رمضان کا مہینہ اور خواتین 

رمضان کا مہینہ اور خواتین 

رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو رہا ہے۔ برسوں کی طویل گردش کے بعد روزے بھرپور گرمیوں میں وارد ہوئے ہیں۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ گرمیوں کے یہ ایام بہت حد تک خشک ہوں گے اور ان میں نمی یا مرطوبیت معتدل حد سے تجاوز نہیں کرے گی۔ البتہ پسینہ جلد خشک ہو گا اور پیاس کے ستانے کا احتمال رہے گا، اگر دھوپ میں بلاضرورت باہر نکلنے کا ارادہ باندھا جائے۔ سحری اور افطار کے وقت ٹھوس غذا کا استعمال کم اور مشروبات پر زور زیادہ ہوگا۔ گرمیوں میں روزوں کا دورانیہ ظاہر ہے طویل ہوتا ہے اس لئے روزمرہ کے اوقاتِ کار میں اسی لحاظ سے مناسب تبدیلی لانا ہوگی۔

رمضان کے مہینے میں خواتین کی مصروفیات اور مسائل یقیناً بڑھ جاتے ہیں۔ اس بار ان کے کام کاج میں اضافی اس لئے بھی ہوگا کہ بچوں کو گرمیوں کی تعطیلات بھی انہی ایام میں ہو رہی ہیں۔ یوں خواتین کا دن تہجد کے وقت سے شروع ہوگا اور تراویح کے اختتام تک انہیں آرام سے بیٹھنے نہیں دے گا۔ تاہم مجھے فخر ہے اپنی خواتین پر جو حقیقی معنوں میں صابر اور شاکر ہیں اور اپنے فرائض کی انجام دہی سے پہلو نہیں بچاتیں۔

ماہ رمضان فضائل اور برکتوں کا مہینہ ہے۔یہ تحفہ ہے رب کریم کی جانب سے جو موقع فراہم کرتا ہے اپنے بندوں کو کہ وہ اپنا دامن نیکیوں سے بھریں اور آنے والی زندگی کے لئے زیادہ سے زیادہ زادِ راہ اکٹھا کریں۔ اس مہینے میں جس وصف پر زور سب سے زیادہ ہے وہ ہے صبر۔ انسانی فطرت میں صبر امن و سکون کی ٹھنڈک اور امید کی روشنی بھر دیتا ہے۔ روزہ انسان کے اندر حِلم پیدا کرتا ہے اور عجلت کے مرض سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں میں اپنے روزمرہ کے امور کو ایک نئی ترتیب دیتی ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو زیادہ سے زیادہ وقت تک عبادت میں مصروف رکھوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سحری اور افطاری کے اہتمام میں اہل خانہ کی ضرورتوں کا بطور خاص خیال رکھتی ہوں۔ میری بہنیں میری اس سوچ سے یقیناًاتفاق کریں گی۔ انہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی صحت اور آرام کا خیال ضرور رکھیں۔ یہ مہینہ جس میں روزے وار ہو رہے ہیں قدرے سخت موسم کا مہینہ ہے۔ بے شک وہ مصروف رہیں اور کام کاج کریں لیکن اپنی صحت سے بے اعتنائی نہ برتیں۔

گرمیوں کے موسم میں ماہ رمضان میں سحری اور افطار کے اپنے تقاضے ہیں اور خواتین پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ان ہر دو اوقات میں کھانے پینے کے بارے میں ہر اس احتیاط کو ملحوظِ خاطر رکھیں جو بزرگوں نے اپنے تجربے سے بیان کیں ہے۔ اس موسم میں بھاری اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کیا جائے اور ایسی خوراک کا اہتمام کیا جائے جو زود ہضم ہو اور پیاس سے دور رکھے۔ افطار کے وقت ایسی چیزوں کو دستر خوان کی زینت بنایا جائے جن میں نمک کا استعمال ہو تاکہ دن بھر میں نمکیاں کی کمی جو بدن میں واقع ہوئی ہو، اس کا مداوا ہو سکے۔ بچوں کے کھانے پینے میں خاصی احتیاط برتی جائے اور اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ بچے بسیار خوری کا شکار نہ ہوں۔ بچوں پر عبادات کے فوائد و ثمرات واضح کئے جائیں اور اس بات پر انہیں راغب کیا جائے کہ نماز کا اہتمام بالخصوص کریں۔یہ فضیلت ہے اس مہینے کی کہ نصیحت اگر صحیح طور پر کی جائے تو وہ زود اثر ہوتی ہے۔

خواتین اس مبارک مہینے میں اپنا خیال ضرور رکھیں۔ ان کے اوقاتِ کار اس مہینے میں چونکہ بڑھ جاتے ہیں اورآرام کا موقع انہیں کم نصیب ہوتا ہے اس لئے انہیں چاہیے کہ پورے مہینے کا نظام مرتب کرلیں۔ یوں باقاعدگی سے کام بھی بہ احسن و خوبی تمام ہوگا اور تھکاوٹ بھی کم ہوگی۔ خواتین نے چونکہ پورے گھر کا نظم و نسق چلانا ہے اس لئے اس مہینے میں ان کا صحت یاب رہنا ضروری ہے۔ وہ نہ صرف اپنا خیال رکھیں بلکہ سحری اور افطاری کے وقت اہل خانہ کے معمولات پر بھی نگاہ رکھیں۔ فارغ گھڑیوں میں آرام کریں اور عبادت کے وقت یکسوئی کے ساتھ خود کو عبادت کے لئے وقف کردیں۔ ماہِ رمضان اپنی برکتوں سے انسانی بدن کو نہ صرف فاسد مادوں سے نجات دلاتا ہے بلکہ انسانی روح کو تازگی اوربالیدگی بخشتا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ماہِ رمضان کی آمد پر دل جس طرح شاداں ہوتا ہے، اس مہینے کے اختتام پر اسی قدر غمزدہ اور رنجیدہ ہوتا ہے۔ تاہم اس مہینے کے دوران ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے ربِ کریم کو راضی کرنا ہے اور اس سے دعا مانگنی ہے کہ آنے والا ہر ماہِ رمضان اپنی برکتوں اور فضائل کے ساتھ ہم پر نازل ہو۔آمین!

مزید : ایڈیشن 1