پاکستان اب جھوٹ منافقت کے ساتھ نہیں چل سکتا ، نواز شریف سچ کہتے رہیں گے : رانا ثنا ء اللہ

پاکستان اب جھوٹ منافقت کے ساتھ نہیں چل سکتا ، نواز شریف سچ کہتے رہیں گے : رانا ...

فیصل آباد228لاہور(سٹاف رپورٹر228کامرس رپورٹر) صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمارا جزو ایمان ہے جس پر یقین نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا ۔حضرت محمدؐ کے آخری نبیؐ ہونے پرمیرا پختہ ایمان ہے لیکن بعض عناصر نے دنیاوی اور سیاسی مفادات کی خاطر اس اہم عقیدے کو استعمال کیا اور انہیں خفت کے سوا کچھ نہیں ملا۔انہوں نے یہ بات مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سرکردہ علما ئے کرام ومذہبی رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر ایم پی اے چو دھری ظفر اقبال ناگرا،مولانا عبدالرشید حجازی،پروفیسر نجیب اللہ طارق،قاری حنیف بھٹی،محمد عمرفاروق،خالد محمود اعظم آبادی،حبیب الرحمن،طارق عباس،قاری ارشد،محمد سعید انصاری،ڈاکٹر عبدالرحمن،طارق عباس،قاری ارشد،محمدسعید انصاری،ڈاکٹر عبدالرحمن،پروفیسر محمد طاہر صدیقی،مولانا محمد امین،محمد ادریس سلفی،محمد ےٰسین ودیگر موجود تھے۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے اشاعت دین کے سلسلے میں علما ئے کرام کی گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے کا معتبر اورمعزز طبقہ ہیں جن کی رہنمائی ومشاورت سے سماجی امن،مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی فضاء کو قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی معاونت کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے علامہ ساجد میرکی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متاثر کن شخصیت کے مالک اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حلیف جماعت کے سربراہ ہیں جن کی دعائیں اور حمایت قابل قدر ہے۔انہوں نے حلقہ این اے 106کے آئندہ الیکشن میں بھرپورحمایت کے اعلان پر مرکزی جمعیت اہل حدیث کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثنا رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ارادہ کرلیا ہے کہ وہ صرف سچ کہیں گے، ان کے سچ میں ہی قوم کی بقا ہے، پاکستان اب جھوٹ اور منافقت کے ساتھ نہیں چل سکتا، قربانیوں کی بنیاد پر جو صلہ ملنا چاہیے وہ نہیں مل رہا، نواز شریف نے اسی دکھ کا اظہار کیا، نواز شریف کی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا جا رہا ہے ، بیان توڑ مروڑ کر پیش کر کے انکی ساکھ پر تیسراحملہ کیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے جو بیان دیا اس میں کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی لوگ اس قسم کے بیانات دیتے آئے ہیں، ممبئی حملوں کے بعد یہی بات اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی کی تھی،رحمان ملک نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد سات لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ محمد علی درانی نے تو تنظیم کا بھی نام لیا تھا۔ممبئی حملوں کے مقدمے پر ایف آئی اے نے تحقیقات کی، بیان پر کچھ نادان دوستوں نے میاں صاحب کا ٹرائل شروع کردیا ہے۔نوازشریف کی بات کا بتنگڑ بنایا جارہاہے، بیان پر صرف نوازشریف کی ذات کو ہدف تنقید بنایاجارہاہے، نوازشریف کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ٹارگٹ کرکے پاکستان کی نیک نامی نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچایا گیا۔ نواز شریف کی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنایا جا رہا ہے لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے ان کی مقبولیت کم نہیں ہو گی۔ نواز شریف پر جتنی بھی تنقید کی جائے ان کی شہرت بڑھتی ہے، 22کروڑ عوام نواز شریف کو محبِ وطن سمجھتے ہیں اور نواز شریف پاکستان کیساتھ کھڑا ہے لیکن پرویز مشرف پرغداری کا مقدمہ ہے جو باہر بیٹھا ہوا ہے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔جو تماشے 70سال سے ہوتے آئے ہیں، اب وہ برداشت نہیں کریں گے، نوازشریف ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، صرف سچ کہیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے نواز شریف کے بیان کی تردید نہیں کی، شہباز شریف نے کہا نوازشریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق بیان بھی غلط پیش کیا گیا۔ نواز شریف کی ساکھ پر تیسراحملہ کیا گیا ہے،نیب کا اعلامیہ بھی میاں صاحب کی ساکھ کونقصان پہنچانا تھا۔ الیکشن قریب ہے اور نوازشریف کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، نوازشریف نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ، الیکشن کے قریب آتے ہی کچھ لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، انٹرویو نواز شریف یا (ن) لیگ نے تو نہیں جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف جب سچ بولیں گے، عوام کو اعتماد میں لیں گے، نوازشریف نے جو بات کی وہ قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کوڈائریکشن آرہی ہیں اور آتی رہی ہیں، میڈیا کو بتایا جاتا ہے کس کا بیپر لینا ہے اور کس کا نہیں، کچھ دن پہلے ایک چینل بند ہوا اور دوبارہ کیسے کھلا سب کو پتہ ہے، یہ کوئی بات نہیں جو نواز شریف نے کی، اس مقدمے کا فیصلہ ہوناچاہیے، جو ذمہ دار ہیں سزا ملنی چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر