آرٹیکل چھ کے مقدمے میں ماخوز جنرل پرویز مشرف پہلے اپنے مقدمے کا سامنا کریں

آرٹیکل چھ کے مقدمے میں ماخوز جنرل پرویز مشرف پہلے اپنے مقدمے کا سامنا کریں

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا تو ہمارا دیرینہ مشغلہ ہے، جس طرح بعض جعلی یونیورسٹیاں جعلی اسناد بیچ کر مال بناتی ہیں، اسی طرح غداری کے سرٹیفکیٹوں سے بھی کچھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں جن ذات شریف پر آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ اس میں مفرور ہیں، وہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ یہ بات تو کوئی سینئر قانون دان ہی بتا سکتا ہے کہ آرٹیکل چھ کن حالات میں اور کس پر لگتا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف پر تو یہ مقدمہ ایمرجنسی لگانے پر بنایا گیا جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو برطرف کرکے اپنی پسند کی سپریم کورٹ بنا دی۔ اس کا سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بنایا گیا جس کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ ان کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ کبھی اس اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس نہیں رہے۔ جنرل پرویز مشرف نے آئین توڑنے کی سعادت دو مرتبہ حاصل کی اور جب ان پر آرٹیکل چھ کا مقدمہ بنا تو وہ موقع پاتے ہی بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک چلے گئے۔ اس کے بعد آج تک واپس نہیں آئے۔ نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرنے سے پہلے اتنا تو ہونا چاہئے کہ پہلے وہ خود واپس آکر اپنے خلاف مقدمے کا سامنا کریں اور پھر یہ مطالبہ کریں، ویسے یہ مطالبہ کرنے والے تو اور بھی بہت سے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے خلاف یہ مقدمہ قائم ہو جو جنرل پرویز مشرف کے خلاف ہے۔

آرٹیکل چھ پہلی مرتبہ 73ء کے آئین میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کے تحت طاقت کے زور پر آئین توڑنا یا آئین توڑنے کی کوشش یا اس میں معاونت کرنا سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے جنرل ضیاء الحق نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا تھا اور آئین منجمد کرکے رکھ دیا تھا، اس کے باوجود ان کے بعد آنے والی کسی حکومت نے ان کے خلاف اس آرٹیکل کے تحت مقدمہ قائم نہیں کیا تھا، اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ بطور صدر اور آرمی چیف ہوائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اس کی دلچسپ تفصیلات انہوں نے اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں بیان کی ہیں۔

نواز شریف پر بطور وزیراعظم ان کے طیارے کو جس میں وہ سری لنکا سے کراچی آرہے تھے، اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، اس کی تفصیلات بھی سول ایوی ایشن کے سابق سربراہ چودھری محمد امین نے اپنی کتاب ’’ہائی جیکنگ فرام دی گراؤنڈ‘‘ میں بیان کی ہیں۔ اس طیارے کے اغوا پر نواز شریف کو خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد وہ کچھ عرصہ جیل میں رہے اور بعدازاں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی مداخلت پر انہیں خاندان کے دوسرے افراد سمیت سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کا موقف ہے کہ نواز شریف نے شاہ عبداللہ کے ترلے کئے تھے، پرویز مشرف شاہ عبداللہ کو اپنا بڑا بھائی کہتے ہیں، اس لئے ان کا حکم یا اپیل ٹال نہ سکے۔ ویسے یہ بات دلچسپ ہے کہ اس جلاوطنی کا فائدہ اگر نواز شریف نے اٹھایا تو پرویز مشرف بھی اس کی برکات سے مستفید ہوئے، کیونکہ شاہ عبداللہ نے ان کے اکاؤنٹ میں ایک خطیر رقم بھیجی، غالباً یہ ان کی بات ماننے کا برادرانہ صلہ تھا، کیونکہ عرب کلچر میں اگر آپ کسی بادشاہ کی بات مانتے ہیں تو وہ جواب میں بادشاہوں جیسا سلوک ہی کرتا ہے۔ اگرچہ پرویز مشرف نواز شریف پر احسان تو چڑھاتے ہیں، لیکن اس احسان کا تذکرہ زیادہ نہیں کرتے، جو شاہ عبداللہ نے ان کی ذات پر کیا۔ ایک بار انہوں نے البتہ یہ ضرور کہا تھا کہ شاہ عبداللہ ان کے بڑے بھائی ہیں، اس لئے وہ اس رقم کو لینے سے انکار نہ کرسکے، جو انہوں نے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں بھیج دی۔ نواز شریف نے اب جو کچھ کہا ہے اس کا جواب اور وضاحت تو ان کے ذمے ہیں، لیکن بعض دلچسپ مطالبے بھی سامنے آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف سے استعفا مانگا جا رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ اعتراض تو نواز شریف کے انٹرویو پر ہے اور استعفا وزیراعظم سے مانگا جا رہا ہے، شاید اس لئے کہ وہ نواز شریف کو ’’میرا وزیراعظم‘‘ کیوں کہتے ہیں۔ ویسے اگر پرویز مشرف واپس آکر نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ قائم کرنے کا مقدمہ لڑیں تو شاید انہیں کامیابی ہو، البتہ اس میں دو رسک ہیں، ایک تو یہ ہے کہ پہلے انہیں خود واپس آنا پڑے گا اور جونہی وہ پاک سرزمین پر قدم رنجہ فرمائیں گے، ان کے خلاف قائم مقدمہ حرکت میں آجائے گا۔ دوسرا رسک یہ ہے کہ آرٹیکل چھ کا اطلاق طاقت کے ذریعے آئین توڑنے یا اس کی کوشش پر ہوتا ہے، اس آرٹیکل کا کوئی دوسرا مصرف بھی ہے، اس پر بھی وہ اپنے وکیلوں سے مشورہ کرلیں۔

آرٹیکل چھ

مزید : صفحہ اول /تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...