نواز شریف نے دل میقں چھپے ملک دشمن راز فشا کر دیئے ، ٹھکانہ جیل ۲ہے : شاہ محمود قریشی

نواز شریف نے دل میقں چھپے ملک دشمن راز فشا کر دیئے ، ٹھکانہ جیل ۲ہے : شاہ محمود ...

ملتان ( نیوز رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ملک دشمنی پر مبنی جو راز دل میں تھے وہ انہوں نے افشا کردیئے یہی وہ راز تھے جو وہ چھپائے ہوئے تھے ایسے نااہل شخص کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے قانون کے مطابق (بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

سزا دی جائے جس کی وجہ سے کروڑوں عوام کی دل آزاری ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف قانون دان وسیم ممتاز کی والدہ محترمہ کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد کارکنوں سے بات چیت میں کیا قبل ازیں مخدوم شاہ محمود قریشی نے مرحومہ کی وفات پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی طور پر دعا کی جبکہ اس موقع پر فہیم ممتاز ایڈووکیٹ، معروف سکالر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری بھی موجود تھے مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پوری قوم شریف خاندان کے بدنیتی پر مبنی چہروں کو پہچان چکی ہے حیران کن صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، میاں شہباز شریف اور ان کے درباری ملاں یہ واویلہ کررہے ہیں کہ ان کے بیان کو توڑ موڑ کر بیان کیا گیا لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ شریف خاندان کا اب ٹھکانہ جیل ہوگاجو نااہلی کے باوجود بھی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھ رہے ہیں۔دریں اثناء مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت آج (15مئی) کو پی ٹی آئی کے منشور کا اعلان کرینگے۔ اس منشور میں پہلے 100دن کا ایجنڈا قوم کے سامنے پیش کرینگے۔ اس منشور میں گڈگورننس کا نفاذ اور قوم کو بحرانوں سے نجات دلانے کا ایجنڈا شامل ہوگا۔ اگر تبدیلی لانی ہے تو قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ سے پیوستہ شب باب القریش ملتان میں ملتان کے قومی حلقہ این اے 156کے تحریک انصاف کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی ‘ حاجی جاوید اختر انصاری‘ اعجاز جنجوعہ‘ خالد جاوید وڑائچ ‘ عمر خان بابر ‘ ملک شاہد کھوکھر‘ الحاج مختیار انصاری‘ رانا عبدالجبار‘ عباس علی انصاری‘ اسلم سعید قریشی‘ ندیم قریشی ودیگر شخصیات موجود تھیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نواز شریف کے انٹرویو پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔ ممبئی حملے والے دن میں بطور وزیر خارجہ بھارت کے سرکاری دورے پر تھا اچانک حالات خراب ہوگئے۔ میرے پاس دو راستے تھے یا تو میں فوراً واپس چلا جاتا یا دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کا مقدمہ بھر پور انداز میں پیش کرتا مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ مجھے دشمن ملک کے وزیر خارجہ کے طو ر پر گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔ میں نے کٹھن راستہ چنا اور دہلی کی سر زمین پر بیٹھ کر شام 6 بجے پریس کانفرنس میں پاکستان کا موقف پیش کیا اور بھر پور انداز میں مقدمہ لڑا۔ میں دہلی کی سرزمین بیٹھ کر پاکستان کا دفاع کرسکتا ہوں تو نواز شریف پاکستان میں بیٹھ کر ملک کا دفاع کیوں نہیں کرسکتا۔ میں وزیراعظم عباسی سے سوال کرتا ہوں کہ وہ قوم کے سامنے فوری وضاحت پیش کریں کہ وہ نواز شریف کے بیان کے ساتھ کھڑے ہیں یا پاکستان کے مو قف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو وفاق کی علامت ہے اور فیڈریشن کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ پی پی رورل سندھ تک محدود ہو چکی ہے۔ ن لیگ پنجاب تک محدود ہو چکی ہے۔ پی پی پنجاب میں کہیں نظر نہیں آرہی۔ اے این پی خیبر پختونخوا تک محدود ہوچکی ہے۔ ہم فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرینگے۔ بلوچستان کی سورش سے نمٹیں گے۔ بلوچستان ‘ سندھ اورخیبر پختونخوا میں شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے۔پنجاب کا ایک حصہ محرومی کا شکار ہے۔ اللہ نے ہمیں موقع دیا اور اقتدار میں آئے تو بغیر کسی لسانیت اور تعصبیت کے گڈگورننس کے قیام اور انتظامی امور کیلئے جنوبی پنجاب پر مشتمل انتظامی یونٹ قائم کرینگے۔ جس سے یہاں کی محرومیاں ختم ہونگی اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے تخت لاہور کی طرف نہیں جانا پڑے گا۔ دوران تقریر مخدوم شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر عمران خان کو قائل کرنے میں انہیں 2سال لگ گئے۔ انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے وفاق کو مضبوط کرنے کیلئے صوبوں کے درمیان عدم توازن کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کے بطور وزیر خارجہ صدر زرداری کے حکم پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمیشن کے قیام کیلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملا ۔ اقوام متحدہ میں اس وقت کے مندوب منیر اکرم اس بات کے گواہ ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام ناقص ہے چیئرمین ‘ وائس چئرمین اور کونسلرز کو قانوناً جو اختیارات بنتے ہیں وہ بھی نہیں دیئے گئے۔ اگر اللہ نے موقع دیا اور پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دے کر مضبوط اور موثر بلدیاتی نظام بنایا جائیگا۔ انہو ں نے مزید کہا کہ میں قومی حلقہ این اے 156 سے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی ٹکٹ کیلئے درخواست دی ہے۔ ابھی تک اس حلقے سے کسی اور کی درخواست پی ٹی آئی کو موصول نہیں ہوئی ہے اس کے علاوہ ملتان کے صوبائی حلقہ 213‘216 اور 217 میں کسی ایک حلقے سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا خواہش مند ہوں۔ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔اگر پارٹی قیادت نے ٹکٹ دی تو حلقہ کے دوستوں کی مشاورت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرونگا۔ کیونکہ اگر میں اقتدار کا خواہش مند ہوتا تو وزارت ٹھکرا کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار نہ کرتا۔ میں نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے کیلئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔انہو ں نے کہا پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ میرٹ پر کرے گا۔ تاہم اگر کوئی قومی دولت لوٹنے والا ٹکٹ کا خواہش مند ہوا تو میں پارلیمانی بورڈ میں کھل کر مقابلہ کرونگا۔ چاہے اکیلا بھی رہ جاؤں۔ اگر قومی دولت لوٹنے والے لٹیرے پی ٹی آئی ٹکٹ کے مستحق ہو گئے تو نئے پاکستان کا اللہ حافظ ہے۔ انہوں نے کہا نئے پاکستان کی تکمیل کیلئے آخری حد تک لڑونگا۔

شاہ محمود

مزید : صفحہ اول /ملتان صفحہ آخر