وزیر اعظم کی پریس کانفرنس پی ٹی وی سے بلیک آؤٹ ’’واضح پیغام‘‘ کنفیوژن بڑھ گئی

وزیر اعظم کی پریس کانفرنس پی ٹی وی سے بلیک آؤٹ ’’واضح پیغام‘‘ کنفیوژن بڑھ ...
وزیر اعظم کی پریس کانفرنس پی ٹی وی سے بلیک آؤٹ ’’واضح پیغام‘‘ کنفیوژن بڑھ گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد تجزیہ سہیل چوہدری

ڈان لیکس کا تلاطم ابھی کچھ عرصہ قبل ہی خدا خدا کرکے تھما تھا ، پھر اس پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کا تنازعہ پیدا ہوا ، بالآخر ٹویٹ تو واپس ہوگئی لیکن اس کے آفٹر شاکس میں سینیٹر پرویز رشید کو وزارت اطلاعات اور مشیر خارجہ طارق فا طمی دونوں کو اپنے اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑے ، جبکہ اس وقت کے پی آئی او راؤ تحسین ہنوز گرداب میں ہیں ، بلکہ سازشی تھیوریاں گھڑ نیوالے نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی بھی اس سے جوڑتے ہیں ، تاہم اب جب حکومت اور اسمبلیوں کی آئینی مدت کی تکمیل میں چند ہی دن باقی رہ گئے تھے ، تو ڈان لیکس میں بطور صحافی مرکزی کردار ادا کرنیوالے سیریل المیڈا کا سابق وزیراعظم نوازشریف کا ایک ’’ ا یکسلیوژیو ‘‘انٹرویو ڈان میں 12مئی کو شائع ہوا جس نے الزامات کا ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے ، ڈان لیکس سے سول ملٹری تعلقات میں انتہائی بگاڑ پیدا ہوا اور اب دوبارہ بھی اسی صحافی اور اسی انگریزی اخبار نے نوازشریف کا متنازعہ انٹر ویو کیا جس کے نتیجے میں ایک ایسا تنا زعہ پیدا ہوا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں کے در وبام کانپ رہے ہیں دارالحکومت پر نزع کی سی کیفیت طاری ہے ، جبکہ 3بار وزیر ا عظم رہنے والے نوازشریف کے انٹرویو کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے گزشتہ روز سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا اورایک پریس ریلیز جار ی کی گئی جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کیا گیا نہ ان کانام لیا گیا تاہم ممبئی حملوں سے متعلق بیان اور الزامات کو متفقہ طورپر مستر د کرتے ہوئے گمراہ کن قرار دیا گیا اس پریس ریلیز کے مطابق ڈان میں چھپنے والے انٹر ویو کے مواد کو نشانہ بنایا گیا ، جس کا مقصد شاید نوازشریف کو موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ اپنے انٹرویو کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سامنے آنیوالے موقف کی روشنی میں وضاحت کرسکیں، سلامتی کونسل کے بیان کو ایک دفعہ دیکھ کر یہ تاثر بنتا تھاکہ اگر نوازشریف نے اپنے انٹر ویو کے جزئیات کی تردید کردی تو شاید اس کا ساراملبہ ڈان اور صحافی سیرل المیڈا پر گرتا ، لیکن نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر انٹرویو میں اپنائے جانیو الے اپنے مو قف پر ڈٹ گئے بلکہ انہوں نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ انہوں نے کیا ایسی غلط بات کہہ دی ، جو اس سے پہلے بعض دیگر شخصیات نے نہیں کہی ، نوازشریف کے اس بیان نے جلتی پر تیل ڈال دیا ، بعد ازاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد منیر ہاؤ س میں نوازشریف سے ملے اور ایک پریس کانفرنس کی جس کے نتیجہ میں اس ایشوپر کنفیوژن مزید بڑھ گئی ،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پر یس کانفرنس میں ایک طرف نوازشریف کے انٹرویو کے مندرجات کو تروڑ مروڑ کر شائع کرنے کا الزام لگایا تو دوسری طرف یہ بھی کہا وہ نوا ز شریف اور پارٹی کیساتھ کھڑے ہیں اور نوازشریف کی جانب سے اپنے انٹرویو کی خود وضاحت کرنے پر ان کے پاس جواب نہیں تھا ، سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم شائد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو پی ٹی وی سمیت الیکٹرانک میڈیا نے کورنہیں کیا ، وزیراعظم شاہد خا قان عباسی کی پریس کانفرنس کو ریاستی چینل پی ٹی وی سمیت تمام الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے بلیک آوٹ کرنے پر مختلف حلقوں بالخصوص سفارتی حلقوں میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی رہیں، دارالحکومت میں گزشتہ روز تمام دن جاری رہنے والی مذکورہ سرگرمیوں کے نتیجہ میں بے یقینی کے سائے بڑھ گئے ہیں اور فوری طورپر ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کے امکانات نظر آرہے ہیں ،بالخصوص یہ صورتحال عالمی سیاست اور خطہ کے حالات کے تناظر میں گھمبیر صورتحال اختیار کرسکتی ہے ۔ایسا لگتا ہے نااہل وزیراعظم نوازشریف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے مفاہمتی رویہ کے برعکس مزاحمت کی پالیسی جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اب ان کے رویہ میں بھی شدت آتی جا ر ہی ہے ، جبکہ نوازشریف کے ناقد تمام حلقے انہیں اس انٹرویو کے نتیجہ میں غدار بنانے پر تلے ہوئے ہیں ، لگتاہے حکومتی مدت کی تکمیل کے قر یب ملک میں جاری محاذ آرائی عروج کو چھونے لگی ہے ، نوازشریف کے اس رویہ کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اور خود ان کے بھائی کیلئے بھی مشکل صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے، دریں اثنا ء نوازشریف نے ایک کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم فوری طورپر ایسے کسی کمیشن کا قیام خارج از امکان نظر آتا ہے ، پاکستان کی سیاست ایک مشکل اور پیچیدہ صورتحال سے نبردآزماہے ۔

تجزیہ سہیل چوہدری

مزید : صفحہ اول /تجزیہ