طبعی موت یا قتل:26سالہ اطالوی نژاد ثنا چیمہ کی پراسرار ہلاکت 

طبعی موت یا قتل:26سالہ اطالوی نژاد ثنا چیمہ کی پراسرار ہلاکت 

گجرات کے علاقے منگوال میں پراسرار طور پر ہلاک ہونیوالی اطالوی نژاد پاکستانی خاتون کی ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اٹالین نیشنل لڑکی کی موت کو قتل قرار دیا جا رہا ہے انٹرنیشنل میڈیا میں خاتون کی ہلاکت پر تبصروں کا طوفان برپا ہے خاتون کی ہلاکت طبعی موت ہے یا اسے واقعی اسے قتل کیا گیا ہے اس امر کی تحقیقات کیلئے ابتدائی طور پر قبر کشائی کے بعد ثنا چیمہ کے جسم سے نمونہ جات حاصل کر کے فرانزک لیب بجھوائے گئے ہیں لیبارٹری رپورٹ کی روشنی میں اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے گا اطالوی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ 26سالہ ثنا چیمہ اٹلی میں شادی کرنے کی خواہش مند تھی تاہم اسکے گھر والے اسکی پسندی کے برعکس اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے تھے جس سے انکار کرنے پر اسے مبینہ طور پر اہل خانہ نے موت کے گھاٹ اتار دیا اور اسکی ہلاکت کو طبعی موت قرار دیکر سپرد خاک کر دیا گیاوالدین کا موقف ہے کہ ثنا چیمہ اکثر بیمار رہتی تھی اسے رات گئے معدے میں شدید درد ہوئی طبی امداد کیلئے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں دم توڑ گئی تاہم منگوال میں تین قبرستان ہونے کے باوجود کوٹ فتح قبرستان میں اسکی انتہائی عجلت میں تدفین نے خاتون کی موت کو مشکوک بنا دیا جہانزیب نذیر خان ڈی پی او گجرات نے ذرائع ابلاغ کی نشاندہی پر ابتدائی تحقیقات شروع کیں تو ثنا چیمہ کی ہلاکت سے تدفین تک کئی مراحل کو مشکوک قرار دیا اورقبر کشائی کرانے کا فیصلہ کیا علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں تھانہ کنجاہ کے علاقے میں واقع قبرستان کوٹ فتح میں موجود ثنا چیمہ کی قبرکشائی کی گئی اسکے جسم سے لیے گئے اجزا کو لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے لاہور بجھوا دیا گیا قبر کشائی کے موقع پر ڈاکٹروں کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھیپوسٹمارٹم کے موقع پر ڈاکٹروں کی چار رکنی ٹیم کی نمائندہ خاتون لیڈی ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی نعش تقریبا8یوم تک قبر میں رہنے کے باعث اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ اس پر کوئی ظاہری علامات دیکھنا ممکن نہیں تھا تاہم تجزیے کیلئے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کی رپورٹس کی روشنی میں موت کی اصل وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی ثنا چیمہ کے والد غلام مصطفی چیمہ ‘ چچا اور بھائی کو اس پولیس کی مدعیت میں مقدمہ میں ملزم ٹھہرایا گیا ہے تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری سامنے نہیں آئی 26سالہ ثنا چیمہ تقریبا 10برس کی عمر میں 2002میں پاکستا ن سے اٹلی منتقل ہو ئی اور وہیں کی ہو کر رہ گئی اپنے بہن بھائیوں میں وہ چوتھے نمبر پر تھی مقتولہ کے دو بھائی شادی شدہ اور جرمن میں مقیم جبکہ ایک شادی شدہ بہن پاکستان میں رہتی ہے ثنا چیمہ نے تعلیم اٹلی سے ہی حاصل کی مختلف علوم میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد اٹالین ڈرائیونگ سکول ‘ اور اٹالین لینگویج سکول چلاتی تھی مقتولہ کا والد غلام مصطفی جسے مقدمہ میں مرکزی ملزم ٹھہرایا گیا ہے بلدیاتی انتخابات میں آزاد حیثیت سے کونسلر منتخب ہو چکا ہے ‘ ڈی ایس پی عرفان الحق سلہریا کی نگرانی میں ایس ایچ او کنجاہ چوہدری وقار گجر اور ماہر تفتیشی آفیسر فرقان احمد اس اہم نوعیت کے مقدمے کی تفتیش کیلئے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں عرفان الحق سلہریا کا کہنا ہے کہ ثنا چیمہ کیس میں کسی بیگناہ کو ملوث کیا جائے گا نہ کسی گنہگار کو معافی ملے گی حقائق کو جلد سامنے لائیں گے لیبارٹری رپورٹس کے بغیر حتمی طور پر وثوق کیساتھ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ خاتون کی موت طبعی ہے یا اسے قتل کیا گیا ہے مگر انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مرزا نعیم الرحمان بیورو چیف گجرات 28.04.2018

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...