لگی۔ کہنی میں گولی لگنے کی وجہ سے ایک بڑا نقصان ٹل گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اگر کہنی گولی کے سامنے نہ آتی تو سینے پر لگ سکتی تھی، جس سے بڑے نقصان کا اندیشہ پیدا ہو جاتا۔

احسن اقبال/انٹرویو

مزید : صفحہ آخر